۔کاکروچ تحریک اہم میڈیکل کالجوں اور سرکاری ملازمتوں کے داخلہ امتحانات کے بار بار لیک ہونے کے خلاف شروع ہوئی تھی جس کے باعث بعض طالب علموں نے خودکشی تک کر لی……..مظاہرین کے طرف کھانا بھی بھی باقاعدگی سے پہنچ رہا ہے،بجھوانے والے ملک بھر میں موجود
نھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاج کرنے والوں کے پاس کھانا بھی اسی قدر باقاعدگی سے پہنچ رہا ہے جس طرح مظاہرین پہنچ رہے ہیں ، ہر چند منٹ بعد موٹر سائیکلوں پر سوار ڈلیوری رائیڈرز برگرز، سنیکس اور بوتل بند پانی کے تھیلے لے کر احتجاج کے مقام کے باہر رُک جاتے ہیں،رضاکار یہ کھانا وصول کرتے ہیں اور عطیہ کیے گئے دوسرے سامان کے ساتھ ترتیب سے رکھ دیتے اور پھر مظاہرین میں تقسیم کر تے ہیں۔

اردو نیوز نے اے پی کے حوالے سے بتایا کہ بھارت بھر سے کاکروچ جنتا پارٹی کے حامی آن لائن فوڈ ڈلیوری ایپس کے ذریعے کھانے کا آرڈر دے کر دارالحکومت میں دھرنا دیے ہوئے مظاہرین کی مدد کر رہے ہیں جس سے کاکروچ تحریک کو تقویت مل رہی ہے،کھانے کی یہ مسلسل آمد اس بات کی واضح علامت بن چکی ہے کہ نوجوانوں کی یہ تحریک تیزی سے حمایت حاصل کر رہی اور وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر اُبھری ہے۔کھانا بھیجنے والے بہت سے لوگ کبھی نئی دہلی کے احتجاج کے مقام پر نہیں گئے اور نہ ہی ایک دوسرے کو جانتے ہیں، وہ براہِ راست مظاہرین کے لیے کھانا بھیج دیتے ہیں اور اکثر ڈلیوری رائیڈرز کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ یہ کسی بھی مظاہرہ کرنے والے کے حوالے کر دیں۔24 برس کے شکتی وششت کے مطابق ہر ڈلیوری اس بات کی یاد دہانی ہوتی ہے کہ یہ احتجاج صرف سڑکوں پر موجود لوگوں تک محدود نہیں۔

ان کے بقول ہر کھانا اس شخص کی حمایت کی علامت ہے جو خود وہاں کسی وجہ سے موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو شاید یہاں نہ آ سکیں لیکن وہ اپنا پیار بھیج رہے ہیں۔کاکروچ تحریک اہم میڈیکل کالجوں اور سرکاری ملازمتوں کے داخلہ امتحانات کے بار بار لیک ہونے کے خلاف شروع ہوئی تھی جس کے باعث بعض طالب علموں نے خودکشی تک کر لی۔بعد ازاں یہ تحریک حکومت سے جوابدہی کے وسیع مطالبے میں تبدیل ہو گئی اور ہزاروں افراد کو نئی دہلی کے جنتر منتر میں ہونے والے مظاہروں کی طرف کھینچ لائی جو اس تحریک کا مرکزی مقام بن چکا ہے۔پولیس نے پیر کو مظاہرین کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا لیکن مظاہرین اپنے موقف پر قائم رہے۔اس تشدد نے عوامی غصے کو مزید بھڑکا دیا اور اب اس احتجاج میں طلبہ کے ساتھ نوجوان پروفیشنلز، والدین اور دیگر لوگ بھی شامل ہو رہے ہیں۔شہریوں کی اس بڑھتی ہوئی تعداد کو خوراک کی ضرورت بھی ہے اور عطیات کی مسلسل فراہمی اس احتجاجی کیمپ کو برقرار رکھنے میں مدد دے رہی ہے۔