انسٹی ٹیوٹ آف فزکس اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور کے شعبہ پارٹیکل فزکس نے ایک روزہ بین الاقوامی ہائبرڈ کانفرنس بعنوان پارٹیکل فزکس میں ابھرتے ہوئے رجحانات کا انعقاد کیا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے شرکاء کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور عالمی سطح کی یونیورسٹی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف فزکس کے اساتذہ فزکس کے میدان میں اعلیٰ درجے کی تدریس و تحقیق میں مصروف عمل ہیں۔ اس کانفرنس نے ملکی و غیر ملکی محققین اور ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور پارٹیکل فزکس کے حالیہ جدید پہلوؤں اور مستقبل کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پارٹیکل فزکس ایک ایسا شعبہ ہے جو مادے کی بنیادی ساخت یعنی معلوم کائنات بشمول تمام کہکشاؤں ستاروں اور کائنات کو تشکیل دینے والی قوتوں کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ شعبہ ابھی تک نامعلوم کائنات جیسے کہ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کی تلاش میں بھی مصروفِ عمل ہے۔ پروفیسر پروفیسر ڈاکٹر الطاف حسین ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف فزکس نے پارٹیکل فزکس سے وابستہ ماہرین کو خوش آمدید کہتے ہوئے اس علمی اجتماع کو پاکستان میں پارٹیکل فزکس کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوا۔کانفرنس فوکل پرسن ڈاکٹر محمد شعیب بلوچ کی متحرک قیادت میں شعبے کو پاکستان میں ایک نمایاں تحقیقی مرکز بنانے کے لیے مسلسل حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے۔اسی طرح تنظیمی کمیٹی کے ارکان ڈاکٹر شعیب، ڈاکٹر رؤف اطہراور ڈاکٹر محمد گل نے پیشہ ورانہ مہارت اور ٹیم ورک کا مظاہرہ کیا اور تقریب کی کامیاب اور مؤثر تنظیم میں اہم کردار ادا کیا۔کانفرنس میں پاکستان اور بیرون ملک سے آئے ہوئے ممتاز محققین ڈاکٹر شمع ابوزید CERN لیبارٹری میں CMS تجربے سے وابستہ بین الاقوامی اسپیکر تھیں۔ انہوں نے سٹینڈرڈ ماڈل سے آگے نظریاتی پیش رفت پر مدلل گفتگو کی اور عالمی سطح پر پارٹیکل فزکس میں تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ دیگر مقررین میں ڈاکٹر اشفاق احمد این سی پی اسلام آباد، ڈاکٹر جمیلہ بشیر بٹ وی یو اسلام آباد، ڈاکٹر فیصل اکرم CHEP لاہور، ڈاکٹر محمد جمیل اسلم قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد، ڈاکٹر اعجاز احمد FUUST اسلام آباد، ڈاکٹر محمد شعیب بلوچ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، ڈاکٹر رؤف اطہر اور ڈاکٹر محمد گل شامل تھے۔کانفرنس کے دوران کئی اہم موضوعات پر گفتگو ہوئی جن میں کولائیڈر فزکس، کوانٹم فیلڈ تھیوری، سپرسمیٹری، جدید ڈیٹیکٹر ٹیکنالوجیز، اور جدید سمولیشن تکنیکیں شامل تھیں۔ کانفرنس کی اختتامی تقریب میں فیکلٹی آف فزیکل اینڈ میتھمیٹیکل سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی نے منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔
کانفرنسز / کانووکیشن
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں “چوتھی آسیان-پاکستان کانفرنس برائے مٹیریل سائنس”کا آغاز۔۔۔۔۔افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد تھے۔۔۔۔۔۔۔۔کانفرنس کا مقصد مٹیریل سائنس کے میدان میں علم کا تبادلہ، جدید تحقیق، اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے، تاکہ نئی دریافتوں اور سائنسی ترقی کی راہیں ہموار کی جا سکیں۔
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اس وقت 5 سے 8 مئی 2025 تک “چوتھی آسیان-پاکستان کانفرنس برائے مٹیریل سائنس” کی میزبانی کر رہی ہے۔اس کانفرنس کا مقصد مٹیریل سائنس کے میدان میں علم کا تبادلہ، جدید تحقیق، اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے، تاکہ نئی دریافتوں اور سائنسی ترقی کی راہیں ہموار کی جا سکیں۔

یہ کانفرنس آسیان رکن ممالک کے ماہرین، محققین، اور طلبا کو یکجا کر رہی ہے، جن میں کینیڈا، یورپ، اور چین جیسے ممالک سے شرکا شامل ہیں۔افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد تھے۔ مختلف ممالک کے سفیروں اور سینئر سفارتی نمائندوں نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

4o
):علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں 13 اور 14 مئی 2025 کو ”معیاری اساتذہ کی تعلیم”کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے۔ اس کانفرنس کا مرکزی موضوع ”اساتذہ کو بااختیار بنانا: کل کو بدلنا” ہے، جس کا مقصد اساتذہ کی تعلیم و تربیت کے میدان میں جدید رحجانات، مسائل، مواقع اور چیلنجز پر سیر حاصل گفتگو کو فروغ دینا ہے۔
اتوار کو اوپن یونیورسٹی سے جاری بیان کے مطابق یہ بین الاقوامی کانفرنس ڈپارٹمنٹ آف سیکنڈری ٹیچر ایجوکیشن اور نیشنل ایکریڈیٹیشن کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (NACTE) کے باہمی اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے ماہرین تعلیم، پالیسی ساز، تربیتی اداروں کے سربراہان، نصاب ساز، ریسرچرز اور اساتذہ شریک ہوں گے جو تحقیق پر مبنی علم اور عملی تجربات کی روشنی میں تعلیمِ اساتذہ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے قیمتی تجاویز اور سفارشات پیش کریں گے۔
):):علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں 13 اور 14 مئی 2025 کو ”معیاری اساتذہ کی تعلیم”کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے۔ اس کانفرنس کا مرکزی موضوع ”اساتذہ کو بااختیار بنانا: کل کو بدلنا” ہے، جس کا مقصد اساتذہ کی تعلیم و تربیت کے میدان میں جدید رحجانات، مسائل، مواقع اور چیلنجز پر سیر حاصل گفتگو کو فروغ دینا ہے۔
اتوار کو اوپن یونیورسٹی سے جاری بیان کے مطابق یہ بین الاقوامی کانفرنس ڈپارٹمنٹ آف سیکنڈری ٹیچر ایجوکیشن اور نیشنل ایکریڈیٹیشن کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (NACTE) کے باہمی اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے ماہرین تعلیم، پالیسی ساز، تربیتی اداروں کے سربراہان، نصاب ساز، ریسرچرز اور اساتذہ شریک ہوں گے جو تحقیق پر مبنی علم اور عملی تجربات کی روشنی میں تعلیمِ اساتذہ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے قیمتی تجاویز اور سفارشات پیش کریں گے۔جس کا مقصد اساتذہ کی تعلیم و تربیت کے میدان میں جدید رحجانات، مسائل، مواقع اور چیلنجز پر سیر حاصل گفتگو کو فروغ دینا ہے۔
اتوار کو اوپن یونیورسٹی سے جاری بیان کے مطابق یہ بین الاقوامی کانفرنس ڈپارٹمنٹ آف سیکنڈری ٹیچر ایجوکیشن اور نیشنل ایکریڈیٹیشن کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (NACTE) کے باہمی اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے ماہرین تعلیم، پالیسی ساز، تربیتی اداروں کے سربراہان، نصاب ساز، ریسرچرز اور اساتذہ شریک ہوں گے جو تحقیق پر مبنی علم اور عملی تجربات کی روشنی میں تعلیمِ اساتذہ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے قیمتی تجاویز اور سفارشات پیش کریں گے۔

حکومت کوپانی، خوراک، زراعت اورآب وہوا کے حوالے سے مربوط حکمت عملی ترتیب دینے کے لئے پاکستان سائنس فاؤنڈیشن اور پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے سائنسدانوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔ ……… پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کی گولڈن جوبلی تقریبات کے موقع پر ’وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کا خطاب
لاہور (30اپریل،بدھ):وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا ہے کہ پاکستان کو فوڈ سکیورٹی، سائبر سکیورٹی،زراعت اور ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لئے ماڈرن سائنس اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مضامین سکول کی سطح پر متعارف کروانے ہوں گے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کی گولڈن جوبلی تقریبات کے موقع پر ’سائنس فار سوشل اکنامک ڈویلپمنٹ‘کے موضوع پر منعقدہ سائنسدانوں کے کنونشن سے الرازی ہال میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب کا انعقادپنجاب یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف باٹنی، پاکستان سائنس فاؤنڈیشن اور پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے اشتراک سے کیا گیا۔ اس موقع پرسابق وفاقی وزیربرائے فوڈ سکیورٹی اور صدر پاکستان اکیڈمی آف سائنسز پروفیسر کوثر عبداللہ ملک،ڈائریکٹرریسرچ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن ڈاکٹرمرزا حبیب علی،پروفیسر ایمریٹس گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور ڈاکٹر اکرام الحق،ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچرل سائنسز پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سلم حیدر، ایڈیشنل ڈائریکٹر پاکستان سا ئنٹفک اینڈ ٹیکنیکل انفارمیشن سنٹر علی رضا خان، سائنسدان، محققین، فیکلٹی ممبران اور طلباؤطالبات نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ پاکستان میں دیہاتوں سے شہروں کی طرف ہجرت کرنے سے مسائل جنم لے رہے ہیں اور زرعی زمین کم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر ہماری خوراک کا بڑا حصہ ضائع ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں پانی کی سطح مسلسل نیچے جارہی ہے جس سے خشک سالی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کوپانی، خوراک، زراعت اورآب وہوا کے حوالے سے مربوط حکمت عملی ترتیب دینے کے لئے پاکستان سائنس فاؤنڈیشن اور پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے سائنسدانوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بہترین تقریب کے انعقاد پر منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کا فروغ ملکی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے طلباء کو تنقیدی سوچ کیلئے تیار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کو بچانا ضروری ہے تاکہ پاکستان اور نوجوان طلباء کو بچایا جاسکے۔ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک نے کہا کہ جیسا کہ ہم 2030 تک SDGs کو حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، سماجی اقتصادی تفاوت کو دور کرنے، انسانی فلاح و بہبود کو فروغ دینے اور کرہ ارض کی حفاظت کے لیے جامع پالیسیوں، پائیدار طریقوں اور باہمی تعاون کی کوششوں کو ترجیح دینا بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ 17 SDGs کو اپنی ترقیاتی حکمت عملیوں میں ضم کر کے ہم سب کے لیے ایک زیادہ مساوی، خوشحال اور پائیدار مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کو بہتر مالی وسائل اور قیادت فراہم کرکے مضبوط کرے۔ انہوں نے پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سائنسی تحقیق کے ذریعے سماجی اقتصادی ترقی میں پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے کردار کو سراہا۔پروفیسر ڈاکٹراکرام الحق نے پنجاب یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، ایف سی کالج،یونیورسٹی، یونیورسٹی آف اینیمل سائنسزسمیت پاکستانی جامعات میں جاری تحقیقی سرگرمیوں پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ماہرین، سائنس دان، محققین اور سکالرز کو مل کر پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے کام کرنا ہے۔ڈاکٹر مرزا حبیب علی نے پاکستان سائنس فاؤنڈیشن پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی سے متعلق سائنسی مسائل پر بنیادی تحقیق کے فروغ کے لیے ایک اعلیٰ ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی، سماجی اور ماحولیاتی مسائل کے حل میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا کرداربہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نئے اور مربوط طریقے استعمال کرنے چاہئیں جو موجودہ اور نئے سائنسی علم کو مکمل طور پر تقویت دے سکیں۔ علی رضا خان نے کہا کہ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن 1973ء میں سائنسی علم کو فروغ دینے اور تحقیقی سرگرمیوں میں معاونت کے ویژن کے ساتھ تشکیل دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن سائنسی تعلیم و تحقیق کو فروغ دینے میں سب سے آگے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان سائنس فاؤنڈیشن نے اپنے مسابقتی تحقیقی پروگرام کے تحت تحقیقی منصوبوں کی منظوری دی ہے، یہ منصوبے لاگو تحقیق کی متنوع رینج پر محیط ہیں، جس میں پروٹوٹائپس جیسے کہ مقامی وینٹی لیٹر مشینیں اور تشخیصی کیتھیٹرز کی ترقی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ اداروں میں بہت سے اثر انگیز تحقیقی منصوبوں کو فنڈز فراہم کرکے، پاکستان سائنس فاؤنڈیشن نے تکنیکی ترقی کو فروغ دینے، پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس کے نتیجے میں صحت عامہ اور اقتصادی ترقی میں بہتری آئی ہے۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں 8ویں میڈیکل لیبارٹری کانفرنس کا انعقاد……. صحت کے شعبے میں لیبارٹری ٹیکنالوجی کا کردار نہایت اہم ہے اور دنیا بھر میں 70 فیصد طبی تشخیصات لیبارٹری رپورٹس کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔ ……..پاکستان میں اس شعبے کو اب زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے، جو خوش آئند بات ہے……..وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں 8ویں میڈیکل لیبارٹری کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے ماہرین اور اساتذہ نے شرکت کی۔مقررین نے پاکستان میں میڈیکل لیبارٹری نظام کو بہتر بنانے، جدید تشخیصی ٹیکنالوجی کے انضمام اور مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کی اہمیت پر زور دیا۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری نے کہا کہ صحت کے شعبے میں لیبارٹری ٹیکنالوجی کا کردار نہایت اہم ہے اور دنیا بھر میں 70 فیصد طبی تشخیصات لیبارٹری رپورٹس کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس شعبے کو اب زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے، جو خوش آئند بات ہے۔پاکستان میڈیکل لیبارٹری ایسوسی ایشن کے صدر چودھری احسان اللہ سدھو نے 2011 میں پنجاب میں میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجسٹس کی سروس سٹرکچر کے اجرا کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا، لیکن پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2012 کی بعض شقوں کی وجہ سے آزادانہ پریکٹس میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے اتحادی صحت کے ماہرین کی علیحدہ کونسل کے قیام کا مطالبہ کیا۔کانفرنس سے پروفیسر ڈاکٹر محمد نعمان آفتاب، ڈاکٹر اسدالرحمان،پروفیسر ڈاکٹر نثار احمد،محمد ندیم اشرف اوراشتیاق احمد نے بھی خطاب کیا۔

ساتویں دو سالہ ایجوکیشن انٹرنیشنل (EI) عرب کراس کنٹری ریجنل اسٹرکچر (ACCRS) کانفرنس ………ساتویں دو سالہ ایجوکیشن انٹرنیشنل (EI) عرب کراس کنٹری ریجنل اسٹرکچر (ACCRS) کانفرنس میں سرکردہ تعلیمی رہنماؤں نے فلسطینی ساتھیوں اور عوام سے یکجہتی، بحران کے حالات میں اساتذہ کی تنخواہوں کی حمایت، عوامی تعلیمی نظاموں کی فنڈنگ کے لیے “گو پبلک! فنڈ ایجوکیشن” مہم کو وسعت دینے اور شراکت داریوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
4o
8 اپریل کو اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے ACCRS کمیٹی کی صدر منال ہدیفے نے خطے میں تعلیمی برادری پر حملوں کی مذمت کی اور امن اور تعلیم کے لیے یکجہتی کی اپیل کی:”اگر وہ ہم میں سے ایک کو نشانہ بناتے ہیں تو وہ ہم سب کو نشانہ بناتے ہیں۔ ہم اکٹھے ہوں تو کامیاب ہوتے ہیں۔ تاریکی کے بیچ میں امید کی ایک کرن ہے: ہمارا اجلاس بتاتا ہے کہ ہم مایوس نہیں ہوں گے۔ ہمیں ان اساتذہ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے جو انتہائی خراب حالات کے باوجود اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں، خاندانوں اور انسانیت کے بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔”
مصری ٹیچرز سنڈیکیٹ کے صدر خلف زیناتی نے بتایا کہ ان کا یونین وزارت تعلیم کے ساتھ مل کر امن تعلیم کے مواد تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر اپنے ہمسایہ ممالک سے آنے والے مہاجرین کو اپنے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں خوش آمدید کہتا ہے۔انہوں نے مزید کہا:
“ہمیں تعلیمی اداروں کو تحفظ اور سلامتی کی جگہوں کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں تعلیم پر سرمایہ کاری بڑھانی ہوگی تاکہ دوبارہ تعمیری عمل ممکن ہو۔”
مصری وزیر تعلیم محمد عبد اللطیف نے بھی کانفرنس کے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس ایک نازک وقت پر ہو رہی ہے تاکہ بحران کے دوران تعلیم کے مسائل پر بات کی جا سکے۔انہوں نے کہا:
“بہت سے بچے تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔ ہمیں تعلیم پر فنڈنگ بڑھانے، امن اور جمہوریت کی تعمیر کی ضرورت ہے۔ بچے پائیدار امن کی تعمیر کا راستہ ہیں۔”انہوں نے بتایا کہ
“لاکھوں بچے تعلیم کے فقدان، اساتذہ کی کمی اور نقل مکانی کی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ان پر گہرے نفسیاتی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ مصر نے ہمیشہ خطے میں مہاجر بچوں کو خوش آمدید کہا ہے اور انہیں مصری بچوں کی طرح تعلیم فراہم کی ہے:”یہ امن اور ایک بہتر مستقبل میں سرمایہ کاری ہے جو سرحدوں سے بالاتر ہے۔”

ایجوکیشن انٹرنیشنل کے صدر موگوانا مالولیکے نے اپنے ابتدائی خطاب میں کہا:”ہم ایک تحریک کے طور پر تعلیم کے عالمی حق کے لیے کھڑے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ معیاری تعلیم صرف مکمل فنڈڈ اور سب کے لیے مفت عوامی تعلیمی نظام کے ذریعے ہی ممکن ہے، جسے مضبوط تدریسی پیشے کی بنیاد پر استوار کیا جائے۔”انہوں نے عالمی سطح پر ‘گو پبلک! فنڈ ایجوکیشن’ مہم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے حکومتوں پر تعلیم میں سرمایہ کاری پر زور دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی زیر نگرانی ٹیچنگ پروفیشن پر بنائی گئی اعلیٰ سطحی پینل کی سفارشات پر عملدرآمد ضروری ہے، جس میں بحران کے حالات میں اساتذہ کی تنخواہوں کے لیے عالمی فنڈ کے قیام کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا:
“ہماری تعلیم کے لیے جدوجہد اور امن کے لیے جدوجہد ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتیں۔ جب کہ فوجی اخراجات ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں، تنازعہ زدہ علاقوں میں عوامی تعلیمی نظام تباہ ہو رہے ہیں۔”فلسطین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مالولیکے نے کہا کہ ایجوکیشن انٹرنیشنل ہمیشہ تمام فریقین سے امن کی اپیل کرتا رہا ہے اور انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا، اسرائیلی حکومت کی مسلسل جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا:”ہم تبدیلی کے علمبردار ہیں۔ چاہے چیلنجز کچھ بھی ہوں، یاد رکھیں آپ اس جدوجہد میں اکیلے نہیں ہیں۔ ہم سرحدوں سے پار مل کر ناانصافی کے خلاف لڑیں گے۔”
ایجوکیشن کینوٹ ویٹ (ECW) کی سی ای او یاسمین شریف نے بھی اجلاس سے خطاب کیا اور دنیا بھر میں تنازعات سے متاثرہ طلبہ کی حالت زار پر روشنی ڈالی:”چار ملین بچے اور نوجوان معیاری تعلیم سے محروم ہیں۔ ہمیں ان تک رسائی حاصل کرنی ہوگی جو پیچھے رہ گئے ہیں۔”
بحران کے دوران اساتذہ کی تنخواہیں
لبنان اور فلسطین کے بحران زدہ حالات میں اساتذہ کی تنخواہوں پر مبنی دو مطالعات بھی پیش کیے گئے۔
ای آئی کے جنرل سیکرٹری ڈیوڈ ایڈورڈز نے کہا:”ہم ایک ‘ٹیچرز ان ایمرجنسی فنڈ’ کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔ بغیر استاد کے تعلیم کا تصور ممکن نہیں۔ جنگوں، تنازعات اور قدرتی آفات کے باوجود اساتذہ اپنے طلبہ کے پاس جاتے ہیں، چاہے انہیں تنخواہ نہ بھی ملے۔ یہ ناانصافی ہے اور اسے دنیا بھر میں ہماری ترجیح بنانا ہوگا۔”نہوں نے کہا کہ جو ڈیٹا اور کہانیاں اکٹھی کی جا رہی ہیں وہ اس مہم کو مضبوط بنانے میں مدد کریں گی:”اب ایک عالمی اتفاق رائے موجود ہے کہ اساتذہ کی حمایت کے بغیر تعلیم ممکن نہیں۔”انہوں نے مزید کہا:
“لوگ کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اساتذہ کی جگہ لے سکتی ہے، لیکن میں نے کبھی کسی چیٹ بوٹ مصنوعی ذہانت کو بمباری میں طالبعلم کی حفاظت کرتے یا اپنا کھانا بانٹتے نہیں دیکھا۔”
بہترین عملی اقدامات کا تبادلہ
ایک اور اجلاس میں فلسطین کے وزیر تعلیم ڈاکٹر امجد برہم نے غزہ اور مغربی کنارے میں تعلیم کے جاری رکھنے کے لیے حکومتی کوششوں پر روشنی ڈالی۔فلسطین، لبنان اور شام کے مزدور رہنماؤں نے بھی بحران میں تعلیمی کارکنوں کے لیے سفری سہولیات، نفسیاتی مدد اور تعلیمی تحفظات پر بات کی۔
ای آئی عالمی اسٹریٹجک پلان سے ہم آہنگی
ای آئی کے جنرل سیکرٹری ایڈورڈز نے ای آئی کا نیا عالمی حکمت عملی منصوبہ پیش کیا جس کے تحت پیشہ، عوامی تعلیم، انسانی اور تجارتی حقوق، صنفی و سماجی انصاف اور ماحولیاتی انصاف کے لیے کام کیا جائے گا۔
گو پبلک اور فنڈ ایجوکیشن مہم
مہم کے مینیجر اینجلو گیوریلاٹوس نے کہا:
“یہ مہم اساتذہ کو مرکز میں رکھتی ہے۔ بغیر اچھی طرح تربیت یافتہ اور معاونت یافتہ اساتذہ کے تعلیم کا نظام نہیں چل سکتا۔”انہوں نے کہا کہ”اگر ہمیں معیاری تعلیم حاصل کرنی ہے تو ہمیں 2030 تک دنیا بھر میں مزید 44 ملین اساتذہ درکار ہوں گے، جبکہ ACCRS ممالک میں 4.3 ملین اساتذہ کی ضرورت ہے۔”انہوں نے کہا کہ مصر میں 4.8 لاکھ اساتذہ کی کمی متوقع ہے اور اساتذہ کے پیشے سے اخراج کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔
شراکت داری کو مضبوط بنانا
ایجوکیشن کینوٹ ویٹ کے چیف ناصر فقیہ نے بتایا کہ ان کا ادارہ 1997 سے طبی، غذائی اور تعلیمی امداد فراہم کر رہا ہے۔
یونیسکو بیروت دفتر کے نمائندے نے بھی تعلیمی پالیسی ڈائیلاگ میں اساتذہ کو شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
اقوام متحدہ کی سفارشات پر عمل درآمد
ای آئی افریقہ کے ڈائریکٹر ڈینس سینیولو نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سفارشات تدریسی پیشے کو بلند مقام دینے اور اساتذہ کی کمی پر قابو پانے کے لیے بنائی گئی ہیں۔گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن (GPE) کی نمائندہ اپریل گولڈن نے کہا کہ جی پی ای فنڈ دنیا کے 90 غریب اور متوسط آمدنی والے ممالک میں تعلیم کی مالی معاونت فراہم کرتا ہے، اور تعلیم کے مقامی گروپوں میں اساتذہ کی شرکت کو لازمی بنانا چاہیے۔
خلاصہ
ساتویں دو سالہ ای آئی ACCRS کانفرنس نے بحران کے حالات میں اساتذہ کی حمایت، تعلیم کے لیے فنڈنگ بڑھانے اور شراکت داریوں کو مضبوط کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ اساتذہ کا کردار اور معیاری عوامی تعلیم و امن کے درمیان ناقابل تقسیم رشتہ واضح طور پر اجاگر ہوا۔
پیغام بالکل واضح تھا: حکومتوں کو تعلیم کو ترجیح دینی ہوگی، اساتذہ کی حمایت کرنی ہوگی، اور ہر بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی دینی ہوگی۔

(بشکریہ ایجوکیشن انٹر نیشنل)
ہمیں نوجوانوں کی تربیت کرکے اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنی کمپنیاں بنا کر ملک و قوم کی خدمت کرسکیں۔ ……زرعی پیداوار کو بڑھانے،انڈسٹری کو فروغ دینے اور خوشگوار ماحول کیلئے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کو سیکھنا ہوگا۔…….وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی

وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا ہے کہ گلوبل وارمنگ، موسمیاتی تبدیلی، صحت، تعلیم اور معیشت سمیت تمام شعبوں میں ترقی کیلئے نئی ٹیکنالوجی سیکھنے اور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی آفس آف ریسرچ انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (اورک) کے زیر اہتمام دوروزہ دسویں انوینشن ٹوانوویشن سمٹ۔ 2025ء کی اختتامی تقریب سے الرازی ہال میں خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر چیف آپریٹنگ آفیسر ٹیوٹا مہر شاہد زمان لک، پرووائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمود، چیف ایڈوائزریو ایم ٹی پروفیسر ڈاکٹر عابد ایچ کے شیروانی، ڈائریکٹر اورک ڈاکٹر عقیل انعام، سینئر نائب صدر سندرٹریڈ اینڈ انڈسٹریل ایسو سی ایشن سید معاذ محمود، سینئر نائب صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری انجینئر خالد عثمان، قادری گرو پ آف کمپنیز سے محمد عرفان قادری، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر فرقان ہاشمی، سائنسدان، انڈسٹری کے نمائندے،محققین،دیگر جامعات سے اساتذہ و طلباؤطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ ہمیں نوجوانوں کی تربیت کرکے اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنی کمپنیاں بنا کر ملک و قوم کی خدمت کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار کو بڑھانے،انڈسٹری کو فروغ دینے اور خوشگوار ماحول کیلئے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کو سیکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا ہمیں اپنی انڈسٹری کو مینوفیکچرنگ تک محدود نہیں رکھنابلکہ آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایجادات کی تعلیم کو سکول کی سطح پر روشناس کرانا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کو چھوٹی چھوٹی ایجادات و اختراعات کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے بہترین تقریب کے انعقاد پر اورک ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ مہر شاہد زمان لک نے کہاکہ پنجاب یونیورسٹی نے دور روزہ سمٹ میں نئی نسل کو چیلنجزسے نمٹنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی سیکھنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کے لئے ہمیں ہر شعبہ زندگی میں ٹیکنالوجی کو اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنیکل سکلز کا فروغ بہت اہم ہو چکا ہے۔ خالد عثمان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے دنیا کے طور طریقے تیزی سے بدل رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک کو قوم کی ترقی و خوشحالی کے لئے انڈسٹری، اکیڈیما اوربزنس کمیونٹی کو مل کر کردا ر ادا کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر عقیل انعام نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی اورک کے زیر اہتمام دو روزہ سمٹ کا مقصد کلچر آف شیئرنگ کو فروغ دینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شرکاء کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی نئی ٹیکنالوجیز و تجاویز سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔تقریب سے سید معاذ محمود، محمود عرفان قادری نے بھی خطاب کیا۔ بعد ازاں دو روزہ سمٹ میں منعقدہ اورل، پوسٹر پریزنٹیشن اور ٹیکنالوجی سٹالز میں کامیاب قرار پانے والے شرکاء کو تعریفی اسناد اور کیشن انعامات سے نوازا گیا۔
پاکستان میں ہر سال 22,000 افراد کی قبل از وقت موت اور 1,63,000 معذوری کی سالانہ شرح ماحولیاتی آلودگی کے باعث ہو رہی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔یہ اعداد و شمار صرف نمبرز نہیں ہیں، بلکہ یہ وہ زندگیاں ہیں جو متاثر ہو چکی ہیں، وہ کمیونٹیز ہیں جو مشکلات کا شکار ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وائس چانسلر جی سی یو لاہور ،پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری کاماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے کانفرنس( “CO₂ Talks)سے خطاب
پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں اہم کانفرنس کا انعقاد۔کانفرنس میں مختلف شعبوں کے ماہرین کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی بحران کو حل کرنے کے لیے سائنسی تحقیق، پالیسی سازی اور مختلف شعبوں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ CO2 ٹاکس کے موضوع پر کانفرنس سے جی آئی زیڈ پاکستان کی ہیڈ یولیا بازینووا، جی سی یو لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری، ڈاکٹر ایاز الدین، جی سی یو ایس ڈی ایس سی کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر فائزہ شریف،وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر ذوالفقار یونس، WWF پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان سمیت مختلف ماہرین نے خطاب کیا۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری نے ماحولیاتی مسائل کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 22,000 افراد کی قبل از وقت موت اور 1,63,000 معذوری کی سالانہ شرح ماحولیاتی آلودگی کے باعث ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار صرف نمبرز نہیں ہیں، بلکہ یہ وہ زندگیاں ہیں جو متاثر ہو چکی ہیں، وہ کمیونٹیز ہیں جو مشکلات کا شکار ہیں اور وہ مستقبل ہے جو خطرے میں ہے۔پروفیسر چوہدری نے مزید کہا کہ حقیقی تبدیلی فرد سے شروع ہوتی ہے۔ ہر شخص کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے حکومت کالج یونیورسٹی کی پائیداری کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یونیورسٹی ماحول دوست تعلیمی ادارہ بننے کی راہ پر گامزن ہے۔وائس چانسلر نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ حکومت کالج یونیورسٹی اپنی فیکلٹی کی قیادت میں ماحولیاتی مسائل پر تحقیق اور آگاہی پیدا کرنے کے لیے مستقل طور پر کام کر رہی ہے۔

بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS) اور بلوچستان کے لیے ایک قابلِ فخر لمحہ!
پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ، وائس چانس، اسلام آباد میں منعقدہ “اُڑان: پاکستان کی ترقی ڈیجیٹل تبدیلی کے ذریعے” میں بلوچستان کی نمائندگی کی ، اور “ڈیجیٹل اور اے آئی کے دور میں جامعات کا نیا تصور” کے موضوع پر ایک اور اہم سیشن میں بھی اپنا مؤثر کردار ادا کیا، جس میں ملک کے صفِ اول کے وائس چانسلرز اور ٹیکنالوجی لیڈرز شریک تھے۔
4o
یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس میں نیوٹریشن، فوڈکیمسٹری اینڈ کیلنیری سائنسز کے موضوع پر عالمی کانفرنس کا انعقاد
ہوم اکنامکس یونیورسٹی کے شعبہ نیوٹریشن
اینڈ ہیلتھ پرموشن کے تحت منعقدہ عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں
سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن اینڈ چیئرپرسن پنجاب ایچ ای سی ڈاکٹر فرخ نوید نے
خصوصی طور پر شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر
ڈاکٹر زیب النساء حسین نے کہا کہ ہوم اکنامکس یونیورسٹی میں ریسرچ کلچر کو
فروغ دینے کو ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے،ہوم اکنامکس یونیورسٹی 70 سال سے
فوڈ سائنسز اور نیوٹریشن کے شعبوں کے لیے ماہرین پیدا کر رہی ہے۔ انھوں نے
کہا کہ پاکستان کے بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ان کی
نشوونما میں پیچیدگیاں پیدا ہورہی ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر زیب النساء کا کہنا
تھا کہ ہوم اکنامکس یونیورسٹی کے پلیٹ فارم سے ماہرین تعلیم کو جمع کرنے کا
مقصد اس اہم ترین موضوع پر تحقیقی پیش رفت پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ کانفرنس
سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن پنجاب ڈاکٹر فرخ نوید کا کہنا
تھا کہ پنجاب کی 25 یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز تعینات کیے ہیں،
پروفیسر زیب النساء کی بہ طور وائس چانسلر تقرری میرٹ کا منہ بولتا ثبوت
ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پنجاب میں ٹرانس نیشنل ایجوکیشن پالیسی کا نفاذ کیا
جا رہا ہے، غیر ملکی جامعات پنجاب میں آئیں گی،اس پالیسی سے عالمی جامعات
کی ڈگریاں پنجاب میں شروع ہوں گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ کیمسٹری میرا پسندیدہ
مضمون ہے، لیکن میرا تعلیمی میدان فزکس کا مضمون رہا ہے۔ سیکرٹری ہائیر
ایجوکیشن پنجاب نے یقین دلایا کہ ہوم اکنامکس یونیورسٹی میں اساتذہ کی
ٹریننگ، اینٹرپرینورشپ، ریسرچ کے شعبوں میں محکمہ ہائیر ایجوکیشن اور پنجاب
ایچ ای سی معاونت کریں گے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر جمیل
انور نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی پر قابونہ پایا گیا تو اس کے براہ راست
اثرات ہماری خوراک پر مرتب ہوں گے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحول دوست
اقدامات اُٹھائے جس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا کم سے کم اخراج ہو۔انھوں نے
کہا کہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحول کے تحفظ میں اپنا کردار ادا
کرے۔ کانفرنس میں برطانیہ، جرمنی، سپین اور سعودی عرب کے پروفیسرز نے اپنے
اپنے تحقیقی مقالہ جات پیش کیے۔ کانفرنس میں شریک مندوبین، طالبات اور
اساتذہ میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زیب النساء کی جانب سے سرٹیفکیٹس بھی
تقسیم کیے گئے۔ کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر وائس چانسلر نے ڈاکٹر عباس
خان، ڈاکٹر عائزہ قمر، ڈاکٹر سفینہ امجد
سمیت تمام آرگنائزنگ کمیٹیوں کو مبارکباد پیش کی
