شعبہ لائیو اسٹاک مینجمنٹ فیکلٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور انسٹی ٹیوٹ آف ری پروڈکٹو بایوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹکس دنیاپور نے پنجاب میں بکریوں کی جینیاتی بہتری تحقیق کی کمرشلائزیشن ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور بین الاقوامی روابط کو فروغ دینے کے لیے باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے۔
شعبہ لائیو اسٹاک مینجمنٹ فیکلٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور انسٹی ٹیوٹ آف ری پروڈکٹو بایوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹکس دنیاپور نے پنجاب میں بکریوں کی جینیاتی بہتری تحقیق کی کمرشلائزیشن ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور بین الاقوامی روابط کو فروغ دینے کے لیے باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ ڈائریکٹراورک پروفیسر ڈاکٹر محمد عاطف کے تعاون سے تیار کیا گیا جس کا مقصد لائیو اسٹاک جینیٹکس اور ری پروڈکٹو بایوٹیکنالوجی بالخصوص چینی جامعات اور تحقیقی اداروں سے تعاون اور روابط کو مضبوط بنانا ہے۔اس معاہدے کے تحت معیاری بوئیر اور سانین بکریوں کے افزائشی سیمن اور ایمبریوز کسانوں اور بریڈرز کے لیے دستیاب ہوں گے جبکہ مصنوعی نسل کشی ایمبریو ٹرانسفر تولیدی انتظام اور نسل کی بہتری کے حوالے سے عملی تربیت بھی مشترکہ پلیٹ فارم کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران اور ڈین فیکلٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمد خالد منصور نے شعبہ لائیو اسٹاک مینجمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر فیصل شہزاد کے جاری تحقیقی منصوبوں جن میں PARB Project No. 22-125 اور NRPU Project No. 64 شامل ہیں، کو عملی لائیو اسٹاک اختراعات میں تبدیل کرنے کی کاوشوں کو سراہا۔ بالخصوص NRPU Project No. 17105 کو شعبہ لائیو اسٹاک مینجمنٹ میں کمرشلائزیشن اور آمدن پیدا کرنے والے پلیٹ فارم میں کامیابی سے تبدیل کرنے کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا۔ وائس چانسلر اور ڈین نےڈاکٹر قیصر شہزادسی ای او انسٹی ٹیوٹ آف ری پروڈکٹو بایوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹکس کی لائیو اسٹاک جینیٹک امپروومنٹ اور ری پروڈکٹیو بایوٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں خدمات کو بھرپور سراہا جن میں چین کو لائیو اسٹاک جینیٹکس کی ملین ڈالرز کی سطح کی برآمدات بھی شامل ہیں۔ اسے پاکستانی پیداواری صلاحیت اور بین الاقوامی کامیابی کی ایک قابلِ ذکر مثال قرار دیا گیا۔ ا
ڈاکٹر سمیعہ خالد ایسوسی ایٹ پروفیسر اور چیئرپرسن شعبہ تاریخ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے تحت یونیورسٹیوں کے لیے ایک نیشنل ریسرچ پروگرام جیتنے پر توصیفی سند سرٹیفکیٹ آف ریکوگنیشن حاصل کیا ہے۔

ڈاکٹر سمیعہ خالد ایسوسی ایٹ پروفیسر اور چیئرپرسن شعبہ تاریخ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے تحت یونیورسٹیوں کے لیے ایک نیشنل ریسرچ پروگرام جیتنے پر توصیفی سند سرٹیفکیٹ آف ریکوگنیشن حاصل کیا ہے۔ اس تحقیقی منصوبے کا عنوان ڈیجیٹل ری کنسٹرکشن آف دی فورٹیفائیڈ ملٹری ہیریٹیج آف بہاولپور ڈویژن یعنی بہاولپور ڈویژن کے قلعہ بند فوجی ورثے کی ڈیجیٹل تعمیر نو ہے۔ انہیں اس شاندار تحقیقی کارنامے کو سراہتے ہوئے سرٹیفیکیٹ آف ریکوگنیشن سے نوازا گیا۔ یہ کامیابی ڈاکٹر سمیعہ خالد کی لگن، علمی فضیلت اور بہاولپور خطے کے تاریخی اور ثقافتی ورثے پر تحقیق کو فروغ دینے کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران اور ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ لینگویجز پروفیسرڈاکٹر سید عامر سہیل نے ڈاکٹر سمیعہ خالد کو ریاست بہاولپور کے تاریخی ورثے کی ڈیجیٹلائزیشن پر مبارکباد دی ہے۔
