قومی خبریں

اسلام امن اور محبت کا مذہب کے موضوع پر ہمدرد شوریٰ لاہور کا ایک اہم اجلاس

اسلام امن اور محبت کا مذہب کے موضوع پر ہمدرد شوریٰ لاہور کا ایک اہم اجلاس 6مئی بروز بدھ سہ پہر ساڑھے تین بجے ہوٹل فلیٹیز کے بورڈ روم اے میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسپیکر کے فرائض محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم نے انجام دئیے جبکہ ڈپٹی اسپیکرز جناب قیوم نظامی اور محترم عمر ظہیر میر تھے اجلاس میں اراکینِ شوریٰ محترمہ خالدہ جمیل چوہدری، جناب عثمان غنی، جناب حکیم راحت نسیم، جناب رانا امیر احمد خان، جناب پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عطا، محترمہ سیدہ فرح ہاشمی اور جناب کاشف ادیب جاویدانی سمیت دیگر معزز شخصیات شریک ہوئیں۔ اس موقع پر مبصرین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی جن میں محمد نصیر الحق ہاشمی، عبدالرزاق باجوہ، محمد صابر اعوان، سید اختر علی جعفری، شہریار اصغر مرزا، ڈاکٹر مہر محمد سعید اختر، مہر عبدالروف، ڈاکٹر مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر کنول فیروز، انجینئر محمد آصف، ڈاکٹر نبیل احمد نبیل، جناب فریاد علی، جناب محمد اصغر اور قاری محمد فاروق اکرم شامل تھے۔اجلاس کی خاص بات بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری کا خوبصورت اظہار تھا، جس میں مسیحی برادری سے جناب نوخیز کھوکھر، سکھ برادری سے جناب سردار سکندر سنگھ اور ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے بھگت لال نے خصوصی شرکت کی۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز قاری خالد محمود کی تلاوتِ کلامِ مجید سے ہوا جبکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں گلہائے عقیدت حافظ حکیم مرغوب احمد ہمدانی نے پیش کیے۔اس موقع پر دینی سکالر و سابق پرنسپل اورینٹیل کالج جامعہ پنجاب پروفیسر ڈاکٹر سید محمد قمر زیدی جو مہمان خاص تھے انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔معزز حاضرینِ مجلس!آج ہم جس موضوع پر جمع ہوئے ہیں، اس کے مختلف پہلو آپ سماعت فرما چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی برادری میں مذاہب کا وجود انسان کی اصلاح، اس کے باطن کی پاکیزگی اور اس کے ظاہر کے حسن ا خلاق کے لیے ہے۔خواہ وہ آسمانی مذاہب ہوں یا انسانی اصلاح کی دیگر تحریکیں، سب کا بنیادی مقصد انسانیت کی فلاح اور اخلاقی تربیت ہے۔اسلام ان تمام میں ایک ممتاز، جامع اور ہمہ گیر پیغام ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے ذریعے پوری انسانیت کے لیے بھیجا۔ آپ ﷺ نہ صرف آخری نبی ہیں بلکہ رحمت اللعالمین ہیں، جن کی تعلیمات تمام انسانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا مزید کہنا تھا کہ ہم اکثر فخر سے یہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اعلیٰ ترین انسانی اخلاق کا نمونہ پیش کیا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس کردار کو اپنی عملی زندگی میں بھی اپنایا؟ مکی دور کی سختیاں، مخالفتیں اور آزمائشیں ہمارے سامنے ہیں۔ ان حالات میں بھی آپ ﷺ کا رویہ محبت، صبر اور انسانیت سے بھرپور تھا۔ ایک غلام، ایک بیمار، ایک کمزور انسان کے ساتھ آپ ﷺ کا سلوک ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسانیت مذہب، رنگ اور طبقے سے بالاتر ہے۔آج دنیا ایک گلوبل گاؤں بن چکی ہے۔ ہمارےالفاظ، ہمارے اعمال، سب دنیا کے سامنے ہیں۔ ایسے میں اگر ہمارا کردار ہمارے دعووں کے مطابق نہ ہو تو ہمارے الفاظ کی تاثیر ختم ہو جاتی ہے۔اسی لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسلام کو صرف بیان کر رہے ہیں یا اس میں جِي بھی رہے ہیں؟انہوں نے کہا کہ برصغیر میں اسلام تلوار سے نہیں بلکہ صوفیاء کے اخلاق، محبت اور کردار سے پھیلا۔خواجہ نظام الدین اولیاءؒ جیسے بزرگوں نے بغیر کسی تفریق کے انسانوں کی خدمت کی۔ بھوکے کو کھانا، بیمار کی تیمارداری، اور انسان کو انسان سمجھنا درحقیقت یہی اسلام کا عملی چہرہ ہے ان صوفیاء کرام نے یہ سبق دیا کہ مذہب کا اصل جوہر انسان کی خدمت اور محبت ہے، نہ کہ تقسیم اور نفرت۔بدقسمتی سے آج ہم نے دین کو نظریات تک محدود کر دیا ہے اور عمل کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ہم گفتگو میں تو اتحاد کی بات کرتے ہیں، لیکن عمل میں تفرقہ پیدا کرتے ہیں۔حالانکہ ہماری اصل وحدت صرف ایک ہے وہ ہے ،لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺجب یہ کلمہ ہماری زبان سے نکل کر ہمارے دل، ہمارے اعمال اور ہمارے معاشرے میں اتر جائے گا، تب ہی ہم حقیقی معنوں میں اسلام کے نمائندے بن سکیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔یہ انسان کو جوڑنے آیا ہے، توڑنے نہیں۔ یہ محبت سکھاتا ہے، نفرت نہیں۔یہ خدمت سکھاتا ہے، برتری نہیں۔

اختتامی کلمات میں معزز اراکین و مبصرین کی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے اسپیکر پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم نے تجاویز پیش کی جن میں کہا گیا کہ

٭      تمام مذاہب انسانیت، امن، محبت، برداشت اور بھائی چارے کا درس دیتے ہیں، لہٰذا معاشرے میں نفرت کے بجائے رواداری کو فروغ دیا جائے۔

٭      اسلام کی حقیقی تعلیمات کو صرف تقاریر تک محدود رکھنے کے بجائے عملی زندگی میں نافذ کیا جائے۔

٭      بین المذاہب مکالمے، مشترکہ تقریبات اور رابطوں کو فروغ دے کر قومی یکجہتی کو مضبوط بنایا جائے۔

٭      نوجوان نسل کو صوفیاء کرام کے کردار، محبت، خدمت اور انسان دوستی کے پیغام سے روشناس کرایا جائے۔

٭      اختلافِ رائے کے باوجود ایک دوسرے کے عقائد، مذاہب اور شخصیات کا احترام یقینی بنایا جائے۔

٭      معاشرے میں عدم برداشت، نفرت انگیزی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے اجتماعی شعور بیدار کیا جائے۔

٭      ضرورت مند، بھوکوں، بیماروں اور کمزور طبقات کی خدمت کو مذہبی اور قومی فریضہ سمجھا جائے۔

٭      تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور میڈیا کے ذریعے امن، محبت اور انسانی احترام کے پیغام کو عام کیا جائے۔

٭      “لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ” کے پیغامِ وحدت کو عملی طور پر اپناتے ہوئے فرقہ واریت سے اجتناب کیا جائے۔

٭      ہر فرد اپنی اپنی ذمہ داری اور دائرۂ کار میں انسانیت کو جوڑنے، محبت بانٹنے اور خیر کے کاموں میں کردار ادا کرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button