Author: ilmati online

  • ایچ ای سی کی جانب سے این ایس سی ٹی 2026 کے نتائج کا اجرا: پاکستان کی آئی ٹی تعلیم کے معیارحوالے سے چشم کشا رپورٹ

    ایچ ای سی کی جانب سے این ایس سی ٹی 2026 کے نتائج کا اجرا: پاکستان کی آئی ٹی تعلیم کے معیارحوالے سے چشم کشا رپورٹ

    ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے نیشنل اسکلز کمپیٹنسی ٹیسٹ (این ایس سی ٹی) 2026 کے یونیورسٹی وار نتائج جاری کرتے ہوئے پاکستان بھر کے نمایاں آئی ٹی طلبہ کے ناموں کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ملک میں آئی ٹی تعلیم کے معیار کا جائزہ لینے بلکہ جامعات کو اپنی تدریسی حکمت عملیوں اور نصابی ڈھانچوں کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

    اشتہار میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق این ایس سی ٹی 2026 میں پاکستان بھر کی 188 جامعات کے 40 ہزار سے زائد طلبہ نے رجسٹریشن کروائی، جبکہ 33 ہزار سے زائد طلبہ نے امتحان میں شرکت کی۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں آئی ٹی مہارتوں کا سب سے بڑا قومی سطح کا جائزہ تصور کیا جا سکتا ہے، جس کا مقصد طلبہ کی صلاحیتوں کو صنعت کی ضروریات کے مطابق جانچنا تھا۔

    نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی طلبہ نے ویب ڈویلپمنٹ بیسکس (54.1 فیصد)، مصنوعی ذہانت و مشین لرننگ (50.8 فیصد) اور سافٹ ویئر انجینئرنگ (50.1 فیصد) جیسے شعبوں میں نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ یہ امر اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں جدید ٹیکنالوجیز خصوصاً مصنوعی ذہانت اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں طلبہ کی دلچسپی اور استعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    دوسری جانب سائبر سکیورٹی (47.2 فیصد)، ڈیٹا بیس سسٹمز (42.3 فیصد)، ڈیٹا اسٹرکچرز و الگورتھمز (40.2 فیصد)، کمپیوٹر نیٹ ورکس و کلاؤڈ کمپیوٹنگ (39.6 فیصد) اور آپریٹنگ سسٹمز (33.8 فیصد) جیسے شعبوں میں کمزور کارکردگی تشویش کا باعث ہے۔ یہ وہ شعبے ہیں جو عالمی آئی ٹی صنعت میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر سائبر سکیورٹی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب کے تناظر میں پاکستانی جامعات کو ان مضامین کی تدریس، عملی تربیت اور لیبارٹری سہولیات پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    صوبائی کارکردگی کے اعداد و شمار بھی کئی اہم حقائق سامنے لاتے ہیں۔ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری 52.9 فیصد کامیابی کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ سندھ (42 فیصد) اور پنجاب (39.4 فیصد) اس کے بعد رہے۔ گلگت بلتستان (32.6 فیصد)، آزاد جموں و کشمیر (31 فیصد)، خیبر پختونخوا (30.2 فیصد) اور بلوچستان (29 فیصد) کی نسبتاً کم کارکردگی علاقائی تعلیمی تفاوت کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ نتائج پالیسی سازوں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ کم ترقی یافتہ علاقوں میں آئی ٹی تعلیم کے معیار اور وسائل کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔

    ایچ ای سی کی جانب سے یونیورسٹی وار نتائج اور نمایاں طلبہ کی فہرست کا اجرا شفافیت، احتساب اور مثبت مسابقت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس سے جامعات کو اپنی کارکردگی کا تقابلی جائزہ لینے اور کمزور شعبوں کی نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ نمایاں طلبہ کی حوصلہ افزائی سے دیگر طلبہ بھی اعلیٰ کارکردگی کے لیے متحرک ہوں گے۔

    مجموعی طور پر این ایس سی ٹی 2026 کے نتائج پاکستان کے آئی ٹی تعلیمی شعبے کے لیے ایک اہم آئینہ ثابت ہوئے ہیں۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت، ویب ڈویلپمنٹ اور سافٹ ویئر انجینئرنگ میں مثبت پیش رفت نظر آتی ہے، تاہم سائبر سکیورٹی، نیٹ ورکنگ اور بنیادی کمپیوٹنگ تصورات میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ ان نتائج کی روشنی میں جامعات، صنعت اور پالیسی ساز ادارے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

    ؎

  • یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز (یو وی اے ایس) لاہور میں آئندہ منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے سلسلے میں بدھ کے روز “منشیات سے پاک کیمپس کلچر کی تشکیل” کے موضوع پر آگاہی واک اور سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

    یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز (یو وی اے ایس) لاہور میں آئندہ منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے سلسلے میں بدھ کے روز “منشیات سے پاک کیمپس کلچر کی تشکیل” کے موضوع پر آگاہی واک اور سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

    یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز (یو وی اے ایس) لاہور میں آئندہ منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے سلسلے میں بدھ کے روز “منشیات سے پاک کیمپس کلچر کی تشکیل” کے موضوع پر آگاہی واک اور سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

    وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی نے پہلے آگاہی واک کی قیادت کی اور بعد ازاں سیمینار کی صدارت کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ڈرگز ایڈوائزری ٹریننگ ہب سید ذوالفقار حسین، ڈین فیکلٹی آف ویٹرنری سائنسز پروفیسر ڈاکٹر کامران اشرف، ڈین فیکلٹی آف بائیو سائنسز پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمٰن، ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس افیئرز ڈاکٹر محمد انیب، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    آگاہی واک وائس چانسلر آفس سے شروع ہوئی اور کیمپس کا چکر لگانے کے بعد مین لان کے سامنے اختتام پذیر ہوئی۔ واک کا مقصد طلبہ اور اساتذہ میں صحت مند اور منشیات سے پاک تعلیمی ماحول کے فروغ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔

    سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی نے کہا کہ لوگ عموماً زندگی کے مختلف مسائل اور دباؤ سے بچنے کے لیے منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل اور بزرگوں کے سوچنے اور مسائل سے نمٹنے کے انداز میں ایک واضح نسلی فرق موجود ہے، جسے نظر انداز کرنے کے بجائے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے معاشرے میں ہم آہنگی کو فروغ دینے اور انتشار پھیلانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی پر بھی زور دیا۔

  • پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورکا  فیکلٹی آف کمپیوٹنگ میں قائم آرٹیفیشل انٹیلی جنس ریسرچ اینڈ ایڈوانسمنٹ لیب کا دورہ

    پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورکا فیکلٹی آف کمپیوٹنگ میں قائم آرٹیفیشل انٹیلی جنس ریسرچ اینڈ ایڈوانسمنٹ لیب کا دورہ

    پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے فیکلٹی آف کمپیوٹنگ میں قائم آرٹیفیشل انٹیلی جنس ریسرچ اینڈ ایڈوانسمنٹ لیب کا دورہ کیا اور اساتذہ اور طلباء وطالبات کی تحقیقی سرگرمیوں اور کارکردگی کا جائزہ لیا ۔ حال ہی میں کور کمانڈر بہاولپور لیفٹیننٹ جنرل محمد عقیل ہلال امتیاز ملٹری نے اس لیب کا افتتاح کیا تھا اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے یونیورسٹی کے عزم کو قابل ستائش اور اسٹریٹجک طور پر اہم کوشش قرار دیا تھا۔ یہ لیب بہاولپور گیریژن کے فعال تعاون سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران کے وژن کے تحت قائم کی گئی ہے۔  تعلیمی عزائم اور دفاعی ضروریات کی ہم آہنگی کی عکاسی کرتے ہوئے یہ لیب تحقیق اور ترقی کے شعبے میں سول ملٹری تعاون کے ماڈل کی نمائندگی کرتی ہے۔  یونیورسٹی کے اساتذہ کے مطابق اے آئی ریسرچ اینڈ ایڈوانسمنٹ لیب معرکہ حق کے عنوان سے ایک وسیع تر اسٹریٹجک اقدام کے ساتھ منسلک ہے جو اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو قومی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے اور پاکستان کی تکنیکی اور اقتصادی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم اور مستقبل کے حوالے سے ابھرتے ہوے ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس  لیبارٹری کا مقصد جدید تحقیق اور ترقی ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے اور طلباءوطالبات کو جدید آلات سے مربوط کرنا ہے۔ یہ جدید ترین لیب پروفیسر ڈاکٹر ناجیہ سحر چیئرپرسن شعبہ آرٹیفیشل اینٹیلیجنس کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے اور ڈین فیکلٹی آف کمپیوٹنگ پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد اور ڈائریکٹر آئی ٹی ڈاکٹر فیصل شہزاد اور فیکلٹی ممبران کا تعاون حاصل ہے۔

  • یو ای ٹی لاہور کی سنڈیکیٹ کا 41 واں اجلاس،تعلیمی و انتظامی اورمالیاتی امور پر اہم فیصلے………اجلاس کی صدارت وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیرنے کی

    یو ای ٹی لاہور کی سنڈیکیٹ کا 41 واں اجلاس،تعلیمی و انتظامی اورمالیاتی امور پر اہم فیصلے………اجلاس کی صدارت وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیرنے کی

    اجلاس کا آغاز سینیٹ کے 40 ویں اجلاس کے منٹس کی تصدیق اور ان پر عمل درآمد کی رپورٹ سے ہوا۔بعد ازاں یونیورسٹی میں ‘فیکلٹی آف کمپیوٹنگ’ کے قیام کی منظوری دی گئی، جس کے تحت نئے تعلیمی شعبہ جات بشمول کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ، انسٹی ٹیوٹ آف ڈیٹا سائنسز اور انسٹی ٹیوٹ آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس اینڈ مشین لرننگ اینڈ سائبر سکیورٹی کو ایک نئے فیکلٹی کے طور پر اکٹھا کیا جائے گا۔اجلاس میں ڈینز کی تعیناتی کے لیے مارکنگ کرائیٹیریا میں ترامیم، یونیورسٹی سروس اسٹیچومیں تبدیلی، اور مختلف اہم عہدوں جیسے ڈائریکٹر اورک، ڈائریکٹر کیو ای سی، وغیرہ کے لیے اسٹیچوکی منظوری دی گئی۔اس کے علاوہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی پالیسی کے عین مطابق، یونیورسٹی میں ‘پروفیسر آف پریکٹس’ کی تقرری کے لیے باضابطہ گائیڈ لائنز کی منظوری بھی دی گئی، جس کا مقصد صنعتی تجربہ رکھنے والے ماہرین کو تعلیمی عمل میں شامل کرکے طلبا کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔مزید برآں اجلاس میں مالی سال 2024-2025 اور 2025-2026 کے لیے بجٹ کے تخمینوں کی منظوری دی گئی۔ وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر نے ڈیڑھ سال کی کارکردگی رپورٹ کی جسے ہاوئس نے سراہا، وائس چانسلر نے وفاقی حکومت ایچ ای سی ، پنجاب حکومت ، وزیر اعلی مریم نواز شریف ، ایچ ای ڈی ،صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات  کی مالی معانت اور بھرپور سرپرستی کرنے پر شکریہ اداکیا۔

    اجلاس میں یونیورسٹی کے نیو کیمپس (کالا شاہ کاکو) میں 1 میگاواٹ کا سولر سسٹم نصب کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جس سے توانائی کی بچت کے ساتھ ساتھ تعلیمی ماحول میں بہتری آئے گی۔ارکان سنڈیکیٹ نے یونیورسٹی کے مختلف انتظامی و تعلیمی امور، جن میں تقرریوں کے لیے ترمیم شدہ قواعد اور سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کی توثیق کی، تاکہ یونیورسٹی کے انتظامی امور کو مزید شفاف اور فعال بنایا جا سکے۔ سینیٹ کی جانب سے فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی (F&PC) کے لیے ایک رکن کی نامزدگی اور سنڈیکیٹ کے لیے سینیٹ کے دو ارکان جن میں کم از کم ایک خاتون رکن شامل ہوں گی کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے اجلاس کے اختتام پر تمام اراکین کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ یو ای ٹی لاہور جدید ٹیکنالوجی، معیاری تعلیم اور تحقیق کے فروغ کے لیے اپنے سفر کو جاری رکھے گی۔اجلاس میں پروفیسر ڈاکٹر فرحت سلیم اور پروفیسر ڈاکٹر نوید رمضان کو سینڈیکیٹ کا ممبر منتخب کیا گیا جبکہ ڈاکٹر قیصرسلیم کا بطور  ممبر فنانس اینڈ پلاننگ چناو عمل میں لایا گیا ۔

  • 1,200 پاکستانی محققین کا عالمی درجہ بندی میں شامل ہونا ملک کے لیے باعثِ فخر کامیابی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر۔۔۔۔۔۔۔۔، صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی ایوارڈ حاصل کرنے والے محققین کو مبارکباد۔

    1,200 پاکستانی محققین کا عالمی درجہ بندی میں شامل ہونا ملک کے لیے باعثِ فخر کامیابی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر۔۔۔۔۔۔۔۔، صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی ایوارڈ حاصل کرنے والے محققین کو مبارکباد۔

    لاہور: ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے جامعہ پنجاب کے سنٹر آف ایکسیلنس اِن مالیکیولر بایولوجی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا، جس میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی گلوبل ٹاپ 2 فیصد سائنسدانوں کی فہرست 2025 میں شامل پاکستانی محققین اور سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ نیشنل ریسرچ پروگرام فار یونیورسٹیز (NRPU) کال 2025-26 کے تحت ریسرچ گرانٹس حاصل کرنے والے محققین کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

    تقریب کے مہمانِ خصوصی، صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ایوارڈ حاصل کرنے والے محققین کو مبارکباد دیتے ہوئے اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور معیاری انسانی وسائل کی ترقی کے فروغ کے لیے پنجاب حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔

    چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ تقریباً 1,200 پاکستانی محققین کا عالمی درجہ بندی میں شامل ہونا ملک کے لیے باعثِ فخر کامیابی ہے۔ انہوں نے محققین پر زور دیا کہ وہ اطلاقی تحقیق کو جدت، کاروباری مواقع اور سماجی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے باہمی تعاون اور وسائل کے اشتراک کو فروغ دیں۔

    چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر اقرار احمد خان نے بھی اعزاز حاصل کرنے والوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ جامعات کی تحقیقی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے تحقیق میں مزید سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

    اس سے قبل ایچ ای سی کے مشیر برائے تحقیق، اختراع و ترقی ڈاکٹر محمد علی ناصر نے بتایا کہ گلوبل ٹاپ 2 فیصد سائنسدانوں کی فہرست 2025 میں 1,200 سے زائد پاکستانی محققین شامل ہوئے ہیں، جن میں 500 سے زیادہ کا تعلق پنجاب سے ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ این آر پی یو پروگرام انتہائی مسابقتی نوعیت کا حامل ہے، جس کے تحت رواں سال 1.26 ارب روپے سے زائد مالیت کے 142 تحقیقی منصوبوں کو گرانٹس فراہم کی گئی ہیں۔

  • نظرثانی شدہ کمپیوٹنگ نصاب کا اجرا، طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی مہارتوں سے آراستہ کرنے کی جانب اہم پیش رفت…….نظرثانی شدہ نصاب میں 14 تخصصی راستے (Specialization Pathways) شامل کیے گئے ہیں جن میں Artificial Intelligence، Data Science، Cybersecurity، Cloud Computing، Robotics، Internet of Things (IoT) اور Quantum Computing جیسے جدید شعبے شامل ہیں۔

    نظرثانی شدہ کمپیوٹنگ نصاب کا اجرا، طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی مہارتوں سے آراستہ کرنے کی جانب اہم پیش رفت…….نظرثانی شدہ نصاب میں 14 تخصصی راستے (Specialization Pathways) شامل کیے گئے ہیں جن میں Artificial Intelligence، Data Science، Cybersecurity، Cloud Computing، Robotics، Internet of Things (IoT) اور Quantum Computing جیسے جدید شعبے شامل ہیں۔

    اسلام آباد: چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے یورپی یونین کے TVET Sector Support Programme کے تحت برٹش کونسل کے زیرِ اہتمام منعقدہ “Partnership for Future Skills and Employment” تقریب میں نظرثانی شدہ کمپیوٹنگ نصاب (Revised Computing Curriculum) کا باضابطہ اجرا کر دیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی پروگرام نوجوانوں کو مستقبل کی ملازمتوں اور عالمی مسابقت کے لیے تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیا نصاب صنعت اور اکیڈمیا کے درمیان مضبوط روابط کو فروغ دے گا اور طلبہ کو عملی مہارتوں سے لیس کرے گا۔

    یہ نصاب جامعات، صنعت، ایکریڈیٹیشن اداروں اور دیگر اہم شراکت داروں سے وسیع مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ نصاب کو HEC Undergraduate Education Policy 2023 کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے اور اس میں قابلیت پر مبنی (Competency-Based) اور صنعت دوست کمپیوٹنگ تعلیم کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔

    نظرثانی شدہ نصاب میں 14 تخصصی راستے (Specialization Pathways) شامل کیے گئے ہیں جن میں Artificial Intelligence، Data Science، Cybersecurity، Cloud Computing، Robotics، Internet of Things (IoT) اور Quantum Computing جیسے جدید شعبے شامل ہیں۔

    نصاب کی نمایاں خصوصیات میں صنعت سے متعلقہ سرٹیفیکیشنز، انٹرن شپس اور صنعت کی نگرانی میں مکمل کیے جانے والے Capstone Projects بھی شامل ہیں، جن کا مقصد فارغ التحصیل طلبہ کی ملازمت کے مواقع بڑھانا اور انہیں عالمی معیار کی مسابقتی صلاحیتوں سے آراستہ کرنا ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان میں کمپیوٹنگ تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار کرنے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

  • جامعہ الازہر مصر میں شریعہ سائنسز پروگرام کے لیے پاکستانی طلبہ سے درخواستیں طلب

    جامعہ الازہر مصر میں شریعہ سائنسز پروگرام کے لیے پاکستانی طلبہ سے درخواستیں طلب

    اسلام آباد: مصری جامعہ الازہر میں پاکستان کے طلبہ کے لیے مصر کی معروف میں بیچلرز پروگرام برائے شریعہ سائنسز (اسلامک اسٹڈیز) میں داخلے کے لیے درخواستیں طلب کر لی گئی ہیں۔ یہ موقع ان طلبہ کے لیے فراہم کیا گیا ہے جو اسلامی علوم اور شریعہ کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔

    ہائر ا یجوکیشن کمیشن کے مطابق درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 29 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔ اہل پاکستانی اور آزاد جموں و کشمیر کے طلبہ مقررہ شرائط پوری کرتے ہوئے اس پروگرام کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

    اعلان کے مطابق امیدواروں کے پاس شریعہ سائنسز، اسلامیات، شہادۃ العالمیہ، درسِ نظامی یا دیگر مساوی اسلامی تعلیمی اسناد ہونا ضروری ہیں، جبکہ غیر متعلقہ شعبہ جات کے امیدوار اس پروگرام کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔

  • کیمبرج یونیورسٹی کا نیا اقدام: مستقبل میں ممکنہ “انجینیئرڈ وباؤں” کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پروگرام کا آغاز

    کیمبرج یونیورسٹی کا نیا اقدام: مستقبل میں ممکنہ “انجینیئرڈ وباؤں” کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پروگرام کا آغاز

    برطانیہ کی معروف تعلیمی درسگاہ کیمرج یونیورسٹی نے مستقبل میں ممکنہ طور پر انسانی طور پر تیار یا انجینیئرڈ وباؤں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اہم تحقیقاتی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کووِڈ-19 نے دنیا کو یہ واضح کر دیا ہے کہ عالمی سطح پر وبائیں کس قدر تباہ کن ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں اگر کوئی وبا قدرتی نہیں بلکہ انسانی مداخلت یا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات مزید خطرناک ہو سکتے ہیں۔

    نیا پروگرام اور اس کے مقاصد

    “انجینیئرڈ وبا رسک مینجمنٹ پروگرام” کا مقصد ایسے سماجی اور حیاتیاتی عوامل کو سمجھنا ہے جو مستقبل میں کسی انجینیئرڈ وبا کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت حکومت، اکیڈمیا اور صنعتی اداروں کے درمیان ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کیا جائے گا تاکہ اس خطرے کی بہتر پیش بندی اور روک تھام ممکن ہو سکے۔

    یہ منصوبہ خاص طور پر درج ذیل اہداف رکھتا ہے:

    • انجینیئرڈ وباؤں کے خطرات کے انتظام کے لیے تحقیقی بنیادیں تیار کرنا
    • برطانیہ کی پالیسی اور عملی صلاحیت کو بہتر بنانا
    • عالمی سطح پر اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا

    یہ پروگرام یونیورسٹی کے مرکز Centre for Research in the Arts, Humanities and Social Sciences (CRASSH) کے تحت چلایا جا رہا ہے۔

    خطرات میں اضافہ کیوں؟

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں جینیاتی انجینئرنگ، بایوٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی نے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی کشیدگی، شہری آبادی میں اضافہ، عالمی نقل و حرکت، اور غلط معلومات کا پھیلاؤ بھی وبائی خطرات کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

    پروگرام کی رہنما پروفیسر کلیئر برائنٹ نے کہا کہ مختلف شعبوں کے ماہرین کو ایک ساتھ کام کرنا ہوگا تاکہ ایسے خطرات کو نہ صرف سمجھا جا سکے بلکہ ان سے بچاؤ کے عملی طریقے بھی تیار کیے جا سکیں۔

    تحقیق کے اہم پہلو

    اس پروگرام کے چار بنیادی شعبے ہیں:

    1) سماجی عوامل کا مطالعہ:
    یہ دیکھا جائے گا کہ کون سے افراد یا گروہ مستقبل میں نقصان دہ حیاتیاتی ایجنٹس بنانے کی طرف جا سکتے ہیں اور اس کے پیچھے کیا محرکات ہو سکتے ہیں۔

    2) حیاتیاتی عوامل کی تحقیق:
    یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے گی کہ کون سے جراثیم زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں اور انسانی مدافعتی نظام ان پر کیسے ردعمل دیتا ہے۔

    3) خطرات کی ماڈلنگ:
    ممکنہ وباؤں کے دوران طبی وسائل، ویکسین، حفاظتی سامان اور دیگر ضروریات کی پیش بندی کے لیے جدید ماڈلز تیار کیے جائیں گے۔

    4) پالیسی میں جدت:
    پالیسی ساز اداروں کے ساتھ مل کر ایسے عملی حل تیار کیے جائیں گے جو بحران کی صورت میں فوری ردعمل میں مدد دے سکیں۔

    مالی معاونت اور مستقبل کا منصوبہ

    اس پروگرام کو 5.25 ملین پاؤنڈ کی فنڈنگ حاصل ہے اور اس کا مقصد مستقبل میں ایک مکمل “پینڈیمک رسک مینجمنٹ سینٹر” قائم کرنا ہے۔

    پروفیسر جوانا پیج کے مطابق کیمبرج یونیورسٹی میں مختلف شعبوں کی مہارت—جیسے جینیات، مدافعتی نظام، ریاضیاتی ماڈلنگ اور پالیسی اسٹڈیز—اس منصوبے کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

  • پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کلسٹر آن کلائمیٹ چینج کی جانب سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچر ٹریننگ سنٹر کے قیام لیے 10 ملین روپے مالیت پراجیکٹ منظور 

    پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کلسٹر آن کلائمیٹ چینج کی جانب سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچر ٹریننگ سنٹر کے قیام لیے 10 ملین روپے مالیت پراجیکٹ منظور 

    پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کلسٹر آن کلائمیٹ چینج کی جانب سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچر ٹریننگ سنٹر کے قیام کے لیے 10 ملین روپے مالیت پراجیکٹ منظور کیا گیا ہے جس پر عملدرآمد پروفیسر ڈاکٹر واجد نسیم جتوئی، ڈائریکٹر انٹرنیشنل سینٹر فار کلائمیٹ چینج، فوڈ سیکیورٹی اینڈ سسٹین ایبلٹی اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کریں گے۔ پروفیسر ڈاکٹر واجد نسیم جتوئی نےڈائریکٹوریٹ آف اورک کی جانب سے تعاون پر خصوصی   شکریہ ادا کیا۔  وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران  پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف  اور ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر پروفیسر ڈاکٹر تنویر حسین ترابی نے اس پراجیکٹ پر پروفیسر ڈاکٹر واجد نسیم جتوئی کو مبارکباد دی ہے۔

  • لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں اولمپک موومنٹ کے اعلیٰ سطحی وفد کا دورہ

    لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں اولمپک موومنٹ کے اعلیٰ سطحی وفد کا دورہ

    لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی (ایل سی ڈبلیو یو) نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے اشتراک سے اولمپک موومنٹ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی میزبانی کی، جس کا مقصد کھیلوں کی تعلیم، نوجوانوں کی ترقی اور طلبہ میں اولمپک اقدار کے فروغ کو اجاگر کرنا تھا۔

    وفد میں عارف سعید، ایشین اولمپک کونسل کے نمائندے اور ایشین گیمز آئچی۔ناگویا 2026 کی آرگنائزنگ کمیٹی کے حکام شامل تھے۔ اس موقع پر طلبہ، کھلاڑیوں اور کھیلوں کے منتظمین کو بین الاقوامی اسپورٹس رہنماؤں سے ملاقات اور کھیلوں کے ذریعے قیادت، ذاتی ترقی اور عالمی یکجہتی کے فروغ سے متعلق قیمتی معلومات حاصل کرنے کا موقع ملا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ یونیورسٹی خواتین کو بااختیار بنانے اور نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتیں اجاگر کرنے کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے فروغ کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔

    تقریب کو کھیلوں کے شعبے میں بین الاقوامی روابط کے فروغ اور نوجوان نسل میں اولمپک اقدار کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔