نظرثانی شدہ کمپیوٹنگ نصاب کا اجرا، طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی مہارتوں سے آراستہ کرنے کی جانب اہم پیش رفت…….نظرثانی شدہ نصاب میں 14 تخصصی راستے (Specialization Pathways) شامل کیے گئے ہیں جن میں Artificial Intelligence، Data Science، Cybersecurity، Cloud Computing، Robotics، Internet of Things (IoT) اور Quantum Computing جیسے جدید شعبے شامل ہیں۔

اسلام آباد: چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے یورپی یونین کے TVET Sector Support Programme کے تحت برٹش کونسل کے زیرِ اہتمام منعقدہ “Partnership for Future Skills and Employment” تقریب میں نظرثانی شدہ کمپیوٹنگ نصاب (Revised Computing Curriculum) کا باضابطہ اجرا کر دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی پروگرام نوجوانوں کو مستقبل کی ملازمتوں اور عالمی مسابقت کے لیے تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیا نصاب صنعت اور اکیڈمیا کے درمیان مضبوط روابط کو فروغ دے گا اور طلبہ کو عملی مہارتوں سے لیس کرے گا۔

یہ نصاب جامعات، صنعت، ایکریڈیٹیشن اداروں اور دیگر اہم شراکت داروں سے وسیع مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ نصاب کو HEC Undergraduate Education Policy 2023 کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے اور اس میں قابلیت پر مبنی (Competency-Based) اور صنعت دوست کمپیوٹنگ تعلیم کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
نظرثانی شدہ نصاب میں 14 تخصصی راستے (Specialization Pathways) شامل کیے گئے ہیں جن میں Artificial Intelligence، Data Science، Cybersecurity، Cloud Computing، Robotics، Internet of Things (IoT) اور Quantum Computing جیسے جدید شعبے شامل ہیں۔
نصاب کی نمایاں خصوصیات میں صنعت سے متعلقہ سرٹیفیکیشنز، انٹرن شپس اور صنعت کی نگرانی میں مکمل کیے جانے والے Capstone Projects بھی شامل ہیں، جن کا مقصد فارغ التحصیل طلبہ کی ملازمت کے مواقع بڑھانا اور انہیں عالمی معیار کی مسابقتی صلاحیتوں سے آراستہ کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان میں کمپیوٹنگ تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار کرنے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔


