مصنوعی ذہانت سے ڈیمینشیا کی بروقت تشخیص ممکن، آسٹریلوی محققین کی اہم پیش رفت
میلبورن: آسٹریلیا کے نیشنل سینٹر فار ہیلتھی ایجنگ ، موناش یونیورسٹی اور پیننسولا ہیلتھ کے محققین نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈیمینشیا کی تشخیص بہتر بنانے کا ایک جدید طریقہ متعارف کرا دیا ہے، جو اسپتالوں میں اس مرض کی بروقت شناخت میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً پانچ کروڑ افراد ڈیمینشیا کا شکار ہیں، جبکہ عالمی الزائمر رپورٹ کے مطابق 2050 تک یہ تعداد تین گنا ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ طبی نظام میں صرف روایتی میڈیکل کوڈنگ پر انحصار کرنے کے باعث متعدد مریض تشخیص سے محروم رہ جاتے ہیں۔اس تحقیق میں ایک ہزار سے زائد 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کے الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے روایتی طبی معلومات کے ساتھ نیچرل لینگویج پروسیسنگ (NLP) نامی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی استعمال کی، جس نے ڈاکٹروں کے تحریری نوٹس، الجھن، بھولنے کی شکایات اور دیگر علامات کا تجزیہ کرکے ڈیمینشیا کی شناخت میں انتہائی اعلیٰ درستگی دکھائی۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر ٹایا کولیئر کے مطابق جدید الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج سے ایسے مؤثر الگورتھمز تیار کیے گئے ہیں جو مریضوں میں ڈیمینشیا کی موجودگی کا قابلِ اعتماد اندازہ لگا سکتے ہیں۔منصوبے کے سربراہ پروفیسر ویلانڈائی سری کانتھ نے کہا کہ یہ نیا طریقہ نہ صرف ڈیمینشیا کے مریضوں کی درست تعداد معلوم کرنے میں مدد دے گا بلکہ ایسے افراد کی بروقت نشاندہی بھی ممکن بنائے گا جو علاج اور نگہداشت کے مستحق ہیں مگر موجودہ نظام میں نظر انداز ہو جاتے ہیں۔
یہ تحقیق الزائمر/ ڈیمینشیاجہئرنل میں شائع ہوئی ہے اور اسے آسٹریلیا کی قومی صحت و تحقیقاتی اداروں کی مالی معاونت بھی حاصل رہی۔ ماہرین کے مطابق ذمہ دارانہ انداز میں مصنوعی ذہانت کا استعمال مستقبل میں ڈیمینشیا کی تشخیص اور مریضوں کی نگہداشت کے نظام میں انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے۔
الزائمر/ ڈیمینشیاجہئرنل