واضح غیر قانونی اقدام یا بدنیتی ثابت ہوئے بغیر جامعات کی تقرریوں میں آئینی عدالت مداخلت نہیں کر سکتی، وفاقی آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سرکاری جامعات میں تقرریوں کے معاملات میں آئینی دائرہ اختیار صرف اسی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے جب ریکارڈ پر واضح غیر قانونی اقدام، بدنیتی، جانبداری، قدرتی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی یا اختیارات سے تجاوز ثابت ہو۔محض کسی امیدوار کےمنتخب نہ ہونے یا قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات کی بنیاد پر آئینی درخواست قابل سماعت نہیں بنتی۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کراچی یونیورسٹی کی جانب سے دائر اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا 13 جون 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے 21 دسمبر 2023 کو سلیکشن بورڈ کی سفارشات، جنہیں 5 اپریل 2024 کو سنڈیکیٹ نے منظور کیا تھا، بحال کر دیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ سرکاری جامعات قانون کے تحت قائم ادارے ہیں، تاہم ان کے ملازمین یا امیدواروں کے ہر سروس تنازع کو آئینی درخواست کے ذریعے نہیں سنا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئینی دائرہ اختیار صرف ان معاملات میں استعمال ہوگا جہاں کسی قانونی یا لازمی ضابطے کی واضح خلاف ورزی، بدنیتی، قدرتی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا ثبوت موجود ہو۔عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے اس نتیجے سے بھی اختلاف کیا کہ سلیکشن بورڈ کی کارروائی قواعد کے منافی تھی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ڈاکٹر شاہینہ ناز صرف اس مرحلے میں سلیکشن بورڈ کا حصہ تھیں جس عہدے کی وہ امیدوار نہیں تھیں، اس لیے ان کی شرکت رول 6(4) کی خلاف ورزی نہیں تھی۔ اسی طرح رول 6(5) کے تحت تین ماہرین سے مشاورت کی قانونی شرط پوری کی گئی تھی، جبکہ قانون تمام ماہرین کی متفقہ یا موافق رائے کا تقاضا نہیں کرتا۔وفاقی آئینی عدالت نے مزید قرار دیا کہ جانبداری کے الزامات صرف دعوؤں کی بنیاد پر ثابت نہیں کیے جا سکتے اور اس مقدمے میں ایسا کوئی قابل اعتماد مواد پیش نہیں کیا گیا جس سے انتخابی عمل غیر قانونی ثابت ہوتا ہو۔
عدالت نے کہا کہ سلیکشن بورڈ امیدواروں کی مجموعی اہلیت، تحقیقی ریکارڈ، انٹرویو اور تقابلی میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا مجاز فورم ہے اور عدالتیں ان معاملات میں اس وقت تک مداخلت نہیں کر سکتیں جب تک کوئی واضح قانونی خرابی ثابت نہ ہو۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ کامیاب امیدواروں کے خلاف دھوکہ دہی، نااہلی یا کسی غیر قانونی عمل کا کوئی ثبوت موجود نہیں، اس لیے انہیں دوبارہ انتخابی عمل سے گزارنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں خبردار کیا کہ اگر ہر ناکام امیدوار کے اعتراض کو آئینی مقدمہ بنا دیا جائے تو آئینی عدالتیں جامعات کے تعلیمی اور انتظامی فیصلوں کی اپیلیٹ اتھارٹی بن جائیں گی، جو آئین اور تعلیمی اداروں کی خودمختاری کے منافی ہوگا۔ چنانچہ عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور کراچی یونیورسٹی کے سلیکشن بورڈ اور سنڈیکیٹ کے فیصلے بحال کر دیے۔