کیمبرج یونیورسٹی کا نیا اقدام: مستقبل میں ممکنہ “انجینیئرڈ وباؤں” کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پروگرام کا آغاز

برطانیہ کی معروف تعلیمی درسگاہ کیمرج یونیورسٹی نے مستقبل میں ممکنہ طور پر انسانی طور پر تیار یا انجینیئرڈ وباؤں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اہم تحقیقاتی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کووِڈ-19 نے دنیا کو یہ واضح کر دیا ہے کہ عالمی سطح پر وبائیں کس قدر تباہ کن ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں اگر کوئی وبا قدرتی نہیں بلکہ انسانی مداخلت یا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات مزید خطرناک ہو سکتے ہیں۔
نیا پروگرام اور اس کے مقاصد
“انجینیئرڈ وبا رسک مینجمنٹ پروگرام” کا مقصد ایسے سماجی اور حیاتیاتی عوامل کو سمجھنا ہے جو مستقبل میں کسی انجینیئرڈ وبا کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت حکومت، اکیڈمیا اور صنعتی اداروں کے درمیان ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کیا جائے گا تاکہ اس خطرے کی بہتر پیش بندی اور روک تھام ممکن ہو سکے۔
یہ منصوبہ خاص طور پر درج ذیل اہداف رکھتا ہے:
- انجینیئرڈ وباؤں کے خطرات کے انتظام کے لیے تحقیقی بنیادیں تیار کرنا
- برطانیہ کی پالیسی اور عملی صلاحیت کو بہتر بنانا
- عالمی سطح پر اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا
یہ پروگرام یونیورسٹی کے مرکز Centre for Research in the Arts, Humanities and Social Sciences (CRASSH) کے تحت چلایا جا رہا ہے۔
خطرات میں اضافہ کیوں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں جینیاتی انجینئرنگ، بایوٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی نے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی کشیدگی، شہری آبادی میں اضافہ، عالمی نقل و حرکت، اور غلط معلومات کا پھیلاؤ بھی وبائی خطرات کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
پروگرام کی رہنما پروفیسر کلیئر برائنٹ نے کہا کہ مختلف شعبوں کے ماہرین کو ایک ساتھ کام کرنا ہوگا تاکہ ایسے خطرات کو نہ صرف سمجھا جا سکے بلکہ ان سے بچاؤ کے عملی طریقے بھی تیار کیے جا سکیں۔
تحقیق کے اہم پہلو
اس پروگرام کے چار بنیادی شعبے ہیں:
1) سماجی عوامل کا مطالعہ:
یہ دیکھا جائے گا کہ کون سے افراد یا گروہ مستقبل میں نقصان دہ حیاتیاتی ایجنٹس بنانے کی طرف جا سکتے ہیں اور اس کے پیچھے کیا محرکات ہو سکتے ہیں۔
2) حیاتیاتی عوامل کی تحقیق:
یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے گی کہ کون سے جراثیم زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں اور انسانی مدافعتی نظام ان پر کیسے ردعمل دیتا ہے۔
3) خطرات کی ماڈلنگ:
ممکنہ وباؤں کے دوران طبی وسائل، ویکسین، حفاظتی سامان اور دیگر ضروریات کی پیش بندی کے لیے جدید ماڈلز تیار کیے جائیں گے۔
4) پالیسی میں جدت:
پالیسی ساز اداروں کے ساتھ مل کر ایسے عملی حل تیار کیے جائیں گے جو بحران کی صورت میں فوری ردعمل میں مدد دے سکیں۔
مالی معاونت اور مستقبل کا منصوبہ
اس پروگرام کو 5.25 ملین پاؤنڈ کی فنڈنگ حاصل ہے اور اس کا مقصد مستقبل میں ایک مکمل “پینڈیمک رسک مینجمنٹ سینٹر” قائم کرنا ہے۔
پروفیسر جوانا پیج کے مطابق کیمبرج یونیورسٹی میں مختلف شعبوں کی مہارت—جیسے جینیات، مدافعتی نظام، ریاضیاتی ماڈلنگ اور پالیسی اسٹڈیز—اس منصوبے کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

