



ومی صدر شوریٰ ہمدرد پاکستان محترمہ سعدیہ راشد نے کہا ہے کہ جب معاشرے میں غربت بیروزگاری رشوت ستانی اقرباءپروری ناانصافی بڑھ جائے تو افراد حسد حرص و ہوس جیسی کمزوریوں اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ معاشرے میں نفرت غصہ اور مایوسی جنم لیتی ہیں جس کے نتیجے میں افراتفری اور نفسا نفسی پروان چڑھتی ہے۔اسی طرح جب سیاستدان اور حکمران اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے قانون سازی کریں اور سزا وجزا میں دہرا معیار اپنایا جائے۔اختیارات کا ناجائز استعمال ہونے لگے تو لوگوں میں احساس محرومی جنم لیتا ہے اور جرم کو پنپنے کا موقع مل جاتا ۔پاکستانی معاشرے میں برائیاں اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہیں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتیں کتنے خاندانوں کو مالی نقصان اور اپنے کسی پیارے کی جان کے ضیاع کے صدمے سے دوچار کر چکی ہیں۔ دوسری طرف بچوں کی معصومیت کچل ڈالنے والے بے بہا سانحات،نسوانی عزت کی پامالی اور بلیک میلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات استحصال کی ویڈیوز بنا کر ڈارک ویب پر لاکھوں روپے میں فروخت کی جاری ہیں جن کی ادائیگیاں کرپٹو کرنسی کے ذریعے ہوتی ہیں تاکہ یہ کبھی کام کرنے والے گروہ قانونی گرفت میں نہ آئیں۔ یہ تمام عوامل ہمارے معاشرے کی خوفناک تصویر پیش کر رہے ہیں اس صورتحال میں سوشل میڈیا کا منفی کردار کسی سے پوشیدہ نہیں خاص طور پر خواتین سے دوستی کا ناٹک رچا کر انہیں غلط مقاصد کے لئے استعمال کرنے اور اور بلیک میلنگ کی کتنی ہی وارداتیں ہمارے سامنے آچکی ہیں۔ واقعات کے باعث معاشرے میں خوف کا عنصر بڑھا ہے۔ جونا صرف نفسیاتی عوارض کو جنم دے رہا ہے بلکہ اس کی وجہ سے ذہین باصلاحیت افراد در بدر ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ہم سب نے مل کر اس معاشرے کے سدھار کی کوشش کرنی ہے اور اپنے حصے کی شمع ضرور جلانی ہے۔محترمہ سعدیہ راشد نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ دنوں شوریٰ ہمدرد لاہورکے زیر اہتمام ”پاکستان میں بڑھتی جرائم کی شرح اسباب اور حکمت عملی“ کے موضوع پر منعقدہ اجلاس سے اپنے پیغام میں کیا۔اجلاس کی صدارت اسپیکر جسٹس(ر)ناصرہ اقبال نے کی جبکہ سابق آئی جی محترم الطاف قمر،سابق وزیر مملکت برائے قانون محترم قیوم نظامی،سابق ڈی جی پراسیکیوشن محترم خالدعیازخان، ممبر/صدر رہائی فاﺅنڈیشن جیل خانہ جات محترم فرح ہاشمی ، پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم،محترم عمر ظہیر میر ،محترم کاشف ادیب جاویدانی، محترم جمیل بھٹی،پروفیسر خالد محمود ہاشمی ، محترم راشدحجازی ،میجر(ر)خالد نصر،راناامیر احمد خان،پروفیسر ضیاءالحق ودیگر نے شرکت کی۔قاری فاروق اکرم کی تلاوت کلام مجید سے اجلاس کاآغاز ہوا۔محترم قیوم نظامی نے قومی صدر کا پیغام پڑھ کر سنایا۔



یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے سینٹر فار ایکسی لینس ان واٹر ریسوس انجینئرنگ کے بورڈ آف گورنرز کا 76 واں اجلاس ہوا. جس میں ایڈہاک گزیٹیڈ افسران کی مستقل تعیناتی کے علاوہ بیسک ہے فنڈ اور دیسپرٹی الاوانس میں اضافے کی منظوری دی.قبل ازیں ڈائریکٹر ای ڈبلیو آر ای نے سینٹر کی کاوشوں کو بھی سراہا. اجلاس ڈائریکٹر سی ای ڈبلیو آر ای پروفیسر ڈاکٹر نور محمد خان نے بطور ممبر/ سیکرٹری شرکت کی۔ پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمان، ڈین، فیکلٹی آف سول انجینئرنگ، نوشابہ اویس، ڈائریکٹر جنرل (ریسرچ اینڈ انوویشن ڈویژن)، ہائر ایجوکیشن کمیشن، راجہ محمد اختر اقبال، جوائنٹ سیکرٹری (پالیسی)، وزارت وفاقی تعلیم ڈاکٹر جمشید محمود بیگ، ڈپٹی منیجر، ٹی آئی سی، نمائندہ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن، اسلام آباد، ڈاکٹر محمد اشرف چیئرمین، پی سی ای، اسلام آباد، پروفیسر ڈاکٹر بخشل خان لاشاری، پروفیسر ایمریٹس یو ایس پاکستان سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ان واٹر، مہران یونیورسٹی نے شرکت کی. ڈاکٹر ناصر محمود خان، سیکرٹری/رجسٹرار، پاکستان انجینئر۔ کونسل، اسلام آباد، اور انجینئر شاہد حمید، چیف انجینئر (ای اینڈ ایچ ایم)، واپڈا ہاؤس، لاہور نے بھی اجلاس میں شرکت کی. قبل ازیں ڈائریکٹر ای ڈبلیو آر ای نے سینٹر کی کاوشوں پر روشنی ڈالی
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پنجاب کی پہلی یونیورسٹی ہے جسے ہیپاٹائٹس فری یونیورسٹی قرار دیا گیا ہے۔ انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے وژن کے مطابق سال 2020میں محکمہ صحت حکومت پنجاب کے تعاون سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں بڑے پیمانے پر ہیپاٹائٹس ٹیسٹنگ، سکرینگ اور ویکسی نیشن کاآغاز کیا گیا۔ ابتداء میں جامعہ کے 22ہزار اساتذہ، ملازمین اور طلباء وطالبات کے ٹیسٹ ہوئے اور ویکسین کا آغازہوا۔ آج اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پنجاب کی جامعات میں واحد یونیورسٹی ہے جو ہیپاٹائٹس فری یونیورسٹی ہے۔ گورنر پنجاب انجینئر محمد بلیغ الرحمن کچھ عرصہ قبل اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور تشریف لائے تو انہیں اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں گزشتہ تین برس میں ہونے والی انٹی ہیپاٹائٹس مہم کے بارے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر بتایا گیاکہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں داخلوں کے موقع پر تمام طلباء وطالبات کی ہیپاٹائٹس سکرینگ ہوتی ہے اوریونیورسٹی کے تمام 60ہزار سے زائد طلباء وطالبات، اساتذہ اور ملازمین اس بیماری سے محفوظ ہیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں اس مہم کے فوکل پرسن چیف میڈیکل افیسر اور میڈیکل اینڈ ہیلتھ ڈویژن کے سربراہ ڈاکٹر محمد عثمان چیمہ نے یونیورسٹی کے سینئر اساتذہ اور اعلیٰ حکام کے ساتھ مل کر یہ مہم چلائی۔گورنر پنجاب نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کو پہلی ہیپاٹائٹس فری یونیورسٹی بننے پر مبارکباد دی۔اس سلسلے میں گورنر پنجاب نے پنجاب کی تمام جامعات کو ہیپاٹائٹس فری جامعات بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ گورنر ہاؤ س کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں پنجاب کی تمام سرکاری و نجی جامعات کو احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر محمد عثمان چیمہ نے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کی ہدایت پر پنجاب کی تمام جامعات میں ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے تحت اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی طرز پر خصوصی مہم چلانے کی تجویز دی اور گورنرپنجاب کی ہدایت کی روشنی میں پنجاب کی تمام جامعات میں اس کا آغاز ہو گیا ہے۔

The Government of Gilgit-Baltistan (GB) has signed an agreement with the Education Testing Council (ETC), HEC whereby the Council will conduct the screening tests for recruitment in the departments of GB Government.
The signing ceremony held at HEC Secretariat was attended by Chief Secretary GB, Mr. Mohiyuddin Wani, Executive Director HEC, Dr. Shaista Sohail and CEO ETC Mr. Iftekhar Mahmood.
Honorable guests expressed the hope that the agreement would help bring standardized testing to the process of recruitment in the public sector of GB enabling enforcement of across-the-board merit and transparency.
Mr. Wani stressed that the process of testing needed to be undertaken expeditiously to help initiate the long-awaited process of recruitment. Mr. Iftekhar Mahmood reiterated the commitment from ETC to conduct requisite tests through an accelerated effort.
HEC Pakistan has established ETC under the mandate of its Ordinance and as directed by the Supreme Court of Pakistan. It is an autonomous institution with oversight by its Board of Governors (BOG). The BOG consists of experienced and accomplished professionals including federal and provincial secretaries, Executive Director HEC, Vice Chancellors both from the public and private sector universities with representation from the four provinces, and eminent personalities.
==============

اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی جانب سے مختلف فصلوں کی مخلوط کاشت انٹرکراپنگ کا طریقہء کار ملک بھر میں مقبول عام ہو رہا ہے۔ چینی جامعات کے اشتراک سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے مختلف فصلوں کی مخلوط کاشت کا طریقہء کار متعارف کرایا۔ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کے وژن کے مطابق جامعہ میں ہونیوالی تحقیق کو قومی امنگوں اور ترجیحات سے ہم آہنگ کرنے اور فوڈ سیکورٹی و زرعی معیشت میں اہمیت کے پیش نظر حکومت نے اس منصوبے کو سی پیک کا حصہ بنا دیا۔ انٹرکراپنگ میں سب سے اہم مکئی اور سویابین کی مخلوط کاشت ہے۔ مکئی اور سویابین انٹرکراپنگ سے ملک خوردنی تیل کی درآمد اور پولٹری فیڈ کی مد میں تقریبا 10ارب ڈالر سالانہ کا زرمبادلہ بچا سکتا ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی جانب سے حال ہی میں آئل انڈسٹری سے متعلقہ صنعتکاروں اور ترقی پسند کاشتکاروں کے لیے خصوصی بریفنگ کا اہتمام کیا گیا۔ انہیں ترغیب دی گئی کہ مکئی اور سویابین کی مخلوط کاشت نفع بخش ہے جس سے ملک خوردنی تیل اور پولٹری فیڈ میں خودکفیل ہو سکتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی اداروں نے مکئی اور سویابین کی مخلوط کاشت کے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے منصوبے کو سراہا۔ وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے نیشنل ریسرچ سنٹر آف انٹرکراپنگ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپورکے تحت یونیورسٹی زرعی فارم میں اُگائی گئی مخلوط فصلوں کادورہ کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر محمد حیدر بن خالد، ڈاکٹر عطا محی الدین،ڈاکٹر ظفر اقبال،ڈاکٹر سجاد حسین،ڈاکٹر ثناء الرحمن نے گندم اورمکئی،گنے اور مکئی، گنے اور گندم، گنے اوررایا،ر ایااور گندم، گنے اور برسیم، گندم اور برسیم، گنے اور چنے کی مخلوط کاشت کے تجربات سے آگاہ کیا۔ وائس چانسلر نے ڈائریکٹر نیشنل ریسرچ سنٹر آف انٹرکراپنگ ڈاکٹر محمد علی رضا کی کاوشوں کو سراہا جن کی بدولت اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے اس اہم ٹیکنالوجی کو پاکستان بھر میں متعارف کرایا ہے جسے اعلیٰ حکومتی اور زرعی حلقوں نے سراہا ہے۔
:پنجاب یونیورسٹی نے سارہ شبیر دختر محمد شبیر کوکامرس کے مضمون میں ’ماحولیاتی ہنگامہ آرائی اور جذباتی ردِعمل: جدت طرازی پر کاروباری اصلاح کا اسٹریٹجک کردار‘ کے موضوع پر،محمدعرفان علی ولد حافظ بشیر احمد کوانٹرنیشنل ریلیشنز کے مضمون میں ’مشرقِ وسطی میں سعودی عرب اور ایران کی رقابت اور پاکستان کی خارجہ پالیسی (2001-2017)‘کے موضوع پر،اسماء صدیق دختر محمد صدیق کوانٹرنیشنل ریلیشنز کے مضمون میں ’انڈس بیسن سسٹم کے کم ہوتے ہوئے پانی کے وسائل کا ماحولیاتی بے ضابطگیوں اور واٹر سکیورٹی سے تعلق اور اس کے اسٹرٹیجک مضمرات‘کے موضوع پر،اقراء حیدر خان دخترحیدر علی خان کوایگریکلچرل سائنسز (پلانٹ پیتھالوجی) کے مضمون میں ’مفید پھپھوندیوں اور کینوا کے قدرتی مرکبات سے مونگ کے سڑکی روک تھام‘کے موضوع پر اورسعدیہ رشید دختر چوہدری رشید احمد کوایجوکیشن کے مضمون میں ’ثانوی سطح کے طلباء کی تحریک، خود افادیت اور تعلیمی کامیابی پر خود نظمی سے سیکھنے کا اثر‘ کے موضوع پر، پی ایچ ڈی مقالہ جات کی تکمیل کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگریاں جاری کر دیں۔
لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) نے پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) کے 2021 میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے مقصد کے لیے صرف انتخابی مضامین میں طلباء کے نمبروں کا حساب لگانے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ عدالت نے 2020 میں ایف ایس سی مکمل کرنے والے طلباء کے ساتھ نئے امیدواروں کی طرف سے دائر درخواست کو خارج کر دیا۔ درخواست گزاروں نے استدعا کی تھی کہ PMC کا فیصلہ ان امیدواروں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے جنہوں نے 2020 اور/یا 2021 کے بعد FSC مکمل کیا تھا۔ "PMC کا پالیسی فیصلہ اس حد تک جس کی نمائندگی پبلک نوٹس کے ذریعہ کی گئی ہے اس طرح پوری طرح سے استدلال پر ہے اور قابل عمل درجہ بندی پر مبنی کسی موروثی یا غیر قانونی امتیازی خصوصیت کا شکار نہیں ہے اور اس وجہ سے، اس عدالت کے غیر معمولی آئینی اور صوابدیدی دائرہ اختیار میں کسی مداخلت کی ضمانت نہیں دیتا ہے۔ "LHC نے فیصلہ سنایا۔ پی ایم سی کے پبلک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جن امیدواروں نے سال 2021 میں اپنا ایف ایس سی پری میڈیکل یا مساوی امتحان پاس کیا تھا اور 2022-23 کے سیشن کے لیے میڈیکل یا ڈینٹل کالج میں داخلہ کے خواہاں تھے، انہیں مطلع کیا گیا تھا کہ صرف ان کے انتخابی مضامین کے نمبر اور فیصد میرٹ پر غور کیا جائے گا۔ پی ایم سی کے ضوابط کے مطابق، میڈیکل ایجوکیشن کے لیے داخلہ کا عمل ایک مقررہ ویٹیج فارمولے پر مبنی ہے جس میں MDCAT 50% ویٹیج رکھتا ہے، FSC (پری میڈیکل)/HSSC/مساوات 40% ویٹیج رکھتا ہے اور SSC/میٹرک/مساوات 10% ویٹیج رکھتا ہے۔.