افغان میڈیکل طلبہ کو واپس بھیجنے کا حکم معطل، لاہور ہائیکورٹ نے تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دے دی
لاہور: 11 ستمبر 2026: لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے پاکستانی میڈیکل کالجز میں زیر تعلیم افغان طلبہ کو افغانستان واپس جانے کی ہدایت دینے والے احکامات پر عملدرآمد معطل کر دیا ہے۔
جسٹس خالد اسحاق نے یہ حکم 13 افغان میڈیکل طلبہ کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران جاری کیا۔ درخواست گزار طلبہ لاہور کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، شیخ خلیفہ بن زاید النہیان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اور سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سمیت مختلف طبی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔
طلبہ نے عدالت کو بتایا کہ پی ایم ڈی سی نے یکم ستمبر کو جاری نوٹیفکیشن کے ذریعے پاکستان میں زیر تعلیم افغان میڈیکل طلبہ کو ’’افغانستان واپس جانے‘‘ کی ہدایت کی، جبکہ میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کو موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان طلبہ کو داخلہ یا پلیسمنٹ دینے سے بھی روک دیا گیا تھا۔ اس سے قبل 31 جولائی کو بھی پی ایم ڈی سی نے اسی نوعیت کی ہدایات جاری کی تھیں۔درخواست گزاروں کے وکیل اسد جمال نے مؤقف اختیار کیا کہ طلبہ کو مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع دیے بغیر ان کے خلاف کارروائی کی گئی، جو ان کے بنیادی حقوق، خصوصاً تعلیم، زندگی اور انسانی وقار کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی نے اپنے قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔
پی ایم ڈی سی کے وکیل حارث عظمت نے احکامات معطل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ قومی سلامتی سے متعلق ہے۔ تاہم عدالت نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے 31 جولائی اور یکم ستمبر کے دونوں احکامات پر عملدرآمد معطل کر دیا۔عدالت نے متعلقہ طلبہ کو اپنی تعلیم جاری رکھنے، امتحانات میں شرکت کرنے اور ہاسٹلز میں واپس جانے کی اجازت بھی دے دی۔لاہور ہائیکورٹ نے پی ایم ڈی سی، وزارت صحت اور متعلقہ میڈیکل جامعات و کالجز کے وائس چانسلرز سمیت تمام فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
طلبہ کا مؤقف
13 درخواست گزاروں میں سات خواتین اور چھ مرد شامل ہیں۔ طلبہ نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ایم ڈی سی کی ہدایات پر انہیں اپنے کالجز سے نکال دیا گیا اور ہاسٹل کی سہولت بھی ختم کر دی گئی، حالانکہ متعلقہ اداروں کے پاس انہیں تعلیم سے محروم کرنے کا قانونی اختیار نہیں تھا۔درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ پی ایم ڈی سی ایکٹ 2023 کے تحت کونسل کے اختیارات آئین، قانون اور پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تابع ہیں، اس لیے انہیں من مانے انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
ایک درخواست گزار نیلوفر نیک زاد نے بتایا کہ اس نے افغانستان میں دو سال تک میڈیکل تعلیم حاصل کی، تاہم طالبان کی جانب سے خواتین کی تعلیم پر عائد پابندیوں کے باعث اسے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی۔ بعدازاں وہ پاکستان میں میڈیکل تعلیم جاری رکھنے کے لیے داخل ہوئی۔طلبہ نے کہا کہ اچانک کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں انہیں ہاسٹلز سے بھی نکال دیا گیا، جس سے وہ رہائش سے محروم ہوگئے اور ان کا تعلیمی مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگیا۔
متعدد درخواست گزار ہائر ایجوکیشن کمیش کے زیر اہتمام علامہ اقبال اسکالرشپ پروگرام کے تحت پاکستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جولائی 2025 میں ایچ ای سی نے تقریباً 350 افغان طلبہ کا استقبال کیاگیا تھا جو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے پاکستان پہنچے تھے۔
دوسری جانب دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ حکومت نے تمام افغان طلبہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم نہیں دیا۔ ترجمان کے مطابق درست ویزا رکھنے والے اور تسلیم شدہ ڈگری پروگراموں میں زیر تعلیم افغان طلبہ اپنی تعلیم مکمل کر سکتے ہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی پی ایم ڈی سی کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف لاہور میں تقریباً 100 افغان میڈیکل و ڈینٹل طلبہ متاثر ہوسکتے ہیں۔
