پشاور (نمائندہ خصوصی) — ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی قیادت نے خیبر پختونخوا کی جامعات کے سربراہان کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ادارہ جاتی ترقی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ اجلاس خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، مینا خان آفریدی ,چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے شرکت کی۔
اجلاس میں صوبہ بھر کے وائس چانسلرز اور ریکٹرز نے شرکت کی، جہاں تعلیمی معیار کی بہتری، تحقیق کے فروغ اور ادارہ جاتی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

تقریب کی نمایاں جھلک ریسرچ ایکسیلینس ایوارڈز تھی، جس میں 216 سائنسدانوں کو دنیا کے سرفہرست 2 فیصد محققین میں شامل ہونے پر اعزاز سے نوازا گیا۔ اس کامیابی کو صوبے میں تحقیقاتی صلاحیت کے بڑھتے ہوئے رجحان کا مظہر قرار دیا گیا۔
صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، مینا خان آفریدی نے اپنے خطاب میں اصلاحات کا خاکہ پیش کیا جس میں کارکردگی پر مبنی فنڈنگ، احتساب کے نظام کو مضبوط بنانا، طلبہ کی معاونت اور تعلیمی مواقع میں توسیع شامل ہیں۔ انہوں نے مفت تعلیم اور بامعاوضہ انٹرن شپس جیسے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی ڈاکٹر سہیل ایچ نقوی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں درپیش چیلنجز اور مواقع پر روشنی ڈالی۔

کانفرنس کے دوران تحقیق، جدت، اسکالرشپس، کوالٹی اشورنس اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سے متعلق بریفنگز بھی دی گئیں۔ اجلاس کے اختتام پر ایک جدید، عالمی معیار سے ہم آہنگ اور تحقیق پر مبنی اعلیٰ تعلیمی نظام کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔