دنیا کی تقریباً نصف آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جہاں قرضوں کی ادائیگی پر صحت اور تعلیم سے زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے

0
239180a7-0969-43e4-ac71-c99b45f4b34c

سوال یہ نہیں کہ تعلیم اور عوامی خدمات کے لیے پیسہ موجود ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ حکومتیں اپنی رقم کہاں خرچ کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں

دنیا کے بیشتر حصوں میں بڑھتے ہوئے قرضوں کا بوجھ ترقی پذیر ممالک کو تعلیم کے شعبے میں اخراجات کم کرنے پر مجبور کر رہا ہے، جس کے بچوں کے مستقبل پر سنگین اور تشویش ناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (UNCTAD) کی 2025ء کی تحقیق کے مطابق دنیا کی 3.4 ارب سے زائد آبادی، یعنی تقریباً نصف دنیا، ایسے ممالک میں رہتی ہے جہاں حکومتیں قرضوں کی ادائیگی پر صحت اور تعلیم جیسے اہم عوامی شعبوں سے زیادہ رقم خرچ کر رہی ہیں۔ اس صورتِ حال سے لاکھوں بچوں کے تعلیم کے بنیادی حق کو خطرات لاحق ہیں۔

جوہانسبرگ میں گزشتہ ہفتے ایجوکیشن انٹرنیشنل کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے ادارے کے صدر موگ وینا مالولیکے نے کہا کہ عوامی شعبوں کی مالی معاونت کا موجودہ بحران محض اتفاق نہیں بلکہ سیاسی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا، “سوال یہ نہیں کہ تعلیم اور عوامی خدمات کے لیے پیسہ موجود ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ حکومتیں اپنی رقم کہاں خرچ کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں۔”

ان کے مطابق گلوبل ساؤتھ کے ممالک تعلیم کے مقابلے میں قرضوں کی ادائیگی پر کہیں زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں۔ وہ رقم جو اسکولوں کی تعمیر، اساتذہ کی بھرتی اور طلبہ کی معاونت پر خرچ ہونی چاہیے، قرض خواہوں کو منتقل ہو رہی ہے۔ دوسری جانب ہر سال اربوں ڈالر غیر قانونی مالیاتی منتقلی، ٹیکس سے بچاؤ اور منافع کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنے کے ذریعے افریقی براعظم سے باہر چلے جاتے ہیں۔

نقصان دہ دوہرا معیار

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں بلند قرضوں کا سامنا کرنے والے ممالک کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایسے ممالک کی تعداد 2011ء میں 22 سے بڑھ کر 2022ء میں 59 ہو گئی۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اخراجات بھی قرار دیے گئے ہیں۔تاہم ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں کا یہ بوجھ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب نجی قرض دہندگان غیر ضروری طور پر بلند شرحِ سود وصول کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افریقی ممالک کو قرض لینے کی لاگت کے طور پر اوسطاً امریکا کے مقابلے میں چار گنا اور کئی یورپی ممالک کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ان مالیاتی عدم مساوات کے تباہ کن اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتِ حال کے عالمی معیشت پر انتہائی سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ “کچل دینے والا قرض بحران” زیادہ تر غریب ترقی پذیر ممالک تک محدود ہے، اس لیے اسے عالمی مالیاتی نظام کے لیے فوری اور نظامی خطرہ نہیں سمجھا جاتا، لیکن یہ تصور درست نہیں۔ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے قرضوں کا بوجھ ممالک کو پائیدار ترقی میں سرمایہ کاری سے روک رہا ہے۔

گوتریس کے مطابق اس وقت عالمی مالیاتی اداروں کے تخمینوں میں 36 ممالک قرضوں کے شدید دباؤ کا شکار یا اس کے بلند خطرے سے دوچار ہیں۔ مزید 16 ممالک بھی قرض خواہوں کو ناقابلِ برداشت شرحِ سود ادا کر رہے ہیں۔ یوں ایسے ممالک کی مجموعی تعداد 52 ہو جاتی ہے، جو ترقی پذیر دنیا کے تقریباً 40 فیصد کے برابر ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق جب تک یہ ممالک قرضوں کی ادائیگی کی بھاری ذمہ داریوں میں جکڑے رہیں گے، ان کے لیے صحت، تعلیم اور پائیدار ترقی کے لیے ضروری دیگر شعبوں میں مناسب سرمایہ کاری کرنا انتہائی مشکل رہے گا۔

فرسودہ مالیاتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت

یہ رپورٹ ایجوکیشن انٹرنیشنل اور ایکشن ایڈ کی ایک حالیہ تحقیق کے نتائج سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اب بھی ممالک کو عوامی خدمات کے بجائے قرضوں کی ادائیگی کو ترجیح دینے کا مشورہ دیتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اگرچہ آئی ایم ایف بہتر تعلیمی نتائج کی حمایت کا دعویٰ کرتا ہے، تاہم اس نے اپنے ملکی سطح کے مشوروں کو ان نئی ترجیحات کے مطابق تبدیل نہیں کیا۔ اس کے علاوہ ہر ملک کے مخصوص حالات کو بھی مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا جاتا۔اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ ان خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے۔ اس کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی مالیاتی نظام اب بھی قرضوں کی واپسی کو بنیادی ترجیح سمجھتا ہے اور پائیدار ترقی کے لیے عوامی شعبوں میں سرمایہ کاری کو وہ اہمیت حاصل نہیں جو ہونی چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق اس فرسودہ نظام سے نکل کر ایسے مالیاتی ماڈل کی طرف بڑھنے کے لیے عالمی مالیاتی نظام کو زیادہ جامع اور ترقی پر مبنی بنانا ہوگا۔ ترقی پذیر ممالک کو بھی عالمی مالیاتی اداروں کے انتظام اور فیصلہ سازی میں مؤثر نمائندگی دی جانی چاہیے تاکہ صرف ترقی یافتہ ممالک کے مفادات ہی نہیں بلکہ ترقی پذیر دنیا کے مفادات بھی شامل کیے جا سکیں۔

ایجوکیشن انٹرنیشنل کے صدر موگ وینا مالولیکے نے بھی ان سفارشات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آج کا آئی ایم ایف اب بھی گلوبل نارتھ کی حکومتوں، قرض خواہوں اور کثیرالقومی کمپنیوں کے مفادات کی خدمت کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نظام ان کے استحصال کو ممکن بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے اور یہ امر قابلِ افسوس ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے کفایت شعاری کی سفارشات امیر ممالک پر اسی طرح لاگو نہیں ہوتیں۔

آگے بڑھنے کا راستہ

رپورٹ میں ترقی پذیر ممالک کو عالمی مالیاتی اداروں میں زیادہ مؤثر آواز دینے کے ساتھ ساتھ تکنیکی معاونت کے بہتر ماڈلز اپنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں ایک ممکنہ طریقہ “قرض کے بدلے تعلیم” (Debt-for-Education) کا پروگرام ہے، جسے یونیسکو بھی فروغ دے رہا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت کسی ملک کے قرض کا ایک حصہ اس شرط پر معاف کیا جا سکتا ہے کہ وہ بچ جانے والی رقم تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کرے۔

اس طرح تعلیم کے شعبے کو کئی سال تک ترجیحی بنیادوں پر مالی وسائل فراہم کیے جا سکتے ہیں، جو اقوام متحدہ کی رپورٹ میں نشاندہی کیے گئے ممالک کے لیے خاص طور پر اہم ثابت ہو سکتا ہے۔تاہم یونیسکو کے مطابق قرض کے بدلے تعلیم کے ایسے پروگرام وسیع تر قرض معافی کا متبادل نہیں ہیں۔ قرضوں کے بحران کے بنیادی اسباب، جن میں نجی قرض دہندگان کے غیر منصفانہ مالی مطالبات اور نوآبادیاتی دور سے جاری وسائل کے استحصال کے نظام شامل ہیں، کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

موگ وینا مالولیکے نے زور دیا کہ دنیا کو قلت کی سیاست کو مسترد کرنا ہوگا اور اس تصور کو چیلنج کرنا ہوگا کہ تعلیم اور عوامی خدمات کے لیے پیسہ موجود نہیں۔انہوں نے کہا، “ہمیں ان ترجیحات کو چیلنج کرنا ہوگا جو اسکولوں سے پہلے ہتھیاروں، بچوں سے پہلے قرض خواہوں اور اساتذہ سے پہلے ٹیکس میں چھوٹ کو ترجیح دیتی ہیں۔ ہمیں ایسی مضبوط عالمی تحریک کی تعمیر جاری رکھنا ہوگی جو اس بات کو یقینی بنائے کہ معیاری سرکاری تعلیم صرف ایک وعدہ نہ رہے بلکہ دنیا کے ہر بچے کے لیے مکمل طور پر مالی اعانت کے ساتھ حقیقت بنے۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may have missed