شعبہ انگلش لینگویسٹکس اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیر اہتمام عالمی انگریزی زبان اور مقامی ثقافت کی مطابقت کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ہو گیا۔ دوروزہ کانفرنس میں پاکستان ، ترکیہ اور عمان کی جامعات سے آن لائن ذرائع سے مندوبین شریک ہیں۔افتتاحی سیشن میں ایڈیشنل کمشنر کوارڈینیشن نیئر مصطفیٰ مہمان اعزازشریک تھے۔ کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے کہا ہے کہ انگریزی زبان کی دور حاضر میں اہمیت مسلمہ ہے۔ کانفرنس میں موجود ملکی اور غیر ملکی مندوبین انگریزی زبان کی عالمی اور مقامی اہمیت اور کلچر سے مطابقت پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اس علمی مباحثےسے اساتذہ اور طلباو طالبات انگریزی زبان کی مختلف جیحات خصوصا مصنوعی ذہانت کی مدد سے تدریسی مواد کی تیاری اور عملی تدریس میں مدد ملےگی۔ چیئرمین شعبہ ڈاکٹر ریاض حسین نے کہا ہے کہ دوسری بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد انگریزی لسانیات میں اعلیٰ درجے کی تدریس و تحقیق کی عکاس ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے انعقاد میں تعاون اور سرپرستی پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران اور ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ لینگویجز پروفیسر ڈاکٹر سید عامر سہیل کا شکریہ ادا کیا۔ افتتاحی سیشن میں پروفیسر ڈاکٹر علی کراکس مہمت عاکف ایرسوئے یونیورسٹی بردور ترکیہ،ڈاکٹر ماریہ اسابیل مالڈوناڈو گارشیا انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج اینڈ لینگوئسٹکس یونیورسٹی آف پنجاب،ڈاکٹر شمائلہ میمن سحر یونیورسٹی سلطنت آف عمان، ڈاکٹر محمد اجمل شعبہ انگلش شیخ ایاز یونیورسٹی شکارپور سندھ، ڈاکٹر ظہور حسین ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ انگلش اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، ڈاکٹر محمد کمال خان شعبہ انگلش علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد،ڈاکٹر سحرش افتخار یونیورسٹی آف سدرن پنجاب نے کلیدی خطاب کیا۔ اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف لاء پروفیسر ڈاکٹر راؤ عمران حبیب، ڈین فیکلٹی آف اسلامک اینڈ عربیک اسٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر شیخ شفیق الرحمن، چیئرمین شعبہ انٹرنیشنل ریلیشنز پروفیسر ڈاکٹر محمد اعجاز لطیف، چیئرمین شعبہ انگلش لٹریچرپروفیسر ڈاکٹر محمد آصف خان، چیئرمین شعبہ سرائیکی ڈاکٹرمحمد ممتاز خان ، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز ڈاکٹر شہزاد احمد خالد موجود تھے۔
کانفرنسز / کانووکیشن
نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پوری انسانیت کے لیے ایک جامع، روشن اور قابلِ عمل نمونہ ہے, رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلواخلاق، عدل، رواداری، شفقت اور حکمت آج کے دور کے چیلنجز کا بہترین حل فراہم کرتا ہے۔……….وفاقی وزیر برائے مذہبی امور، سردار محمد یوسف

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور، سردار محمد یوسف نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پوری انسانیت کے لیے ایک جامع، روشن اور قابلِ عمل نمونہ ہے, رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلواخلاق، عدل، رواداری، شفقت اور حکمت آج کے دور کے چیلنجز کا بہترین حل فراہم کرتا ہے۔اِن خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی سیرت کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ صوفیائے کرام نے سیرتِ نبوی ﷺ کو صرف بیان نہیں کیا بلکہ اپنے کردار اور عمل سے اس کا زندہ نمونہ پیش کرکے ہماری رہنمائی کی۔ آج مختلف ادارے اسی مشن کو اپنے دائرہ کار میں آگے بڑھا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزارتِ مذہبی امور ہر سال سیرت کانفرنس کا انعقاد کرتی ہے، سیرت پر لکھنے والوں کو ایوارڈز دیتی ہے اور اس پیغام کو مؤثر انداز میں عام کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں سیرت کانفرنس کا کامیاب اہتمام اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس پر یونیورسٹی انتظامیہ، کلیہ عربی و علومِ اسلامیہ اور وائس چانسلر واقعی مبارکباد کے مستحق ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ حضور ﷺ سے بہتر انسان نہ آیا ہے نہ آئے گا اور اُن کی سیرت ہر دور کے لیے روشنی ہے۔

برصغیر کے صوفیاء نے اسی سیرت کو کتابوں سے نہیں، اپنے عمل سے زندہ کیا۔ وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ برابری، رحم دلی، سادگی، نفس کی اصلاح اور اقتدار سے دوری برصغیر پاک و ہند کے صوفیاء کی عملی تعلیمات تھیں۔ڈاکٹر ناصر محمود نے مزید کہا کہ صوفیاء نے ذاتِ رسول ﷺ سے عشق کو زندگی کے ہر پہلو میں ایسا سمویا کہ معاشرہ اُن کے کردار سے سیکھتا رہا، ہماری آج کی گفتگو بھی اسی ورثے کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کا ذریعہ بنے گی۔

جامعتہ الزیتونتہ، تیونس کے پروفیسر ڈاکٹر محمد العربی بوعزیزی نے برصغیر پاک و ہند میں صوفیاء کی خدماتِ سیرت پر اپنا کلیدی خطبہ پیش کیا۔کلیہ عربی و علوم اسلامیہ کے ڈین، پروفیسر ڈاکٹر شاہ محی الدین ہاشمی نے بھی سیرت کے مختلف پہلوں اور سیرت کے حوالے سے صوفیاء کی خدمات پر روشنی ڈالی۔صدر شعبہ سیرت سٹڈیز، پروفیسر ڈاکٹر شاہ معین الدین ہاشمی نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد تفصیل سے بیان کئے۔اس کانفرنس کے پہلے روز افتتاحی سیشن کے بعد علمی سیشن (1) اور متوازی علمی سیشن (2)، نیز ایک متوازی علمی کمبائن سیشن منعقد ہوگا جبکہ دوسرے روز علمی سیشن (1)، متوازی علمی سیشن (2) اور اختتامی تقریب کا اہتمام کیا جائے گا۔ سیرتِ النبیؐ پر 50 مقالات پیش کیے جائیں گے۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاول پور اور چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاول پور کے زیر اہتمام پہلی ملٹی ڈسپلنری کانفرنس ریسرچ ، پالیسی اور ایکشن 2025 کا آغاز
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاول پور اور چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاول پور کے زیر اہتمام پہلی ملٹی ڈسپلنری کانفرنس برائے ایس ڈی جیز (اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف) ریسرچ ، پالیسی اور ایکشن 2025 کا آغاز بغداد الجدید کیمپس کے خواجہ غلام فرید آڈیٹوریم میں ہوگیا۔ اس موقع پر اپنے پیغام میں وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورپروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور دیگر علاقائی جامعات کے ساتھ اقوام متحدہ کے دیرپا ترقی کے اہداف کے حصول اور عملدرآمد کے لیے اشتراک عمل کر رہی ہے ۔ کانفرنس کے موضوعات سماجی و معاشی ترقی و مساوات گورننس اور ماحولیات پر مبنی ہیں ۔ کانفرنس میں شریک قومی اور بین الاقوامی مندوبین یقینی طور پر عالمی قومی اور علاقائی چیلنجز سےنمٹنے کے لیے قابل عمل تجاویز دیں گے جس سے ہمارے اساتذہ اور طلباو طالبات مستفید ہوں گے۔ پروفیسر ڈاکٹر روبینہ بھٹی ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد محققین اکیڈیما صنعتی اور پیشہ ورانہ ماہرین میڈیا سرکاری اور نجی ترقیاتی اداروں کو دنیا بھر سے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے تاکہ موجودہ دور کے سماجی و معاشی حالات کو اقوام متحدہ کے دیرپا ترقی کے اہداف کے تناظر میں دیکھا جا سکے۔ کانفرنس کے اہم موضوعات میں تخفیف غربت عدم مساوات زراعت اور ویٹرنری کے شعبے کی پائیدارترقی صحت تعلیم اور صنفی مساوات بہبود خواتین صاف پانی کی فراہمی صفائی اور دیرپا ترقی کے حامل شہر گرین انرجی یوتھ اور ٹیکنالوجی موسمیاتی تبدیلی اور پائیدار ماحول گورننس اور لیڈر شپ امن و انصاف و ادارہ جاتی مضبوطی ہے۔ افتتاحی اجلاس میں کانفرنس فوکل پرسن ڈاکٹر مریم عباس سہروردی نے اس پہلی کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے تینوں میزبان جامعات کے وائس چانسلرز کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم اور وائس چانسلر چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر مظہر ایازنے کلیدی خطاب کیا۔ افتتاحی سیشن کے بعد منعقدہ پینل مباحثے میں پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد بزدار وائس چانسلر تھل یونیورسٹی بھکر، پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار وائس چانسلر یونیورسٹی آف سدرن پنجاب ملتان، ڈاکٹر صوفیہ فرخ پرنسپل قائداعظم میڈیکل کالج بہاولپور، ڈاکٹر شاہد سرویا ڈائریکٹر جنرل پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن وفاقی وزارت تعلیم،ڈاکٹر فاروق شجاعت چیف آف ریسرچ/ڈائریکٹرفیکلٹی آف سوشل سائنسز، وقاص منظور چیمہ ڈائریکٹر آئی ٹی ڈی ایچ اےبہاولپور اور چولستان انووسٹا، ڈاکٹر حماد مجید شعبہ کیمسٹری کے سربراہ اور ڈائریکٹر اورک یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی سیالکوٹ کیمپس ،انجینئر مہمت انیس انڈسٹریل انجینئر آئی ٹی ماہر اور ہوازہونگ یونیورسٹی آف سائنس میں کنسلٹنٹ اینڈٹیکنالوجی چین ،پروفیسر ڈاکٹر آصف رانجھا چیئرمین شعبہ سوشل ورک سرپرست موسمیاتی تبدیلی پر کنسورشیم پائیداری اور تحفظ ،پروفیسر ڈاکٹر مقرب اکبر ڈائریکٹر پیس اینڈانسداد انتہا پسندی ریسرچ سینٹر، ڈاکٹر زینب عباس چیف کیمسٹ اینڈ واٹر ایکسپرٹ واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹی، پروفیسر ڈاکٹر اظہر رسول ڈائریکٹراورک بابا گرونانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب، پروفیسر ڈاکٹر ارشاد حسین ڈین فیکلٹی آف ایجوکیشن ،پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی ڈین فیکلٹی آف میتھمیٹیکل سائنسز ، پروفیسر ڈاکٹر اسد اللہ مدنی ڈائریکٹر کیو ای سی ،پروفیسر ڈاکٹر واجد نسیم جتوئی ڈائریکٹرانٹرنیشنل سنٹر فار کلائمیٹ چینج فوڈ سیکورٹی اینڈ سسٹین ایبلیٹی، پروفیسر ڈاکٹر ثمر فہد، پروفیسر ڈاکٹر محمد عبداللہ اور ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز ڈاکٹر شہزاد احمد خالد شریک ہوئے۔ کانفرنس میں ملائیشیا انڈونیشیااور ترکیہ سے مندوبین شریک ہیں۔گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاول پور سے کانفرنس کی فوکل پرسن ڈاکٹر عظمی مقبول اور چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاول پور سے محمد کمال شریک ہوئے اور کانفرنس کے سیکریٹری کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر سلمان بن نعیم نے انجام دیئے۔
#IUB #UNO #PIE
تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں،پاکستانی طلبہ میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے،انہیں درست سمت دیں گے تووہ دنیا میں آگے بڑھیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ
وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا کہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں،پاکستانی طلبہ میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے،انہیں درست سمت دیں گے تووہ دنیا میں آگے بڑھیں گے۔اتوار کے روزنیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈایمرجنگ سائنسز فاسٹ فیصل آباد چنیوٹ کیمپس میں 84ویں کانووکیشن کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جنوبی کوریا ماضی میں ایک دوسرے کے ترقیاتی ماڈلز سے سیکھتے رہے ہیں اور دونوں ممالک کی معیشتیں ایک زمانے میں ہم پلہ تھیں،اسی طرح پاکستان کے کامیاب پانچ سالہ منصوبے جنوبی کوریا کی وزارت تعلیم و منصوبہ بندی کے لیے مثال رہے اور اس دور میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔وفاقی وزیر نے ایوان اسمبلی میں حالیہ خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تعلیم، خصوصاً انٹرمیڈیٹ اور اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک بھر کے طلبہ کی کارکردگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جب تک 12 سال کی بنیادی اور مضبوط تعلیم فراہم نہیں کی جاتی اس وقت تک ملکی ترقی کا سفر تیز نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ جن ممالک نے تعلیم پر خصوصی توجہ دی وہ آج نمایاں ترقی کر چکے ہیں۔ تھائی لینڈ کی مثال دیتے ہوئے قیصر احمد شیخ نے کہا کہ انہی ممالک نے تعلیم کو ترجیح بنا کر معاشی استحکام حاصل کیا۔قیصر احمد شیخ نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے گریجوایٹس پر ملک کے مستقبل کی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے خصوصاً والدین کو بھی مبارکباد پیش کی جنہوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے فاسٹ یونیورسٹی جیسے معیاری ادارے کے سپرد کیا۔وفاقی وزیر سرمایہ کاری نے بتایا کہ فاسٹ یونیورسٹی چنیوٹ کیمپس کا قیام ایک خواب تھا جو آج حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں ان کی فیملی، دوستوں اور کمپنی نے یونیورسٹی کیلئے 10 ایکڑ زمین فراہم کی۔ اس وقت کئی لوگ اسے ناکام قدم سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ چنیوٹ جیسے دوردراز علاقے میں فاسٹ یونیورسٹی کا کیمپس بنانا نقصان دہ ہوگا مگر آج یونیورسٹی کی کامیابی ان خدشات کا بہترین جواب ہے۔انہوں نے کہا کہ چنیوٹ اور گردونواح کے طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد، تعلیمی رجحان اور جدید سہولیات سے استفادہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ادارہ علاقے کے لیے علم و ترقی کا مرکز بن چکا ہے۔قیصراحمد شیخ نے کہا کہ کمپیوٹر سائنس اور جدید تعلیم ملک کے تابناک و روشن مستقبل کی ضمانت ہے جبکہ فاسٹ یونیورسٹی نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم فراہم کر رہی ہے تاہم یہ طلبا و طالبات کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا بہتر نقشہ خود بنائیں اور اپنی منزل کے حصول و مقاصد کی تکمیل کیلئے دن رات ایک کردیں کیونکہ محنت اور مسلسل جدوجہدمیں ہی کامیابی کا راز مضمرہے۔
وفاقی وزیر نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ جدید تعلیم کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے میں کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی اور کارپوریٹ سیکٹر کی مشترکہ کوششیں ملک کے تعلیمی اور ثقافتی مستقبل کیلئے سنگ میل ثابت ہوں گی۔ وفاقی وزیرقیصر احمد شیخ نے کہا کہ نوجوان اقبال کے شاہین اور ملک کا مستقبل ہیں جبکہ تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتااسی لئے تعلیمی میدان میں سرکاری کیساتھ ساتھ نجی شعبہ کا کردار بہت اہم ہے چونکہ انہی نوجوانوں نے مستقبل میں ملک اور قوم کی باگ ڈور سنبھالنی ہے لہٰذا عالم اقوام کا مقابلہ کرنے کیلئے انہیں بھرپور محنت اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے ہم تعلیمی میدان میں اتنا آگے نہیں جاسکے جتناجاناچاہئے تھالیکن اس کے برعکس بیرونی ممالک نے تعلیم پر توجہ دی اورشاندار ومثالی ترقی کی۔انہوں نے کہا کہ چنیوٹ ایک تاریخی شہر ہے جبکہ اپنے کلچر اور تعلیمی میدان کے حوالے سے یہاں کے50 فیصد لوگ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور منتخب ہوئے اور بزنس کمیونٹی کی خدمت کی۔
انہوں نے کہا کہ فاسٹ یونیورسٹی مستقبل میں لیڈر شپ پیدا کرے گی کیونکہ یہاں کے طلبا بے پناہ ٹیلنٹ اور خداداد صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس ادارے سے بہت خوش ہیں اور جب بھی یہاں کے طلباوطالبات سے ملتے ہیں تو انہیں دلی خوشی محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس ادارہ کے حوالے سے انہوں نے جو خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر مل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج طلباو طالبات کی کامیابی ان کے والدین واساتذہ کرام کی محنت اور دعاؤں کا نتیجہ ہے اور وہ ان کے روشن مستقبل کیلئے دعا گو ہیں کہ اللہ کریم ہمارے مستقبل کے معماروں کو زندگی کے ہر شعبہ میں کامیابیاں عطا فرمائے۔انہوں نے گولڈ میڈل حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے 10 لاکھ روپے اور مستحق طلبہ کے لیے 10 لاکھ روپے دینے کابھی اعلان کیا۔وفاقی وزیرقیصر شیخ نے یونیورسٹی انتظامیہ، اساتذہ، والدین اور فارغ التحصیل طلبہ کو کامیاب کانووکیشن پر مبارکباد پیش کی۔قبل ازیں ڈائریکٹر سیفائر گروپ محمد یونس نے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ایک محفوظ اور ترقی یافتہ مستقبل کی سب سے مضبوط راہ ہے۔
دنیا سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے باعث بے مثال رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اور صرف وہی قومیں عالمی میدان میں مقابلہ کر سکتی ہیں جو تحقیق، تنقیدی سوچ اور جدید علوم کو اپنا لیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی ’انفارمیشن ایج‘ ہے جہاں معیشتیں محض روایتی صنعتوں کی بجائے مہارت، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی طاقت پر پروان چڑھتی ہیں۔فاسٹ یونیورسٹی کے اعلیٰ معیار تعلیم کے حامل ادارے کے طور پر تعریف کرتے ہوئے انہوں نے اسے پاکستان کی ٹیکنالوجیکل اور معاشی ترقی میں ایک اہم ستون قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی نے مختصر عرصے میں ہنرمند گریجویٹس کی تیاری سے لے کر تحقیق اور مقامی صنعت کی مضبوطی تک کئی شاندار سنگ میل عبور کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فاسٹ یونیورسٹی ہر سال دو ہزار سے زائد طلبہ کی مالی معاونت کے لیے تقریباً 8 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کرتی ہے اور آئندہ بھی نوجوانوں کو مختلف پس منظر سے اْٹھ کر با مقصد کیریئر بنانے کے مواقع فراہم کرتی رہے گی۔انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے نصیحت کی کہ وہ عملی زندگی میں خود اعتمادی، محنت، انکساری اور ملکی خدمت کے جذبے کے ساتھ قدم رکھیں۔ ان کے مطابق، تعلیم کا حقیقی مقصد اس کے عملی نفاذ میں ہے اور طلبہ کی کامیابی والدین، اساتذہ اور یونیورسٹی کی قیادت کی تعاون سے ہی ممکن ہوتی ہے۔نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر آفتاب احمد معروف نے کہا کہ یونیورسٹی نے طلبہ کو وہ مہارتیں، ذہنی صلاحیت اور اعتماد فراہم کیا ہے جس کے ذریعے وہ فوراً پروفیشنل دنیا میں قدم رکھ سکتے ہیں۔
فیکلٹی، کیمپس مینجمنٹ اور خصوصاً والدین کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک طالب علم کے تعلیمی سفر کی بنیاد میں خاندان کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو درپیش بڑے چیلنجز کا ادراک کریں اور ان کے حل کے لیے آگے بڑھیں۔ انہوں نے فارغ التحصیل نوجوانوں کو کاروبار اور اختراع اپنانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو کبھی اپنے آپ کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ نوجوان پروفیشنلز پہلے صنعت سے وابستہ ہو کر عملی تجربہ حاصل کریں، مالیاتی نظام کو سمجھیں اور پھر ایسی کاروباری راہیں تلاش کریں جو پاکستان کی ضروریات کا حل پیش کریں۔اپنے خطاب میں انہوں نے فاسٹ کی تاریخ سے متاثر کن واقعات بھی بیان کیے جن میں لاہور اور چنیوٹ کیمپس کی تعمیر کے لیے بڑے پیمانے پر زمین کے عطیات بھی شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی نے ہمیشہ اپنے وسائل دیانت داری، شفافیت اور اعتماد کے ساتھ استعمال کیے ہیں اور فارغ التحصیل طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ یونیورسٹی سے مضبوط تعلق قائم رکھیں کیونکہ فاسٹ کی سہولیات اور سپورٹ نیٹ ورک ہمیشہ ان کے لیے کھلے رہیں گے۔پروفیسر ڈاکٹر شہزاد سرفراز ڈائریکٹرفاسٹ چنیوٹ فیصل آباد کیمپس نے استقبالیہ خطاب پیش کیا اور کیمپس کی نمایاں کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ پی ایچ ڈی الیکٹریکل انجینئرنگ، ایم ایس کمپیوٹر سائنس، ایم بی اے، بی ایس الیکٹریکل انجینئرنگ، بی بی اے، بی ایس کمپیوٹر سائنس اور بی ایس سافٹ ویئر انجینئرنگ میں ڈگریاں دی گئیں جبکہ میڈلسٹ اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو اعزازات سے نوازا گیا۔
اس موقع پرپاکستان میں تھائی لینڈ کے سفیر اور چیئر آف آسیان کمیٹی اسلام آباد رونگ وودھی ویرا بٹر،ملائیشیا کے ہائی کمشنر محمد اظہر مزلان، پاکستان میں میانمار کے سفیر وونا ہان، ریکٹر نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈایمرجنگ سائنسزفاسٹ ڈاکٹر آفتاب احمد معروف،پروفیسر ڈاکٹر شہزاد سرفراز ڈائریکٹرنیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز چنیوٹ فیصل آباد کیمپس، محمد یونس ڈائریکٹر سیفائر گروپ آف انڈسٹریزکے علاوہ طلبا و طالبات، ان کے والدین، فیکلٹی ممبران اور مختلف مکاتب فکر کے اہم افراد بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ قبل ازیں تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور قومی ترانہ سے کیا گیا۔
کانووکیشن میں پی ایچ ڈی(سی ایس)، پی ایچ ڈی(ای ای)، ایم ایس (سی ایس)، ایم ایس (ای ای)، ایم بی اے، بی ایس (ای ای)، بی بی اے، بی ایس (سی ایس)، بی ایس (ایس ای) کے فارغ التحصیل گریجوایٹس میں ڈگریاں جبکہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالوں میں میڈلز بھی تقسیم کئے گئے۔بعد ازاں وزیرموصوف نے سفیروں اور دیگر مہمانوں میں شیلڈز تقسیم کیں۔ آخر میں یادگاری گروپ فوٹو بھی بنایا گیا۔؎
#FASTNUCES #FASTNUCESLHR #AIEF2025 #AIChampionship #Innovation #TechExcellence #ProudMoment
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اسلام آباد چیپٹر کا کانووکیشن 2025 کاپُروقار انعقاد ۔۔۔۔۔۔۔ 800 طلبہ و طالبات کو عطا ء کی گئیں۔۔۔۔۔۔۔تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیرِ تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت خالد مقبول صدیقی تھے
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اسلام آباد چیپٹر کا کانووکیشن 2025 جناح کنونشن سینٹر میں پُروقار انداز میں منعقد ہوا جس میں 800 طلبہ و طالبات کو کامیابی کے ساتھ اپنی تعلیمی منزل تک پہنچنے پر ڈگریاں عطا ء کی گئیں جبکہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء و طالبات کو گولڈ، سلور اور برونز میڈلز سے نوازا گیا۔اس یادگار تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیرِ تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت خالد مقبول صدیقی تھے جبکہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے میزبانی کے فرائض انجام دیئے۔تقریب میں سیکرٹری تعلیم /قائم مقام چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ندیم محبوب، مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، اساتذہ، سماجی و سیاسی شخصیات نے بھرپور شرکت کی جس سے تقریب کو مزید وقار حاصل ہوا۔وفاقی وزیرِ تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کامیاب ہونے والے طلباء و طالبات اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ تعلیم کے میدان سے نکل کر عملی زندگی میں قدم رکھ رہے ہیں

اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنے علم اور صلاحیتوں سے ملک کی ترقی کے معمار بنیں، منزل دور ضرور ہے ،اگر راستہ درست ہو تو ملتی ضرور ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے ہر ایک پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے، آپ ایک ایسی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو رہے ہیں جو ملک بھر میں علم و دانش کا چراغ جلا رہی ہے۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے طلبہ کی کامیابی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا کوئی طالب علم موجود نہ ہو، ہمیں اپنے فارغ التحصیل طلباء پر ناز ہے جو مختلف اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ڈاکٹر ناصر کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی دیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ سے کسی بھی شعبے میں کم نہیں ہے، ہمارے طلبہ نے قومی و بین الاقوامی سطح کے مقابلہ جات میں درجنوں ایوارڈز حاصل کئے ہیں۔یونیورسٹی کی سماجی خدمات کی بات کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی خواجہ سراؤں، جیل کے قیدیوں اور معذور افراد کو مفت تعلیم فراہم کررہی ہے، اسی طرح بلوچستانگلگت بلتستان اور ضم شدہ قبائلی اضلاع کے بچوں کو میٹرک کی تعلیم مفت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا تعلیمی دائرہ کار اب دنیا بھر تک پھیل چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ گذشتہ سمسٹر میں 37ممالک سے انٹرنیشنل طلبہ داخل ہوچکے ہیں۔
سُپیریئر یونیورسٹی کی جانب سے ترکی میں بین الاقوامی ہیلتھ کیئر کانفرنس RASCON-2025 کا انعقاد
سُپیریئر یونیورسٹی نے ترکی کی استنبول آیدن یونیورسٹی میں منعقدہ تیسری بین الاقوامی بحالی و معاون صحت سائنس کانفرنس (RASCON-2025) کامیابی سے مکمل کرلی ہے۔ یہ عالمی سطح پر صحت و تعلیم کے اشتراک کے فروغ کے لیے ایک نئی مثال بن گئی ہے۔اس بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان سمیت 10 ممالک کے وفود اور 70 سے زائد اداروں کے 125 سینئر محققین نے شرکت کی۔ اس اجلاس نے دنیا بھر کے ماہرینِ صحت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے سائنسی تحقیق اور علاج معالجے کے شعبوں میں نئے رجحانات پر تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کیا۔
افتتاحی تقریب میں دی سپیریئر گروپ کے ڈائریکٹر مسٹر حمزہ رحمان، پاکستان کے قونصل جنرل استنبول جناب خواجہ خرم نعیم، اور یوریشین یونیورسٹیز یونین (EURAS) و استنبول آیدن یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر مصطفی آیدن شریک ہوئے۔ اس موقع پر سُپیریئر یونیورسٹی کے فیکلٹی آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد نوید بابر نے بھی اظہارِ خیال کیا۔تقریب میں مختلف تحقیقی مقالے، کلینیکل ورکشاپس، اور خصوصی سیشنز شامل تھے جن میں صحتِ عامہ اور بحالی کے جدید طریقۂ علاج، چیلنجز اور اختراعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
RASCON-2025 سُپیریئر یونیورسٹی کے اس عزم کی علامت ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی طبی تحقیق اور تعلیم میں نمایاں مقام دلایا جائے۔ یونیورسٹی عالمی علمی اشتراک کے ذریعے طلباء اور فیکلٹی کے لیے عملی اور تحقیقی مواقع فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ عالمی طبی برادری سے جڑ سکیں۔یہ کانفرنس اس امر کا ثبوت ہے کہ ادارتی و تعلیمی شراکت داریاں صحتِ عامہ اور بحالی طب کے میدان میں ترقی کے ساتھ ساتھ عالمی مکالمے کو بھی فروغ دے سکتی ہیں۔
مصنوعی ذہانت سے صحافت سمیت مختلف شعبوں میں بہتری آ سکتی ہے، مگر یہ سمجھنا قبل از وقت ہے کہ مستقبل میں یہ ٹول بنی نوع انسان کادوست ہوگا یا دشمن،……..:گورنرپنجاب سردار سلیم حیدر خان پنجاب یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹ آف میڈیا اینڈ ڈیویلپمنٹ کمیونیکیشن کے زیر اہتمام تین روزہ ’صحافی سمٹ 2025ء‘کی افتتاحی تقریب سے خطاب
:گورنرپنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ ہمیں دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے سسٹم کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال کیلئے جامعات کواپناکردار ادا کرنا ہوگا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹ آف میڈیا اینڈ ڈیویلپمنٹ کمیونیکیشن کے زیر اہتمام تین روزہ ’صحافی سمٹ 2025ء‘کی افتتاحی تقریب سے الرازی ہال میں خطاب کررہے تھے۔اس موقع پروزیر خزانہ پنجاب میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان، وائس چانسلرپنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی،سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی، پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود، چیئرپرسن ڈیپارٹمنٹ آف میڈیا اینڈ ڈیویلپمنٹ کمیونیکیشن ڈاکٹرعائشہ اشفاق، فاؤنڈر ایم ایم ایف ڈی اسد بیگ، شعبہ جات کے سربراہان، میڈیا نمائندگان، فیکلٹی ممبران اورطلباؤطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردار سلیم حیدرخان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے صحافت سمیت مختلف شعبوں میں بہتری آ سکتی ہے، مگر یہ سمجھنا قبل از وقت ہے کہ مستقبل میں یہ ٹول بنی نوع انسان کادوست ہوگا یا دشمن، جس پر مزید تحقیق، مکالموں اور بحث کی ضرورت ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ نوجوان طلباء مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال کو فروغ دے کر ذمہ داری کا ثبوت دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے پاس پہنچنے والی تقریباً60فیصد خبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس بات کو دیکھنے کی ضرورت ہے مصنوعی ذہانت معاشرے اور دنیا میں کیسے اثر انداز ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں صحافی سمٹ کا انعقاد خوش آئند ہے جس کے لئے منتظمین مبارک باد کے مستحق ہیں۔ میاں مجتبیٰ شجاع الرحما ن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کام میں آسانی، جدت اور تیزی پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے استعمال نے جھوٹی معلومات کو پھیلانے میں کردار ادا کیا ہے جس کا تدارک کرنے کے لئے تعلیم و تربیت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عصر ِ حاضر میں ذمہ دارانہ صحافت کا کردار مزید اہم ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب وزیر اعلیٰ مریم نوازکی قیادت میں میڈیا کی مضبوطی اور صحافیوں کی خوشحالی کیلئے اقدامات کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی مشین یا روبوٹ سچے صحافی کا نعمل البدل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی پاکستان کے باصلاحیت طلباؤطالبات کو تربیت فراہم کرکے ملکی ترقی میں بھرپور حصہ ڈال رہی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ صحافت میں مصنوعی ذہانت کا کردار اہم ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کو صرف نوکری کے حصول کیلئے ڈگریاں نہیں لینی چاہیے اوراس روش کو بدلنے کے لئے جامعات کواقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دورِ جدید میں چیزیں تیزی سے بدل رہی ہیں اور اگلے پانچ سال بعد دنیا کیسی ہوگی؟یہ سوال آج جامعات میں داخلہ لینے والے طلباؤطالبات کو تلاش کرنا ہوگا جنہوں نے آئندہ برسوں میں میدان عمل میں قدم رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپناسارا تعلیمی نظام دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات میں میڈیا کی تعلیم کا کردار بہت اہم ہے جس کا نصاب مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے میڈیا انڈسٹری کا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے جھوٹ اور سچ میں تمیز کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال احتیاط کا متقاضی ہے کیونکہ جب ایک گن سپاہی کے ہاتھ میں ہوتو حفاظت کرتی ہے اور وہی گن ڈاکو کے ہاتھ میں لوٹ کھسوٹ کا سبب بنتی ہے۔ ڈاکٹر عائشہ اشفاق نے کہا کہ تین روزہ سمٹ کا مقصدپنجاب یونیورسٹی طلباؤطالبات کو صحافت پر اثر انداز ہوتی مصنوعی ذہانت بارے آگاہی فراہم کرناہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت میڈیا انڈسٹری کو ٹرنسفارم کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں تواز ن کے لئے ضروری ہے کہ طاقت کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ کیا جائے۔ انہوں نے تقریب کے انعقاد پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی سمیت تعاون کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔اسد بیگ نے کہا کہ جہاں مصنوعی ذہانت کااستعمال نوکریوں کے خاتمے کا موجب بن رہا ہے وہیں نئے مواقع بھی پیدا ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میڈیا انڈسٹری کو مصنوعی ذہانت کے درست استعمال سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
#AI #PU # JOURNALISM #ilmiatonline
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں پہلی بین الاقوامی بعنوان خواتین کانفرنس خواتین مستقبل کی تشکیل کرتی ہیں: جدت، لچک اور قیادت”کا انعقاد
اسلام آباد: بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (IIUI) میں منعقدہ پہلی بین الاقوامی خواتین کانفرنس، جس کا موضوع “خواتین مستقبل کی تشکیل کرتی ہیں: جدت، لچک اور قیادت” تھا، کا دوسرا دن بین الاقوامی مقررین کی اہم کلیدی تقاریر کے ساتھ شروع ہوا، جس میں ڈیجیٹل دور میں خواتین کے لیے عصری چیلنجز اور مواقع پر توجہ دی گئی۔مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے ابھرتے ہوئے موضوعات جیسے کہ خواتین کے صارف کے تجربے کے تناظر میں نوکری کے کرداروں میں مصنوعی ذہانت (AI)، صنفی شمولیت پر مبنی اختراع، اور خواتین کو بااختیار بنانے کی عالمی حکمت عملیوں پر بات کی۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت اور تکنیکی ترقی کو جامع (inclusive) ہونا چاہیے تاکہ تمام شعبوں میں خواتین کے لیے مساوی مواقع کو یقینی بنایا جا سکے۔ عالمی رجحانات پر روشنی ڈالتے ہوئے، مقررین نے کہا کہ: “جس طرح کام کی جگہیں مصنوعی ذہانت کے ساتھ ترقی کر رہی ہیں، اسی طرح خواتین کے لیے ہنر مندی اور بااختیار بنانے کے ہمارے نقطہ نظر میں بھی تبدیلی آنی چاہیے تاکہ وہ پیچھے نہ رہ جائیں بلکہ تبدیلی کی قیادت کریں۔”کلیدی سیشن کے بعد، کانفرنس متوازی موضوعاتی سیشنز کی طرف بڑھی، جہاں مختلف شعبوں کے طلباء، محققین، اور مختلف جامعات کے فیکلٹی ممبران نے سرگرمی سے حصہ لیا۔ ان موضوعات میں ڈیجیٹل اختراع میں خواتین، خواتین کی قیادت، تنازعات زدہ علاقوں میں لچک، اور تبدیل ہوتی دنیا میں کیریئر کی موافقت شامل تھے۔

دو روزہ کانفرنس اختتامی تقریب کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی، جس کی صدارت IIUI کے صدر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے کی۔ انہوں نے فعال شرکت اور قابل قدر بصیرت فراہم کرنے پر انتظامی کمیٹی، شرکاء اور بین الاقوامی مہمانوں کی تعریف کی۔ فیڈرل شریعت کورٹ کے محترم جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور عالم نے بھی IIUI کے صدر کے ہمراہ اختتامی تقریب میں شرکت کی۔اپنے اختتامی کلمات میں، ڈاکٹر الاحمد نے قیادت، اختراع اور سماجی ترقی میں خواتین کے کردار پر مکالمے کو فروغ دینے والے مزید پلیٹ فارمز کے انعقاد کے لیے IIUI کے عزم پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ: “اس کانفرنس نے نہ صرف خواتین کی لچک اور قیادت کو اجاگر کیا ہے بلکہ جامع تعلیمی ترقی کے لیے IIUI کی لگن کی بھی تصدیق کی ہے۔”
اختتامی تقریب میں سردار بہادر خان یونیورسٹی، بلوچستان کی پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر راحیلہ عمر، شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (SZABIST)، لاڑکانہ سندھ کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ ابڑو، پاکستان کی قومی اسمبلی کے پرنسپل سیکرٹری جناب شمون ہاشمی، ایسٹبلشمنٹ ڈویژن، اسلام آباد کے ڈی جی ٹریننگ جناب محمد ندیم، IIUI فیکلٹی ممبران اور خواتین طالبات کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔
#IIUI Conference#Ilmiatonline #
IIUI NEWS……..بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریس و تعلم پر چوتھی بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر…………اس کانفرنس میں قومی و بین الاقوامی ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں اور عملی ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاسوں میں ڈیجیٹل تبدیلی، نصاب میں جدت، شمولیتی تدریسی طریقے، جائزہ اصلاحات اور تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال جیسے موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔………#ilmiat on line
اسلام آباد (خصوصی نمائندہ) — بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (IIUI) کے شعبہ تعلیمِ اساتذہ نے اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ (IRD) اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کے اشتراک سے چوتھی بین الاقوامی کانفرنس برائے اختراع در تدریس و تعلم (ICITL-2025) کا کامیاب انعقاد کیا جو 10 تا 11 ستمبر دو روز جاری رہی۔
اس کانفرنس میں قومی و بین الاقوامی ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں اور عملی ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاسوں میں ڈیجیٹل تبدیلی، نصاب میں جدت، شمولیتی تدریسی طریقے، جائزہ اصلاحات اور تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال جیسے موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

اختتامی اجلاس میں ڈاکٹر اظہر محمود، انچارج پروگرامز فیکلٹی آف ایجوکیشن نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور ان کی بھرپور شرکت کو سراہا۔ کانفرنس کی سیکرٹری ڈاکٹر فوزیہ اجمل نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس موقع پر سات کلیدی خطابات، اسی سے زائد تحقیقی مقالات و پوسٹر پریزنٹیشنز اور ایک پینل ڈسکشن منعقد ہوئے۔ سفارشات میں عالمی روزگار کی ضروریات سے ہم آہنگ نصاب سازی، ٹیکنالوجی اور اے آئی کو ذمہ دارانہ طور پر اپنانا، اساتذہ کے لائسنس کا معیاری نظام اور شمولیتی تعلیم کو وسائل و تربیت کے ذریعے مضبوط کرنا شامل تھا۔
کلیدی مقررین میں پروفیسر ڈاکٹر جمیل النبی (وائس چانسلر، یونیورسٹی آف واہ)، پروفیسر جیمز او میرا (ٹیکساس اے اینڈ ایم انٹرنیشنل یونیورسٹی، امریکہ)، ڈاکٹر نور احسان محمد سعید (نیشنل یونیورسٹی آف ملائیشیا)، ڈاکٹر شمسا عزیز (سیکرٹری، NACTE)، پروفیسر ڈاکٹر رخشانہ ضیاء (ایف سی کالج یونیورسٹی، لاہور)، ڈاکٹر ایس ایم محمد اسماعیل (سابق وائس چانسلر، ساوتھ ایسٹرن یونیورسٹی، سری لنکا) اور ڈاکٹر احسن اعجاز (پوسٹ ڈاک فیلو، چین) شامل تھے جنہوں نے تعلیم میں جدت، نصابی اصلاحات، ڈیجیٹل کلاس رومز اور مصنوعی ذہانت کے اثرات پر اپنے خیالات پیش کیے۔
پینل ڈسکشن بعنوان “ڈیجیٹل تدریسی ذہنیت کی تیاری” میں ہزارہ یونیورسٹی، ایچ ای سی، آئی یو آئی، اے آئی او یو اور نمل کے ماہرین نے حصہ لیا جس کی نظامت ڈاکٹر محمد ظفر اقبال نے کی۔چیف گیسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار (وائس چانسلر، نیشنل اسکلز یونیورسٹی) نے کہا کہ تدریسی جدت کو روزگار اور عملی مہارتوں کے ساتھ جوڑنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے “ایجنٹک اے آئی” کو ابھرتا ہوا رجحان قرار دیا اور یونیورسٹیوں پر زور دیا کہ تدریسی جدت کو معاشرتی و معاشی ترقی میں ڈھالا جائے۔

مہمانِ خصوصی جناب آفتاب احمد خان (سیکرٹری جنرل، پاکستان نیشنل کمیشن برائے یونیسکو) نے بتایا کہ یونیسکو اسکولوں میں اے آئی سے متعلق تربیتی پروگرامز پر کام کر رہا ہے۔اختتامی سیشن میں کانفرنس چیئر ڈاکٹر محمد منیر کیانی (چیئرمین، شعبہ تعلیمِ اساتذہ) نے تمام شرکاء اور اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس نے تحقیق پر مبنی تدریس، ڈیجیٹل تدریسی طریقوں اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا جو تعلیم کے معیار کی بہتری کے لیے ناگزیر ہے۔
ایک قابل رسائی اور مساوی دنیا کی تعمیر میں اختراع کا کردار” کے موضوع پر مبنی، ایسِسٹوو ٹیکنالوجی اینڈ انکلُوژن سمِٹ (ATIS-2025) نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) میں منعقد ہوا، جس میں 200 سے زائد تبدیلی کے خواہاں افراد، ماہرین اور شراکت داروں نے شرکت کی۔
امل ترقی کے لیے انقلابی حل: ایک قابل رسائی اور مساوی دنیا کی تعمیر میں اختراع کا کردار” کے موضوع پر مبنی، ایسِسٹوو ٹیکنالوجی اینڈ انکلُوژن سمِٹ (ATIS-2025) نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) میں منعقد ہوا، جس میں 200 سے زائد تبدیلی کے خواہاں افراد، ماہرین اور شراکت داروں نے شرکت کی۔
یہ سمٹ NUST اور پاک ایور برائٹ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (PEDO) کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس کا مقصد پاکستان میں خصوصی افراد اور بزرگ شہریوں کے لیے معاون آلات، خصوصاً ڈیجیٹل ڈیوائسز، کی ضرورت کو اجاگر کرنا تھا۔ یہ سمٹ ایسے پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آیا جو صارفین اور سہولت فراہم کرنے والوں کے درمیان خلا کو پُر کرے، معاون ٹیکنالوجی کے بارے میں شعور بیدار کرے، اور ان اہم ڈیوائسز کی مقامی سطح پر کم لاگت پر دستیابی اور دیکھ بھال کے مواقع پیدا کرے۔
تقریب کے دوران NUST ڈس ایبلٹی ریسورس سینٹر (NDRC) کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا گیا۔ PEDO کے تعاون سے قائم کیا گیا یہ مرکز اعلیٰ تعلیمی سطح پر شامل تعلیم (inclusive education) کو فروغ دینے اور خصوصی طلبہ کے لیے ایک قابل رسائی تعلیمی ماحول فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
مسٹر شہاب الدین، سی ای او PEDO نے کہا:
“ATIS-2025 پاکستان میں ایک حقیقی طور پر شامل معاشرے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ہماری مشترکہ کوششیں آج تحقیق و ترقی کو فروغ دیں گی اور شراکت داروں کو ڈیجیٹل ڈیوائسز کی اختراع میں کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنائیں گی۔”
مسٹر احمد الموسٰی المالکاوی، ہیڈ آف فزیکل ریہیبلیٹیشن پروگرام (PRP)، انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (ICRC) نے کہا کہ ICRC اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ جسمانی بحالی اور معاون ٹیکنالوجی خصوصی افراد کو بااختیار بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا: “ATIS-2025 نے علم کے تبادلے، تعاون کو فروغ دینے، اور خودمختاری و شمولیت کو بڑھانے والے حلوں کو تیز کرنے کے لیے ایک بے حد قیمتی پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔”