لاہور (نمائندہ خصوصی) — لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی سیمینار میں بھرپور اور نمایاں شرکت کر کے اپنی علمی و تحقیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ یہ سیمینار ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے وژن کے تحت اکیڈمیا اور صنعت کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کے لیے آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (او آر آئی سیز) کے کردار کو مؤثر بنانے کے مقصد سے منعقد کیا گیا تھا۔
جامعہ کی نمائندگی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے بطور مہمانِ خصوصی کی، جبکہ ان کے ہمراہ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ شریف (ڈائریکٹر او آر آئی سی)، ڈاکٹر عائشہ خلیل (سینئر مینیجر او آر آئی سی)، پروفیسر ڈاکٹر فائزہ سلیم اور پروفیسر ڈاکٹر نیلم منیر بھی شریک تھیں۔ اس نمائندگی نے یونیورسٹی کے تحقیق، جدت اور صنعت کے ساتھ اشتراک کے عزم کو واضح کیا۔
اپنے کلیدی خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے اس بات پر زور دیا کہ جامعات کو چاہیے کہ وہ او آر آئی سی کے مینڈیٹ کو قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کریں، جن میں صنعت سے ہم آہنگ تحقیق، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، کمرشلائزیشن، انٹرپرینیورشپ اور اسٹریٹجک شراکت داریاں شامل ہوں۔ انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تعاون سے ایل سی ڈبلیو یو میں ایک “انوویشن ہب” کے قیام کی تجویز بھی پیش کی، جس کا مقصد اطلاقی تحقیق، طلبہ کی جدت، اسٹارٹ اپس کی معاونت اور جامعہ و صنعت کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اس موقع پر فہیم الرحمان سہگل، صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کو ان کی شاندار شرکت اور قیادت کے اعتراف میں یادگاری شیلڈ پیش کی۔
لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی سیمینار میں بھرپور اور نمایاں شرکت۔۔۔۔۔۔۔جامعہ کی نمائندگی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے بطور مہمانِ خصوصی کی اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تعاون سے ایل سی ڈبلیو یو میں ایک “انوویشن ہب” کے قیام کی تجویز بھی پیش کی، جس کا مقصد اطلاقی تحقیق، طلبہ کی جدت، اسٹارٹ اپس کی معاونت اور جامعہ و صنعت کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔