Author: ilmati online

  • نوابشاہ ،قائدِ عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں داخلوں کے لیے کمپیوٹرائزڈ انٹری ٹیسٹ یونیورسٹی کی ماڈرن لائبریری میں منعقد کیا گیا

    نوابشاہ۔:قائدِ عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نواب شاہ میں سال 2026 کے بیچ میں داخلوں کے لیے کمپیوٹرائزڈ انٹری ٹیسٹ یونیورسٹی کی ماڈرن لائبریری میں منعقد کیا گیا۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سلیم رضا سمون نے بتایا کہ قائدِ عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نواب شاہ کے 25 شعبہ جات، جن میں 14 انجینئرنگ، 9 سائنس اور 2 ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹس شامل ہیں، میں داخلوں کے لیے کمپیوٹرائزڈ انٹری ٹیسٹ لیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ شعبہ جات میں داخلے کے لیے مجموعی طور پر 4 ہزار 66 امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائیں، جن میں سے 2 ہزار 509 درخواستیں منظور کی گئیں جبکہ مختلف وجوہات کی بنا پر 1 ہزار 557 درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔انہوں نے کہا کہ روزانہ دو اضلاع کے امیدواروں کے لیے دو شفٹوں میں انٹری ٹیسٹ لیا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ 17 جون تک جاری رہے گا۔وائس چانسلر نے مزید بتایا کہ کمپیوٹرائزڈ انٹری ٹیسٹ کی خاص بات یہ ہے کہ امیدوار جیسے ہی اپنا ٹیسٹ مکمل کرے گا، اس کا نتیجہ فوری طور پر اس کے سامنے آ جائے گا۔ کامیاب امیدوار اسی روز فیس جمع کرا سکیں گے، داخلہ حاصل کر سکیں گے اور انہیں اسی دن ہاسٹل رول نمبر بھی الاٹ کر دیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں مجموعی طور پر 1500 نشستیں موجود ہیں، جن کے لیے 1938 طالب علم اور 571 طالبات کمپیوٹرائزڈ انٹری ٹیسٹ دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انٹری ٹیسٹ میں کامیابی کے لیے کم از کم 40 نمبر حاصل کرنا ضروری ہیں

  • چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر کا دورہ ء کوئٹہ— اعلیٰ تعلیمی ترقی کے لیے اہم پیش رفت۔۔۔۔۔۔۔۔ایچ ای سی ریجنل سینٹر کی افتتاحی تقریب میں شرکت

    چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر کا دورہ ء کوئٹہ— اعلیٰ تعلیمی ترقی کے لیے اہم پیش رفت۔۔۔۔۔۔۔۔ایچ ای سی ریجنل سینٹر کی افتتاحی تقریب میں شرکت

    کوئٹہ میں چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اپنے دورۂ کوئٹہ کے دوران ایچ ای سی ریجنل سینٹر کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل بھی موجود تھے۔ ریجنل سینٹر کا قیام صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ، تعلیمی سہولیات تک بہتر رسائی، اور جامعات، طلبہ و محققین کو مؤثر ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنے کی سمت ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا ہے۔

    دورے کے دوران چیئرمین ایچ ای سی نے بلوچستان کی جامعات کے وائس چانسلرز سے بھی ملاقات کی، جس میں صوبے میں اعلیٰ تعلیم کی بہتری، درپیش چیلنجز اور مستقبل کی ترقیاتی حکمتِ عملی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    بعد ازاں چیئرمین نے بوئٹمزکا دورہ کیا، جہاں یونیورسٹی کی سینئر انتظامیہ کے ساتھ ملاقات میں بلوچستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے کردار، مواقع اور مسائل پر تبادلۂ خیال ہوا۔ اس موقع پر تعلیمی ترقی اور ادارہ جاتی بہتری کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔

    مزید برآں، کوئٹہ میں تعمیر نو ایجوکیشنل سسٹمکے دورے کے دوران چیئرمین نے طلبہ، اساتذہ، ماہرینِ تعلیم اور ادارہ جاتی قیادت سے ملاقات کی۔ انہوں نے ادارے کی معیاری تعلیم کے فروغ میں خدمات کو سراہا اور تعمیر نو یونیورسٹ کے قیام کے وژن کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایچ ای سی بلوچستان میں تعلیمی معیار، تحقیق، جدت اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے اپنا بھرپور کردار جاری رکھے گا۔

  • بامقصد چھٹیاں: والدین کے لیے عملی رہنمائی ………چھٹیاں صرف آرام نہیں، تربیت کا موقع بھی ہیں

    بامقصد چھٹیاں: والدین کے لیے عملی رہنمائی ………چھٹیاں صرف آرام نہیں، تربیت کا موقع بھی ہیں

    گرما کی چھٹیاں بچوں کے لیے خوشی، آرام، کھیل اور آزادی کا پیغام لے کر آتی ہیں۔ سال بھر اسکول، ہوم ورک، ٹیسٹ اور امتحانات کے بعد بچہ فطری طور پر کچھ دن سکون اور تفریح چاہتا ہے۔ یہ ضرورت درست بھی ہے اور بچے کی ذہنی تازگی کے لیے ضروری بھی، لیکن اگر چھٹیاں مکمل طور پر بے ترتیبی، دیر تک سونے، موبائل کے زیادہ استعمال اور پڑھائی سے مکمل دوری میں گزر جائیں تو یہ وقت بچے کی شخصیت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
    والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ چھٹیوں کو صرف اسکول سے فراغت کا زمانہ نہ سمجھیں، بلکہ اسے بچے کی تعلیم، تربیت، اخلاق، عادات اور شخصیت سازی کا قیمتی موقع سمجھیں۔

    چھٹیوں میں وہ کام آسانی سے کیے جا سکتے ہیں جن کے لیے عام تعلیمی دنوں میں وقت کم ملتا ہے۔
    بچے کو آرام بھی ملے اور مثبت مصروفیت بھی
    کھیل بھی ہو اور سیکھنے کا عمل بھی جاری رہے
    تفریح بھی ہو اور تربیت بھی ہو
    آزادی بھی ہو مگر حدود کے ساتھ
    روزانہ تھوڑا کام ہو مگر مستقل مزاجی کے ساتھ
    بامقصد چھٹیوں کا اصل مطلب
    بامقصد چھٹیوں کا مطلب یہ نہیں کہ بچے کو ہر وقت کتابوں، کاپیوں اور ہوم ورک میں مصروف رکھا جائے۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ بچے کو مکمل آزادی دے دی جائے کہ وہ جب چاہے سوئے، جب چاہے اٹھے، جتنا چاہے موبائل استعمال کرے اور دن بھر بے مقصد وقت گزارے۔ بامقصد چھٹیوں کا مطلب ایک متوازن معمول ہے جس میں آرام، کھیل، مطالعہ، دینی تربیت، اخلاقی عادات، گھریلو ذمہ داری اور تخلیقی سرگرمیاں مناسب انداز میں شامل ہوں۔
    بچے پر زیادہ بوجھ ڈالنے سے وہ پڑھائی سے بیزار ہو جاتا ہے، جبکہ مکمل آزادی اسے غیر منظم بنا دیتی ہے۔ اس لیے والدین کو درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہیے، جہاں بچہ خوشی کے ساتھ سیکھے اور بغیر دباؤ کے اچھی عادات اپنائے۔
    روزانہ بہت زیادہ کام کے بجائے تھوڑا مگر مستقل کام
    سختی کے بجائے محبت، رہنمائی اور حوصلہ افزائی
    صرف نمبروں کے بجائے کردار، عادات اور شخصیت پر توجہ
    موبائل کے بجائے کتاب، کھیل، گفتگو اور تخلیقی سرگرمیاں
    بچے کی عمر، جماعت اور صلاحیت کے مطابق منصوبہ بندی


    گھر کو سیکھنے کا مرکز بنائیں
    بچے کی تربیت صرف اسکول کی ذمہ داری نہیں، بلکہ گھر اس کی پہلی درس گاہ ہے۔ چھٹیوں میں گھر کا ماحول بچے کی شخصیت پر خاص اثر ڈالتا ہے۔ اگر گھر میں وقت کی پابندی، مطالعہ، نماز، صفائی، احترام، نرم گفتگو اور ذمہ داری کا ماحول ہو تو بچہ بھی آہستہ آہستہ انہی عادات کو اپنانے لگتا ہے۔
    والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کے سامنے صرف نصیحت نہ کریں بلکہ عملی نمونہ بھی بنیں۔ اگر والدین خود موبائل کا غیر ضروری استعمال کم کریں، کتاب پڑھیں، وقت پر کام کریں، نماز کا اہتمام کریں اور گھر میں مثبت گفتگو کریں تو بچے پر اس کا اثر زیادہ گہرا ہوتا ہے۔
    گھر میں مطالعے کے لیے ایک پرسکون جگہ بنائیں

    بچے کے لیے روزانہ ایک مختصر تعلیمی وقت مقرر کریں
    گھر کے چھوٹے کاموں میں بچے کو شامل کریں
    صفائی، ترتیب اور ذمہ داری کی مشق کروائیں
    بچے کے سامنے مثبت عملی نمونہ پیش کریں
    روزانہ معمول کی سادہ ترتیب
    چھٹیوں میں بچے کا معمول بہت سخت نہیں ہونا چاہیے، لیکن بالکل بے ترتیب بھی نہیں ہونا چاہیے۔ ایک آسان روزانہ ترتیب بچے کو نظم و ضبط سکھاتی ہے۔ اس ترتیب میں نیند، کھانا، کھیل، مطالعہ، دینی تربیت، گھر کا کام اور تفریح سب کے لیے مناسب وقت رکھا جا سکتا ہے۔
    ضروری نہیں کہ ہر گھر کا معمول ایک جیسا ہو۔ والدین اپنے حالات، بچے کی عمر، موسم، گھر کے ماحول اور دستیاب وقت کے مطابق اس میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ بچے کے دن میں سیکھنے، کھیلنے، آرام کرنے اور گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنے کی مناسب جگہ موجود ہو۔
    صبح اٹھنے کا مناسب وقت مقرر کریں
    روزانہ چند منٹ قرآنِ پاک، دعا یا دینی سبق کے لیے رکھیں
    مختصر مطالعہ یا لکھائی کی مشق کروائیں
    جسمانی کھیل یا ہلکی پھلکی سرگرمی شامل کریں
    رات کو سونے سے پہلے دن کا مختصر جائزہ لیں
    تعلیمی کمزوریوں پر نرمی سے کام کریں
    چھٹیاں بچے کی تعلیمی کمزوریوں کو بہتر کرنے کا اچھا موقع ہیں، مگر یہ کام سختی یا دباؤ سے نہیں ہونا چاہیے۔ اگر بچہ پڑھنے میں کمزور ہے تو اسے روزانہ تھوڑا سا پڑھنے کی مشق دیں۔ اگر لکھائی کمزور ہے تو روزانہ چند جملے خوش خط لکھوائیں۔ اگر حساب میں مشکل ہے تو کھیل کھیل میں جمع، تفریق، ضرب یا تقسیم کی مشق کروائیں۔
    والدین کو یاد رکھنا چاہیے کہ بچہ آہستہ آہستہ سیکھتا ہے۔ مسلسل ڈانٹ، موازنہ اور تنقید اس کے اعتماد کو کم کرتی ہے، جبکہ محبت، تعریف اور حوصلہ افزائی اسے آگے بڑھنے کی طاقت دیتی ہے۔
    کمزور مضمون کی روزانہ مختصر مشق کروائیں
    مشکل کام کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں
    بچے کی کوشش کو نتیجے سے زیادہ اہمیت دیں
    غلطی پر ڈانٹنے کے بجائے دوبارہ سمجھائیں
    ہر چھوٹی کامیابی پر حوصلہ افزائی کریں
    دینی اور اخلاقی تربیت کو معمول کا حصہ بنائیں
    چھٹیاں دینی اور اخلاقی تربیت کے لیے بھی بہت اہم موقع ہیں۔ عام دنوں میں اسکول، ہوم ورک اور مصروفیات کی وجہ سے والدین کو بچوں کے ساتھ زیادہ وقت نہیں ملتا۔ چھٹیوں میں بچے کو نماز، قرآنِ پاک کی تلاوت، دعائیں، سچ بولنا، بڑوں کا ادب، چھوٹوں سے محبت، صفائی، امانت داری اور شکر گزاری جیسی خوبیاں عملی انداز میں سکھائی جا سکتی ہیں۔
    بچے لمبی نصیحتوں سے کم اور عملی مثالوں سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ خود بھی ان عادات کو اپنائیں جن کی توقع وہ بچے سے رکھتے ہیں۔
    نماز کی عادت محبت اور نرمی سے ڈالیں
    روزانہ مختصر تلاوت یا دعا یاد کروائیں
    بڑوں کا احترام اور نرم گفتگو سکھائیں
    سچ بولنے اور وعدہ پورا کرنے کی اہمیت سمجھائیں
    گھر میں شکرگزاری، خدمت اور تعاون کا ماحول بنائیں
    موبائل اور اسکرین ٹائم کی حدود
    آج کے دور میں موبائل، ٹی وی اور گیمز بچوں کی چھٹیوں کا بڑا حصہ بن جاتے ہیں۔ اگر ان کا استعمال حدود کے بغیر ہو تو بچے کی صحت، نیند، نظر، مزاج، توجہ اور مطالعے کی عادت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ موبائل کے استعمال کے لیے واضح وقت، مقصد اور حدود مقرر کریں۔
    مکمل پابندی ہمیشہ مؤثر نہیں ہوتی، لیکن بے لگام آزادی بھی نقصان دہ ہے۔ بہتر یہ ہے کہ والدین بچے کو مفید متبادل سرگرمیاں دیں، جیسے کتاب، ڈرائنگ، کہانی، گھر کا چھوٹا کام، پودوں کی دیکھ بھال، تعلیمی کھیل یا والدین کے ساتھ گفتگو۔
    موبائل کے لیے روزانہ محدود وقت مقرر کریں
    کھانے، سونے اور مطالعے کے وقت موبائل نہ دیں
    بچے کو اکیلے غیر نگرانی میں موبائل استعمال نہ کرنے دیں
    تعلیمی اور مفید مواد کو ترجیح دیں
    موبائل کے متبادل کے طور پر مثبت سرگرمیاں دیں
    بچے کا موازنہ نہیں، حوصلہ افزائی کریں
    ہر بچہ اپنی رفتار سے سیکھتا ہے۔ کسی بچے کی پڑھائی اچھی ہوتی ہے، کسی کی لکھائی، کسی کی گفتگو، کسی کی ڈرائنگ، کسی کا کھیل اور کسی کا مشاہدہ مضبوط ہوتا ہے۔ اس لیے بچے کا موازنہ دوسرے بچوں سے کرنا مناسب نہیں۔ موازنہ بچے کے دل میں احساسِ کمتری پیدا کر سکتا ہے، جبکہ حوصلہ افزائی اس کے اندر اعتماد پیدا کرتی ہے۔
    والدین کو چاہیے کہ بچے کی چھوٹی کامیابی کو بھی اہم سمجھیں۔ اگر بچہ ایک صفحہ پڑھتا ہے، وقت پر اٹھتا ہے، چیزیں ترتیب سے رکھتا ہے، نماز پڑھتا ہے، صاف لکھتا ہے یا گھر کے کام میں مدد کرتا ہے تو اسے ضرور سراہیں۔
    بچے کا دوسرے بچوں سے موازنہ نہ کریں
    اس کی اپنی بہتری کو اہمیت دیں
    کوشش پر تعریف کریں، صرف نتیجے پر نہیں
    غلطی پر شرمندہ کرنے کے بجائے رہنمائی کریں
    حوصلہ افزا جملے بچے کے اعتماد کو مضبوط بناتے ہیں
    ہفتہ وار خاندانی تعلیمی نشست
    چھٹیوں میں ہفتے میں ایک دن گھر میں مختصر خاندانی تعلیمی نشست رکھی جا سکتی ہے۔ اس نشست میں والدین اور بچے مل بیٹھیں اور پورے ہفتے کا جائزہ لیں۔ بچے سے محبت سے پوچھیں کہ اس نے کیا سیکھا، کون سا کام مشکل لگا، کون سی عادت بہتر ہوئی اور اگلے ہفتے وہ کیا بہتر کرنا چاہتا ہے۔
    یہ نشست لمبی نہ ہو۔ بیس سے تیس منٹ کافی ہیں۔ اس میں ڈانٹ، شکایت اور تنقید کا ماحول نہ ہو بلکہ محبت، رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا انداز ہو۔ جب بچہ محسوس کرتا ہے کہ والدین اس کی بات سن رہے ہیں تو وہ زیادہ اعتماد اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔
    اس ہفتے تم نے کیا نیا سیکھا؟
    کون سا کام تمہیں مشکل لگا؟
    اگلے ہفتے تم کس عادت کو بہتر بنانا چاہتے ہو؟
    ہم تمہاری کس کام میں مدد کر سکتے ہیں؟
    تمہیں اس ہفتے اپنی کون سی بات اچھی لگی؟
    15 روزہ عملی منصوبہ کیوں ضروری ہے؟
    والدین چاہیں تو چھٹیوں کے آغاز میں 15 روزہ مختصر عملی منصوبہ بنا سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ بچے کی عمر، جماعت اور صلاحیت کے مطابق تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ منصوبے کا مقصد بچے کو تھکانا نہیں بلکہ اس کے دن میں تربیت، تعلیم، کھیل، ذمہ داری اور خوشی کو ترتیب دینا ہے۔
    15 روزہ منصوبہ بچے کو یہ احساس دلاتا ہے کہ چھٹیاں بھی زندگی کا قیمتی وقت ہیں۔ اس طرح بچہ بے ترتیب وقت گزارنے کے بجائے چھوٹے چھوٹے اہداف کے ذریعے بہتر عادات اپنانا شروع کرتا ہے۔
    پہلے پانچ دن معمول بنانے پر توجہ دیں
    اگلے پانچ دن مطالعہ، لکھائی اور دینی تربیت شامل کریں
    آخری پانچ دن خود جائزہ، اصلاح اور حوصلہ افزائی کے لیے رکھیں
    ہر دن بہت زیادہ کام نہ دیں
    بچے کو منصوبے میں شامل کریں تاکہ وہ خود بھی دلچسپی لے
    والدین کے لیے چند اہم اصول
    چھٹیوں کو بامقصد بنانے میں والدین کا رویہ سب سے اہم ہے۔ اگر والدین ہر وقت ڈانٹتے رہیں، بچے کو دوسروں سے ملاتے رہیں یا اس پر بہت زیادہ کام ڈال دیں تو بچہ چھٹیوں کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس اگر والدین محبت، حکمت اور مستقل مزاجی سے رہنمائی کریں تو بچہ خوشی کے ساتھ سیکھتا ہے۔
    بچے کو ایک ہی دن میں بہت زیادہ کام نہ دیں۔ روزانہ تھوڑا مگر مستقل کام زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ بچے کی عمر، جماعت، مزاج اور صلاحیت کو سامنے رکھیں۔ چھوٹے بچے کے لیے کہانی، رنگ، زبانی مشق اور کھیل زیادہ مناسب ہیں، جبکہ بڑے بچے کے لیے مطالعہ، تحریر، منصوبہ بندی، تحقیق اور ذمہ داری زیادہ مفید ہے۔
    بچے پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالیں
    ایک دن کا بہت زیادہ کام دینے کے بجائے روزانہ تھوڑا کام دیں
    بچے کی عمر اور صلاحیت کے مطابق سرگرمیاں منتخب کریں
    بچے کی بات سنیں اور اسے اظہار کا موقع دیں
    نصیحت کم، عملی نمونہ زیادہ پیش کریں
    حاصلِ کلام
    گرما کی چھٹیاں بچے کی زندگی کا قیمتی وقت ہیں۔ یہ وقت صرف سونے، کھیلنے یا موبائل استعمال کرنے میں گزر جائے تو بچے کو عارضی خوشی تو مل سکتی ہے، مگر دیرپا فائدہ نہیں ہوتا۔ اگر والدین تھوڑی سی منصوبہ بندی، محبت بھری رہنمائی اور مستقل مزاجی اختیار کریں تو یہی چھٹیاں بچے کی تعلیم، تربیت، اخلاق، عادات اور شخصیت سازی کا خوبصورت ذریعہ بن سکتی ہیں۔
    تعلیم کا اصل مقصد صرف نمبر لینا نہیں، بلکہ بہتر انسان بننا ہے۔ گھر اگر سیکھنے، محبت، احترام، نظم و ضبط اور عمل کا مرکز بن جائے تو بچے کی چھٹیاں واقعی بامقصد، مفید اور یادگار بن سکتی ہیں۔ والدین کی تھوڑی سی توجہ بچے کے مستقبل کی بڑی بنیاد بن سکتی ہے۔

    تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔ مالک خان سیال

  • صرف ذہانت کامیابی کی ضمانت نہیں، دیگر شخصی خصوصیات بھی ضروری ہیں: ماہرِ نفسیات

    صرف ذہانت کامیابی کی ضمانت نہیں، دیگر شخصی خصوصیات بھی ضروری ہیں: ماہرِ نفسیات

    لندن: معروف ماہرِ نفسیات ایڈ رین فرن ھام نے کہا ہے کہ صرف اعلیٰ ذہانت تعلیمی اور پیشہ ورانہ کامیابی کے لیے کافی نہیں ہوتی، بلکہ کامیابی کے حصول میں متعدد شخصی خصوصیات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اپنے حالیہ مضمون میں انہوں نے واضح کیا کہ کامیابی کا اندازہ علمی اعزازات، تحقیقی انعامات اور تعلیمی اداروں میں اعلیٰ عہدوں تک رسائی سے لگایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق بعض عوامل ذہانت کے مثبت اثرات کو کم کر دیتے ہیں، جبکہ کچھ خصوصیات کامیابی کے امکانات میں اضافہ کرتی ہیں۔

    مضمون کے مطابق حد سے زیادہ باریک بینی، وسواسی رویے، جذباتی ذہانت کی کمی اور مختلف قسم کی توجہ بٹانے والی سرگرمیاں کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ کا کہنا ہے کہ ایسے افراد اکثر تخلیقی صلاحیتوں اور مؤثر سماجی روابط سے محروم رہ جاتے ہیں، جس سے ان کی پیشہ ورانہ ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔دوسری جانب بلند حوصلہ، مقابلے کا جذبہ اور ثابت قدمی کو کامیابی کے اہم محرکات قرار دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق وہ افراد جو مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں اور اپنے اہداف کے حصول کے لیے مسلسل محنت کرتے ہیں، کامیابی کے زیادہ امکانات رکھتے ہیں۔

    ماہرِ نفسیات نے زور دیا کہ تعلیمی اور پیشہ ورانہ میدان میں کامیابی کے لیے صرف پر انحصار کافی نہیں، بلکہ جذباتی ذہانت، سماجی مہارتیں، محنت، توجہ اور مستقل مزاجی بھی ناگزیر ہیں۔……..ایڈ رین فرن ھام

  • PU News…….پنجاب یونیورسٹی شعبہ گرافک ڈیزائن کے زیر اہتمام انڈرگریجویٹ تھیسیزنمائش 2026ء کا افتتاح……..پنجاب یونیورسٹی طلبہ نے بین الاقوامی تعلیمی منصوبہ کامیابی سے مکمل کرلیا……..وائس چانسلر نے نیشنل گیمز میں اعلیٰ کارکردگی پر یونیورسٹی کھلاڑیوں میں 23لاکھ کے انعامات تقسیم کئے  

    PU News…….پنجاب یونیورسٹی شعبہ گرافک ڈیزائن کے زیر اہتمام انڈرگریجویٹ تھیسیزنمائش 2026ء کا افتتاح……..پنجاب یونیورسٹی طلبہ نے بین الاقوامی تعلیمی منصوبہ کامیابی سے مکمل کرلیا……..وائس چانسلر نے نیشنل گیمز میں اعلیٰ کارکردگی پر یونیورسٹی کھلاڑیوں میں 23لاکھ کے انعامات تقسیم کئے  

    لاہور:وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد علی نے پنجاب یونیورسٹی کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن شعبہ گرافک ڈیزائن کے زیر اہتمام انڈرگریجویٹ تھیسیزنمائش 2026 ء کا افتتاح کر دیا۔اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینیٹزپروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین، پرنسپل کالج پروفیسرڈاکٹر ثمینہ نسیم،چیئرمین شعبہ گرافک ڈیزائن پروفیسرڈاکٹر احمد بلال، فیکلٹی ممبران،صنعت سے وابستہ معروف ڈیزائنرز اورطلباؤطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ نمائش میں طلباؤطالبات نے کمرشل بنیادوں پر چلنے والے تخلیقی منصوبے پیش کئے۔انہوں نے کہا کہ کالج کے طلباؤ طالبات کے پراجیکٹس کو کمپنیاں خرید رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کے طلباؤ طالبات کو پڑھائی کے دوران نوکریاں بھی مل جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی وبین الاقوامی سطح پر کالج کے گریجوئیٹس نے اپنا نام بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمائش میں طلباؤ طالبات نے ماحولیاتی آگاہی پیدا کرنے سے متعلق منصوبے پیش کئے۔ پروفیسر ڈاکٹر احمد بلال نے کہا کہ طلباؤ طالبات نے تخلیقی منصوبوں میں مختلف معاشرتی پہلوؤں کی عکاسی کی۔انہوں نے کہا کہ کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کی تاریخی گرینڈ ہال میں شعبہ گرافک ڈیزائن کے 85 طلبہ کے تخلیقی، تحقیقی اور جدید ڈیزائن پرمبنی تھیسزپراجیکٹس عوام کے لیے پیش کئے گئے۔ اس موقع پر جدید طرز پر تھیسز کا ڈیجیٹل کیٹلاگ بھی متعارف کرا یا گیا جو کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ نمائش 12 جون تک جاری رہے گی۔


    پنجاب یونیورسٹی شعبہ سوشل ورک نے کامن ویلتھ یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے اشتراک سے ایک بین الاقوامی تعلیمی منصوبہ کامیابی سے مکمل کر لیا، 

    پنجاب یونیورسٹی شعبہ سوشل ورک نے کامن ویلتھ یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے اشتراک سے ایک بین الاقوامی تعلیمی منصوبہ کامیابی سے مکمل کر لیا، جس کے تحت طلبہ کو دو ورچوئل کورسز کرائے گئے۔ اس منصوبے کی قیادت شعبہ سوشل ورک کی ایسوسی ایٹ پروفیسرڈاکٹر سونیا عمرنے کی۔اس اقدام کے ذریعے طلبہ کو امریکہ کی ایک جامعہ سے بین الاقوامی تعلیمی تجربات اور سیکھنے کے قیمتی مواقع میسر آئے۔ طلبہ کو امریکہ میں جاری لائیو کلاسز میں بھی شامل کیا گیا، جہاں انہیں بین الاقوامی اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ براہِ راست رابطے اور تبادلہ خیال کا موقع ملا اور انہوں نے حقیقی وقت میں عالمی تعلیمی ماحول کا تجربہ حاصل کیا۔کورسز کامیابی سے مکمل کرنے پر شریک طلبہ کو میزبان ادارے کی جانب سے اسناد بھی عطا کی گئیں۔ یہ منصوبہ یونیورسٹی کی متعلقہ انتظامیہ سے پیشگی اجازت حاصل کرنے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔یہ اشتراک شعبہ سوشل ورک کے عالمی تعلیمی روابط کو مضبوط بنانے اور طلبہ کے تعلیمی تجربات کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ منصوبے کی کامیاب تکمیل وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر محمد علی کی متحرک قیادت اور بصیرت افروز ویژن کا بھی مظہر ہے، جن کی سرپرستی اور حمایت کے باعث پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے بین الاقوامی تعلیمی مواقع مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔

    وائس چانسلر نے نیشنل گیمز میں اعلیٰ کارکردگی پر یونیورسٹی کھلاڑیوں میں 23لاکھ کے انعامات تقسیم کئے  

    وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا ہے کہ شعبہ سپورٹس سے وابستہ افراد قومی خدمت کر رہے ہیں کیونکہ وہ نہ صرف کھیلوں کے ذریعے پاکستان کے سافٹ امیج کو اجاگر کررہے ہیں بلکہ نوجوانوں میدانوں میں لاکر ان کو منشیات اور دیگر منفی سرگرمیوں سے روک رہے ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی شعبہ سپورٹس کے زیر اہتمام ورلڈ روئنگ، نیشنل گیمز اور آل پاکستان انٹر ورسٹی کھیلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہر ہ کرنے والے طلباؤطالبات کیلئے منعقدہ تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر سپورٹس ڈاکٹر شبیر سرور، ڈی جی ایس ای ایس پروفیسر ڈاکٹر ریحان صادق شیخ، طلباؤطالبات اور آفیشلز نے شرکت کی۔ اس موقع پر وائس چانسلر نے قومی سطح پر مختلف کھیلوں میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والے 17کھلاڑیوں اور 7کوچز میں 23لاکھ روپے کے انعامات تقسیم کئے۔

  • اسلام امن اور محبت کا مذہب کے موضوع پر ہمدرد شوریٰ لاہور کا ایک اہم اجلاس

    اسلام امن اور محبت کا مذہب کے موضوع پر ہمدرد شوریٰ لاہور کا ایک اہم اجلاس

    اسلام امن اور محبت کا مذہب کے موضوع پر ہمدرد شوریٰ لاہور کا ایک اہم اجلاس 6مئی بروز بدھ سہ پہر ساڑھے تین بجے ہوٹل فلیٹیز کے بورڈ روم اے میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسپیکر کے فرائض محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم نے انجام دئیے جبکہ ڈپٹی اسپیکرز جناب قیوم نظامی اور محترم عمر ظہیر میر تھے اجلاس میں اراکینِ شوریٰ محترمہ خالدہ جمیل چوہدری، جناب عثمان غنی، جناب حکیم راحت نسیم، جناب رانا امیر احمد خان، جناب پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عطا، محترمہ سیدہ فرح ہاشمی اور جناب کاشف ادیب جاویدانی سمیت دیگر معزز شخصیات شریک ہوئیں۔ اس موقع پر مبصرین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی جن میں محمد نصیر الحق ہاشمی، عبدالرزاق باجوہ، محمد صابر اعوان، سید اختر علی جعفری، شہریار اصغر مرزا، ڈاکٹر مہر محمد سعید اختر، مہر عبدالروف، ڈاکٹر مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر کنول فیروز، انجینئر محمد آصف، ڈاکٹر نبیل احمد نبیل، جناب فریاد علی، جناب محمد اصغر اور قاری محمد فاروق اکرم شامل تھے۔اجلاس کی خاص بات بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری کا خوبصورت اظہار تھا، جس میں مسیحی برادری سے جناب نوخیز کھوکھر، سکھ برادری سے جناب سردار سکندر سنگھ اور ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے بھگت لال نے خصوصی شرکت کی۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز قاری خالد محمود کی تلاوتِ کلامِ مجید سے ہوا جبکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں گلہائے عقیدت حافظ حکیم مرغوب احمد ہمدانی نے پیش کیے۔اس موقع پر دینی سکالر و سابق پرنسپل اورینٹیل کالج جامعہ پنجاب پروفیسر ڈاکٹر سید محمد قمر زیدی جو مہمان خاص تھے انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔معزز حاضرینِ مجلس!آج ہم جس موضوع پر جمع ہوئے ہیں، اس کے مختلف پہلو آپ سماعت فرما چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی برادری میں مذاہب کا وجود انسان کی اصلاح، اس کے باطن کی پاکیزگی اور اس کے ظاہر کے حسن ا خلاق کے لیے ہے۔خواہ وہ آسمانی مذاہب ہوں یا انسانی اصلاح کی دیگر تحریکیں، سب کا بنیادی مقصد انسانیت کی فلاح اور اخلاقی تربیت ہے۔اسلام ان تمام میں ایک ممتاز، جامع اور ہمہ گیر پیغام ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے ذریعے پوری انسانیت کے لیے بھیجا۔ آپ ﷺ نہ صرف آخری نبی ہیں بلکہ رحمت اللعالمین ہیں، جن کی تعلیمات تمام انسانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا مزید کہنا تھا کہ ہم اکثر فخر سے یہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اعلیٰ ترین انسانی اخلاق کا نمونہ پیش کیا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس کردار کو اپنی عملی زندگی میں بھی اپنایا؟ مکی دور کی سختیاں، مخالفتیں اور آزمائشیں ہمارے سامنے ہیں۔ ان حالات میں بھی آپ ﷺ کا رویہ محبت، صبر اور انسانیت سے بھرپور تھا۔ ایک غلام، ایک بیمار، ایک کمزور انسان کے ساتھ آپ ﷺ کا سلوک ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسانیت مذہب، رنگ اور طبقے سے بالاتر ہے۔آج دنیا ایک گلوبل گاؤں بن چکی ہے۔ ہمارےالفاظ، ہمارے اعمال، سب دنیا کے سامنے ہیں۔ ایسے میں اگر ہمارا کردار ہمارے دعووں کے مطابق نہ ہو تو ہمارے الفاظ کی تاثیر ختم ہو جاتی ہے۔اسی لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسلام کو صرف بیان کر رہے ہیں یا اس میں جِي بھی رہے ہیں؟انہوں نے کہا کہ برصغیر میں اسلام تلوار سے نہیں بلکہ صوفیاء کے اخلاق، محبت اور کردار سے پھیلا۔خواجہ نظام الدین اولیاءؒ جیسے بزرگوں نے بغیر کسی تفریق کے انسانوں کی خدمت کی۔ بھوکے کو کھانا، بیمار کی تیمارداری، اور انسان کو انسان سمجھنا درحقیقت یہی اسلام کا عملی چہرہ ہے ان صوفیاء کرام نے یہ سبق دیا کہ مذہب کا اصل جوہر انسان کی خدمت اور محبت ہے، نہ کہ تقسیم اور نفرت۔بدقسمتی سے آج ہم نے دین کو نظریات تک محدود کر دیا ہے اور عمل کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ہم گفتگو میں تو اتحاد کی بات کرتے ہیں، لیکن عمل میں تفرقہ پیدا کرتے ہیں۔حالانکہ ہماری اصل وحدت صرف ایک ہے وہ ہے ،لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺجب یہ کلمہ ہماری زبان سے نکل کر ہمارے دل، ہمارے اعمال اور ہمارے معاشرے میں اتر جائے گا، تب ہی ہم حقیقی معنوں میں اسلام کے نمائندے بن سکیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔یہ انسان کو جوڑنے آیا ہے، توڑنے نہیں۔ یہ محبت سکھاتا ہے، نفرت نہیں۔یہ خدمت سکھاتا ہے، برتری نہیں۔

    اختتامی کلمات میں معزز اراکین و مبصرین کی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے اسپیکر پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم نے تجاویز پیش کی جن میں کہا گیا کہ

    ٭      تمام مذاہب انسانیت، امن، محبت، برداشت اور بھائی چارے کا درس دیتے ہیں، لہٰذا معاشرے میں نفرت کے بجائے رواداری کو فروغ دیا جائے۔

    ٭      اسلام کی حقیقی تعلیمات کو صرف تقاریر تک محدود رکھنے کے بجائے عملی زندگی میں نافذ کیا جائے۔

    ٭      بین المذاہب مکالمے، مشترکہ تقریبات اور رابطوں کو فروغ دے کر قومی یکجہتی کو مضبوط بنایا جائے۔

    ٭      نوجوان نسل کو صوفیاء کرام کے کردار، محبت، خدمت اور انسان دوستی کے پیغام سے روشناس کرایا جائے۔

    ٭      اختلافِ رائے کے باوجود ایک دوسرے کے عقائد، مذاہب اور شخصیات کا احترام یقینی بنایا جائے۔

    ٭      معاشرے میں عدم برداشت، نفرت انگیزی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے اجتماعی شعور بیدار کیا جائے۔

    ٭      ضرورت مند، بھوکوں، بیماروں اور کمزور طبقات کی خدمت کو مذہبی اور قومی فریضہ سمجھا جائے۔

    ٭      تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور میڈیا کے ذریعے امن، محبت اور انسانی احترام کے پیغام کو عام کیا جائے۔

    ٭      “لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ” کے پیغامِ وحدت کو عملی طور پر اپناتے ہوئے فرقہ واریت سے اجتناب کیا جائے۔

    ٭      ہر فرد اپنی اپنی ذمہ داری اور دائرۂ کار میں انسانیت کو جوڑنے، محبت بانٹنے اور خیر کے کاموں میں کردار ادا کرے

  • وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد علی نے پنجاب یونیورسٹی میں داخلوں اور دیگر امورپر امیدواروں کی رہنمائی کے لئے مصنوعی ذہانت پر مبنی پہلے چیٹ بوٹ کا افتتاح کردیا

    وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد علی نے پنجاب یونیورسٹی میں داخلوں اور دیگر امورپر امیدواروں کی رہنمائی کے لئے مصنوعی ذہانت پر مبنی پہلے چیٹ بوٹ کا افتتاح کردیا

    وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد علی نے پنجاب یونیورسٹی میں داخلوں اور دیگر امورپر امیدواروں کی رہنمائی کے لئے مصنوعی ذہانت پر مبنی پہلے چیٹ بوٹ کا افتتاح کردیا۔پنجاب یونیورسٹی ایڈمیشن اسسٹنٹ چیٹ بوٹ کی افتتاحی تقریب میں چیئرمین ایڈمیشن کمیٹی پروفیسرڈاکٹر محمود سلیم، ڈین فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈ آئی ٹی پروفیسر ڈاکٹر شہزاد سرور،مختلف فیکلٹیوں کے ڈینزاور انتظامی عہدیدران نے شرکت کی۔عوام الناس کے لئے پنجاب یونیورسٹی کا ویب بیسڈ چیٹ بوٹ سرکاری یونیورسٹیز کا پہلا چیٹ بوٹ ہے۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ مختصر عرصے میں کامیاب چیٹ بوٹ کی تیاری قابل تحسین ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی طلباؤ طالبات اور داخلوں کے خواہشمند امیدواروں کی سہولت کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔انہوں نے چیٹ بوٹ کی سہولت دیگر شعبہ جات کے لئے بھی فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔ پروفیسر ڈاکٹر شہزاد سرور نے چیٹ بوٹ کی کارکردگی پر اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی نے اپنے وسائل سے مختصر وقت میں چیٹ بوٹ تیار کیاہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کا چیٹ بوٹ انگریزی، اردو اور رومن اردومیں رہنمائی فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ چیٹ بوٹ امیدواروں کو مختلف پروگرامز میں داخلے کے لئے اہلیت کے معیار سے متعلق رہنمائی فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ سے متعلق معلومات، ہاسٹل کی معلومات، پروگرامز کی اہلیت پر چیٹ بوٹ جامع رہنمائی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ امیدواروں کو سکالرشپس اور مالی امداد سے متعلق تمام معلومات فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ چیٹ بوٹ کوٹہ میں داخلوں اور یونیورسٹی کے اہم اعلانات سے متعلق امیدواروں کو رہنمائی فراہم کرے گا۔

  • یو ای ٹی لاہور میں تعمیر نو کے بعد سوئمنگ پول دوبارہ فعال، وائس چانسلر نے افتتاح کر دیا

    یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے مکمل تعمیرِ نو اور تزئین و آرائش کے بعد یونیورسٹی کے سوئمنگ پول کا افتتاح کر دیا، جس کے بعد یہ سہولت دوبارہ طلبہ کے استعمال کیلئے کھول دی گئی ہے۔

    سوئمنگ پول کی ازسرِنو تعمیر اور بہتری کے منصوبے پر 8 ملین روپے کی لاگت آئی ہے۔ منصوبے کا مقصد طلبہ کو کھیلوں، جسمانی فٹنس اور تفریحی سرگرمیوں کیلئے محفوظ، معیاری اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ جس سے طلبہ میں صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ ملے گا اور ہم نصابی سرگرمیوں کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

    افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے کہا کہ یونیورسٹی کا مشن صرف معیاری تعلیم کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی، جسمانی نشوونما اور ذہنی آسودگی کو بھی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوئمنگ پول کی بحالی طلبہ دوست ماحول کی فراہمی اور کیمپس میں کھیلوں و تفریحی سہولیات کے فروغ کیلئے یونیورسٹی انتظامیہ کے عزم کا عملی مظہر ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کی فلاح و بہبود اور خوشحالی یو ای ٹی لاہور کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق جدید سہولیات سے آراستہ یہ سوئمنگ پول طلبہ کو صحت مند سرگرمیوں میں حصہ لینے، باہمی روابط کو مضبوط بنانے اور متوازن تعلیمی و سماجی زندگی گزارنے کے بہتر مواقع فراہم کرے گا۔