8792753f-4f24-46fd-81b9-346fd47c5b72

لاہور: عالمی طبی ماہرین نے ذیابیطس کی ایک ایسی نئی قسم کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیا ہے جو بالخصوص نوجوان اور دبلی پتلی افراد کو متاثر کرتی ہے۔ اس نئی قسم کو ’ٹائپ 5 ذیابیطس‘ کا نام دیا گیا ہے۔اس بیماری کی نشاندہی پہلی مرتبہ 1955 میں جمیکا میں ہوئی تھی، جب 13 ایسے مریض ڈاکٹر فلپ ہیو جونز کے کلینک پہنچے جن میں ذیابیطس کی علامات تو موجود تھیں، تاہم ان کی بیماری روایتی ٹائپ 1 یا ٹائپ 2 ذیابیطس سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ ڈاکٹر ہیو جونز نے اس کیفیت کو ’ٹائپ J‘ کا نام دیا، لیکن یہ اصطلاح زیادہ عرصے تک استعمال نہ ہو سکی۔

تقریباً تین دہائیوں بعد عالمی ادارۂ صحت نے اسے غذائی قلت سے متعلق ذیابیطس کے طور پر درجہ بند کیا، تاہم 1999 میں شواہد کی کمی کے باعث یہ درجہ بندی ختم کر دی گئی۔اب تقریباً 70 سال بعد انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن نے اس بیماری کو ایک نئی شناخت دیتے ہوئے ’ٹائپ 5 ذیابیطس‘ کا نام دیا ہے۔

ٹائپ 5 ذیابیطس کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق ٹائپ 5 ذیابیطس کا تعلق غذائی قلت اور جسمانی نشوونما میں کمی سے ہو سکتا ہے۔ اس کے شکار افراد عموماً کم وزن ہوتے ہیں اور ان کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) 18.5 سے کم ہو سکتا ہے۔

اس بیماری کی علامات بڑی حد تک ٹائپ 1 ذیابیطس سے ملتی جلتی ہیں، جن میں:

  • شدید پیاس لگنا
  • بار بار پیشاب آنا
  • سر درد
  • دھندلا نظر آنا
  • تھکن
  • زخموں کا دیر سے بھرنا
  • وزن میں کمی اور بھوک شامل ہیں۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ افراد ٹائپ 5 ذیابیطس کا شکار ہو سکتے ہیں، تاہم ان میں سے بڑی تعداد کو اپنی بیماری کا علم نہیں۔ زیادہ تر متاثرہ افراد کم اور متوسط آمدنی والے ممالک سے تعلق رکھنے والے دبلی پتلی نوعمر یا نوجوان بالغ افراد ہو سکتے ہیں۔

ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 سے کیسے مختلف ہے؟

ٹائپ 1 ذیابیطس میں جسم کا مدافعتی نظام انسولین بنانے والے خلیوں پر حملہ کرتا ہے، جبکہ ٹائپ 2 میں جسم انسولین کو مؤثر انداز میں استعمال نہیں کر پاتا۔

اس کے برعکس، ماہرین کے مطابق ٹائپ 5 کے مریض کچھ مقدار میں انسولین بناتے رہتے ہیں اور عام طور پر انسولین کے خلاف مزاحمت بھی ٹائپ 2 جیسی نہیں ہوتی۔ تاہم غذائی قلت کے باعث لبلبہ پوری طرح نشوونما نہ پا سکنے کی وجہ سے مطلوبہ مقدار میں انسولین پیدا نہیں کر پاتا۔

اسی لیے ایسے مریضوں میں ٹائپ 1 یا ٹائپ 2 کی طرح معمول کے مطابق انسولین کا استعمال ہمیشہ مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔

نئی تحقیق نے بیماری کی شناخت کو تقویت دی

تحقیق میں معلوم ہوا کہ تقریباً دو تہائی افراد میں ٹائپ 1 ذیابیطس سے وابستہ مخصوص خودکار مدافعتی علامات موجود نہیں تھیں۔ مزید جانچ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے جسم میں انسولین کی معمولی لیکن قابلِ پیمائش مقدار اب بھی بن رہی تھی۔محققین کے مطابق نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان مریضوں میں ذیابیطس کی ایک الگ قسم موجود ہو سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹائپ 5 ذیابیطس کی غلط یا نامکمل تشخیص نے ممکنہ طور پر دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے علاج اور صحت کو متاثر کیا ہے۔ اس بیماری کی بہتر تشخیص، اس کے اسباب اور مؤثر علاج کے لیے مزید تحقیق کیضرورت ہے۔طبی ماہرین غذائیت سے بھرپور، زیادہ پروٹین والی غذا، جس میں زنک، بی وٹامنز اور میگنیشیم شامل ہوں، کے ممکنہ فوائد کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ بعض مریضوں میں کم مقدار میں انسولین استعمال کی جا سکتی ہے، تاہم اس کا فیصلہ طبی نگرانی میں کیا جانا ضروری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may have missed