قومی خبریں

پاکستان معیاری تعلیم، تحقیق اور اختراع میں سرمایہ کاری کے ذریعے علم پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھ رہا ہے ، وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال

وفاقی وزیر نے حکومت کے اہم منصوبے امریکا پاکستان نالج کاریڈور سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت دس ہزار پاکستانی طلبہ کو دنیا کی بہترین جامعات سے ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے اشتراکی ماڈل کی تجویز پیش کی جس کے تحت پاکستانی محققین پاکستان کو درپیش اہم ترقیاتی چیلنجز پر امریکی جامعات میں تحقیق کریں جبکہ جامعات تعلیمی اخراجات میں معاونت فراہم کریں اور پاکستان سفری و انتظامی اخراجات برداشت کرے۔ اس تجویز کو مثبت انداز میں سراہا گیا اور دونوں جانب سے اس پر پیش رفت میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر احسن اقبال نے کہاکہ امریکا کی حقیقی طاقت اس کی جامعات ہیں، پاکستان بھی معیاری تعلیم، تحقیق اور اختراع میں سرمایہ کاری کے ذریعے علم پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھ رہا ہے اور اس مقصد کے لیے دنیا کے ممتاز تعلیمی اداروں کے ساتھ مضبوط شراکت داری ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ملک میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو فل برائٹ وظائف کی مشترکہ مالی معاونت کرتے ہیں جس کے باعث بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ امریکاکی جامعات میں زیر تعلیم ہیں۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت کو اعلیٰ تعلیم میں موثر انداز سے شامل کرنے، نصاب، تدریسی طریقہ کار اور طلبہ کی جانچ کے جدید نظام سے استفادہ کرنے کے حوالے سے بھی تعاون کی خواہش ظاہر کی۔بعد ازاں وفاقی وزیر نے بوسٹن یونیورسٹی کے ادارہ عالمی پائیداری اور عالمی ترقیاتی پالیسی مرکز کا دورہ کیا جہاں ڈاکٹر بینجمن سوواکول اور ڈاکٹر ولیم کرنگ سے ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی، پائیدار ترقی اور تحقیقی تعاون کے مختلف پہلوئوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کر رہے ہیں، حالانکہ عالمی حدت میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ انہوں نے 2022ء کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے موسمیاتی موافقت، لچک، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، صاف توانائی کے فروغ اور موسمیاتی مالی معاونت کے نئے ذرائع پر مشترکہ تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس اور بوسٹن یونیورسٹی کے متعلقہ تحقیقی اداروں کے درمیان شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور موسمیاتی تحقیق کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق رائے پایا گیا۔وفاقی وزیر نے بعد ازاں ہارورڈ کینیڈی سکول کے گروتھ لیب کا دورہ کیا جہاں اڑان پاکستان کے تحت ملک کی طویل المدتی معاشی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

انہوں نے گروتھ لیب کو پاکستان کی ایک کھرب ڈالر کی معیشت کے ہدف کے حصول کے لیے قومی ترقیاتی حکمت عملی کی تشکیل اور اس میں بہتری کے عمل میں شراکت داری کی دعوت دی۔اجلاس میں برآمدات میں اضافے، پیداواری صلاحیت میں بہتری، مالیاتی اصلاحات، صنعتی و تجارتی حکمت عملی، معاشی مسابقت، صنعتی مراکز اور رسدی نظام کی مضبوطی جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو ایسی قابل عمل سفارشات درکار ہیں جو برآمدات کو سو ارب ڈالر تک لے جانے، صنعتی خوشوں کی تشکیل اور قومی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں معاون ثابت ہوں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی آئندہ معاشی ترقی کی بنیاد پیداواریت، اختراع اور برآمدات میں اضافہ ہوگی، ہمیں ایسے شراکت دار درکار ہیں جو صرف مسائل کی نشاندہی ہی نہ کریں بلکہ ان کے عملی اور دیرپا حل بھی فراہم کریں۔احسن اقبال نے بعد ازاں ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے مشترکہ تحقیقی ادارے جے پال کا دورہ کیا جہاں ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال دھالیوال سے شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور غربت میں کمی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *