اسپین: یورپ کی اگلی بڑی بین الاقوامی تعلیمی منزل بننے کی جانب تیزی سے گامزن۔۔۔۔۔۔۔۔اسپین میں 445 سے زائد بین الاقوامی اسکول موجود ہیں جو 28 سے زیادہ شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ تقریباً 35 اسکول بورڈنگ کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں،
ا بین الاقوامی طلبہ کے لیے تعلیمی اختیارات بڑھنے کے ساتھ اسپین خود کو یورپ کی ایک نمایاں بین الاقوامی تعلیمی منزل کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔ایک نئی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، بیرونِ ملک تعلیم کے لیے خاندانوں کی ترجیحات تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔ ماضی میں برطانیہ کو تعلیمی وقار، سوئٹزرلینڈ کو اشرافیہ کے بورڈنگ اسکولوں، کینیڈا کو امیگریشن مواقع اور امریکا کو عالمی معیار کی جامعات کے لیے ترجیح دی جاتی تھی۔ تاہم اب خاندان صرف یونیورسٹی کی شہرت یا رینکنگ نہیں دیکھتے بلکہ تعلیمی اخراجات، تحفظ، معیارِ زندگی، روزگار، زبان، مستقبل کے کیریئر اور طویل مدتی مواقع کو بھی اہمیت دے رہے ہیں۔
اسپین میں بین الاقوامی اسکولوں کی تعداد میں اضافہ
اسپین اس بدلتی ہوئی ترجیحات سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ملک میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران بین الاقوامی اسکولوں کے شعبے میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ کے مطابق اسپین میں 445 سے زائد بین الاقوامی اسکول موجود ہیں جو 28 سے زیادہ شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ تقریباً 35 اسکول بورڈنگ کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں، جس سے غیر ملکی طلبہ کے لیے اسپین میں کم عمری سے تعلیم حاصل کرنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔
تعلیم کے ساتھ کھیلوں پر بھی توجہ
اسپین کے متعدد بورڈنگ اسکول روایتی تعلیم کے ساتھ فٹ بال، ٹینس، گالف، تیراکی اور سیلنگ جیسے کھیلوں کے خصوصی پروگرام بھی پیش کر رہے ہیں۔اس ماڈل کے تحت باصلاحیت طلبہ تعلیم اور کھیل دونوں کو بیک وقت جاری رکھ سکتے ہیں۔ پیشہ ورانہ کوچنگ اور سال بھر تربیت کے مواقع بعض طلبہ کے لیے مستقبل میں امریکا اور دیگر ممالک کی یونیورسٹی اسکالرشپس تک رسائی بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
کم عمری میں اسپین آنے کا فائدہ
ماہرین کے مطابق اگر کوئی طالب علم 13 یا 14 سال کی عمر میں اسپین آتا ہے تو یونیورسٹی تک پہنچنے سے پہلے اسے کئی سال Spanish زبان، مقامی ثقافت اور تعلیمی نظام سے واقف ہونے کے لیے مل جاتے ہیں۔اس طرح مکمل کرنے کے وقت طالب علم اسپین میں ایک نئے غیر ملکی کے بجائے پہلے ہی وہاں کے تعلیمی ماحول کا حصہ بن چکا ہوتا ہے۔

اسپین کی جامعات میں بین الاقوامی طلبہ میں اضافہ
اسپین کا اعلیٰ تعلیمی نظام بھی ملک کی کشش میں اضافہ کر رہا ہے۔ اسپین کی سرکاری اور نجی جامعات میں 1.8 ملین سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 2023/24 میں 149,280 بین الاقوامی طلبہ اسپین کی جامعات میں داخل تھے، جو مجموعی یونیورسٹی enrolment کا تقریباً 11.5 فیصد بنتے ہیں۔ملک میں 91 جامعات موجود ہیں، جہاں بین الاقوامی طلبہ بزنس، فنانس، انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، میڈیسن، ڈینٹسٹری، قانون، آرکیٹیکچر، بین الاقوامی تعلقات، ٹورزم اور اسپورٹس سائنسز سمیت مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
کم اخراجات اور بہتر معیارِ زندگی
اسپین کی ایک بڑی کشش اس کے نسبتاً مناسب رہائش کم اخراجات اور بہتر اروزگار کو قرار دیا جا رہا ہے۔موسم،انٹر نیشنل فضائی رابطے اور ہیلتھ کیر، پر توجہ بھی اسے خاندانوں اور طلبہ کے لیے پرکشش بناتی ہے۔اس کے علاوہ اسپین کی جغرافیائی حیثیت اسے یورپ، لاطینی امریکا اور شمالی افریقہ کے درمیان ایک اہم مقام فراہم کرتی ہے۔
اسپین اور امریکا اور برطانیہ کا متبادل نہیں بن رہا
رپورٹ کے مطابق اسپین کا ابھرنا اس بات کا اشارہ نہیں کہ وہ برطانیہ، امریکا یا سوئٹزرلینڈ کو مکمل طور پر replace کر دے گا۔ یہ ممالک بین الاقوامی تعلیم میں اپنی اہمیت برقرار رکھیں گے۔تاہم اسپین اب صرف ایک متبادل نہیں رہا بلکہ خود ایک ترجیحی تعلیمی منزل بنتا جا رہا ہے۔اسپین کا نیا تعلیمی ماڈل ایک مکمل راستہ پیش کرتا ہے:
International School → Boarding → English + Spanish → University → Global Career
