پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے علیٰ تعلیمی اداروں کے نئے ریگولیٹری فریم ورک کی مخالفت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجوزہ نظام میں صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشنز کے آئینی اور قانونی کردار کو مناسب طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔مجوزہ فریم ورک میں وابستہ کالجوں کی ایکریڈیٹیشن اور کوالٹی ایشورنس سے متعلق کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں،
لاہور/اسلام آباد: پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام اور ایکریڈیٹیشن سے متعلق ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے مجوزہ ریگولیٹری فریم ورک کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ نظام میں صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشنز کے آئینی اور قانونی کردار کو مناسب طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔
PHEC چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان ڈاکٹر ضیاء الحق کو ارسال کردہ خط میں کہا کہ پنجاب کمیشن نے مجوزہ مسودے کا آئینی، قانونی، ریگولیٹری اور عملی پہلوؤں سے جائزہ لیا ہے۔ سفارشات کو 16 جولائی کو PHEC کے 46ویں اجلاس میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے نظرثانی شدہ فریم ورک میں شامل کرانے کے لیے بھرپور کوششیں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
پنجاب ہائر ایجوکیشن نےنئی یونیورسٹی کے قیام کے لیے 1.6 ارب روپے اور انسٹی ٹیوٹ یا سب کیمپس کے لیے 40 کروڑ روپے کی مجوزہ یکساں مالی شرط پر بھی اعتراض کیا۔ کمیشن کے مطابق لاہور جیسے بڑے شہروں اور لیہ و بھکر جیسے چھوٹے یا دور دراز شہروں میں قائم ہونے والے اداروں کے لیے یکساں مالی معیار قابلِ عمل اور منصفانہ نہیں۔ اسی طرح سینکڑوں پروگرامز رکھنے والی جامعہ اور صرف چند مخصوص پروگرامز چلانے والے ادارے پر یکساں مالی شرائط عائد نہیں ہونی چاہئیں۔
کمیشن نے سفارش کی کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی تقسیم کو واضح طور پر تسلیم کیا جائے اور صوبائی قانون کے تحت قائم جامعات کی ضابطہ کاری کے لیے متعلقہ صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشنز کو قانونی ریگولیٹری اتھارٹی کا درجہ دیا جائے۔PHEC کے مطابق وفاقی HEC کو قومی سطح پر تعلیمی معیار مقرر کرنے، پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کا کردار ادا کرنا چاہیے، جبکہ صوبائی جامعات کے قیام، ایکریڈیٹیشن، معائنہ، نگرانی اور ادارہ جاتی تعمیل کے معاملات متعلقہ صوبائی کمیشنز کے ذریعے انجام دیے جانے چاہئیں۔

کمیشن نے سنگل ریگولیٹری ونڈو قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے، جس کے تحت صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشنز کی جانب سے کیے گئے معائنے اور ادارہ جاتی جائزوں کو وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان تسلیم کرے، تاکہ ضابطہ کاری کے دوہرے عمل اور جامعات پر اضافی انتظامی بوجھ سے بچا جا سکے۔ نے مالی شرائط کو مرحلہ وار نافذ کرنے اور تدریسی، تحقیقی اور خصوصی نوعیت کے اداروں کے لیے الگ الگ مالی معیار مقرر کرنے کی سفارش کی۔ زمین کی موجودہ شرط، شہری علاقوں میں تین ایکڑ اور مضافاتی علاقوں میں سات ایکڑ، برقرار رکھنے یا اضافی ضرورت کی صورت میں مرحلہ وار عملدرآمد کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ لیز پر حاصل زمین کے ذریعے ادارہ چلانے کی موجودہ سہولت برقرار رکھنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ مجوزہ فریم ورک میں وابستہ کالجوں کی ایکریڈیٹیشن اور کوالٹی ایشورنس سے متعلق کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں، لہٰذا ان کے لیے جامع ریگولیٹری نظام شامل کیا جائے۔شرکاء نے وفاقی اور صوبائی ریگولیٹری اداروں کے درمیان باہمی مشاورت اور ہم آہنگی پر زور دیا۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ نظرثانی شدہ فریم ورک آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ، صوبائی کمیشنز کے قانونی مینڈیٹ کا عکاس اور ضابطہ کاری کے دہرے عمل سے پاک ہونا چاہیے، جبکہ ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم کے یکساں قومی معیار برقرار رہیں۔
