صرف ذہانت کامیابی کی ضمانت نہیں، دیگر شخصی خصوصیات بھی ضروری ہیں: ماہرِ نفسیات

لندن: معروف ماہرِ نفسیات ایڈ رین فرن ھام نے کہا ہے کہ صرف اعلیٰ ذہانت تعلیمی اور پیشہ ورانہ کامیابی کے لیے کافی نہیں ہوتی، بلکہ کامیابی کے حصول میں متعدد شخصی خصوصیات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اپنے حالیہ مضمون میں انہوں نے واضح کیا کہ کامیابی کا اندازہ علمی اعزازات، تحقیقی انعامات اور تعلیمی اداروں میں اعلیٰ عہدوں تک رسائی سے لگایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق بعض عوامل ذہانت کے مثبت اثرات کو کم کر دیتے ہیں، جبکہ کچھ خصوصیات کامیابی کے امکانات میں اضافہ کرتی ہیں۔
مضمون کے مطابق حد سے زیادہ باریک بینی، وسواسی رویے، جذباتی ذہانت کی کمی اور مختلف قسم کی توجہ بٹانے والی سرگرمیاں کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ کا کہنا ہے کہ ایسے افراد اکثر تخلیقی صلاحیتوں اور مؤثر سماجی روابط سے محروم رہ جاتے ہیں، جس سے ان کی پیشہ ورانہ ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔دوسری جانب بلند حوصلہ، مقابلے کا جذبہ اور ثابت قدمی کو کامیابی کے اہم محرکات قرار دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق وہ افراد جو مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں اور اپنے اہداف کے حصول کے لیے مسلسل محنت کرتے ہیں، کامیابی کے زیادہ امکانات رکھتے ہیں۔

ماہرِ نفسیات نے زور دیا کہ تعلیمی اور پیشہ ورانہ میدان میں کامیابی کے لیے صرف پر انحصار کافی نہیں، بلکہ جذباتی ذہانت، سماجی مہارتیں، محنت، توجہ اور مستقل مزاجی بھی ناگزیر ہیں۔……..ایڈ رین فرن ھام