Uncategorized

ایچ ای سی کے زیرِ اہتمام معیاری کمپیوٹنگ تعلیم اور مستقبل کی مہارتوں پر قومی ورکشاپ……….جس میں پالیسی سازوں، وائس چانسلرز، ماہرین تعلیم، صنعت، ایکریڈیٹیشن اداروں، ٹیکنالوجی ماہرین اور طلبہ نے شرکت کی۔

اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں معیاری کمپیوٹنگ تعلیم اور مستقبل کی مہارتوں کے موضوع پر قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں پالیسی سازوں، وائس چانسلرز، ماہرین تعلیم، صنعت، ایکریڈیٹیشن اداروں، ٹیکنالوجی ماہرین اور طلبہ نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں کمپیوٹنگ تعلیم کو مزید مؤثر بنانے اور طلبہ کو مستقبل کی پیشہ ورانہ ضروریات کے لیے تیار کرنے پر غور کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایچ ای سی کے ممبر (ریسرچ، ڈویلپمنٹ اینڈ انوویشن) پروفیسر ڈاکٹر حبیب بخاری نے کہا کہ ورکشاپ کا مقصد طلبہ، والدین، جامعات اور صنعت میں معیاری کمپیوٹنگ تعلیم، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، مستقبل کی مہارتوں اور روزگار کے مواقع کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی نصاب کو جدید بنانے، معیار کی ضمانت اور جامعات و صنعت کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔

ورکشاپ میں وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ایڈیشنل سیکریٹری حسن ثقلین نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس کے علاوہ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ، پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن، نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیٹیشن کونسل، ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان، وائس چانسلرز، اساتذہ، طلبہ اور ایچ ای سی حکام بھی شریک ہوئے۔چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اپنے خطاب میں ایچ ای سی کی جانب سے کمپیوٹنگ تعلیم کے شعبے میں کیے جانے والے اہم اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کمپیوٹنگ کریکولم 2025، مصنوعی ذہانت (AI) کے انضمام، آؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن (OBE) اور نیشنل اسکلز کمپیٹینسی ٹیسٹ (NSCT) کو اہم اصلاحات قرار دیا، جن کا مقصد صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ گریجویٹس تیار کرنا اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔

ورکشاپ کے دوران پینل ڈسکشن بھی ہوئی، جس کی نظامت ایچ ای سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر (کریکولم) ہدایۃ اللہ کاکڑ نے کی۔ پینل میں صنعت کی جانب سے مطلوبہ مہارتوں، جدید ٹیکنالوجیز سے ہم آہنگ نصاب، ایکریڈیٹیشن، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، مشترکہ تحقیق، انٹرن شپ اور پروفیشنل سرٹیفکیشنز سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ جامعات اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط قائم کرکے طلبہ کی عملی مہارتوں اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *