GCU News….1100جی سی یو کے طالب علم کا لاہور سے سکردو تک کلومیٹر طویل دوڑ کا آغاز……فیضان احمد فیض نے مہم شہدائے پاکستان اور سیکیورٹی فورسز کے نام منسوب کر دی کلومیٹر طویل دوڑ کا آغاز
لاہور: گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے شعبہ سائیکالوجی کے تیسرے سمسٹر کے طالب علم فیضان احمد فیض نے قومی ریکارڈ قائم کرنے کے عزم کے ساتھ جمعہ کی صبح لاہور سے سکردو تک 1,100 کلومیٹر طویل دوڑ کا آغاز کر دیا۔ اس صبر آزما اور تاریخی سفر کا باقاعدہ آغاز یونیورسٹی کے تاریخی کلاک ٹاور سے ہوا۔
نوجوان ایتھلیٹ نے اپنی اس مہم کو ایک عظیم سماجی مقصد کے تحت پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور شہداء کے نام منسوب کیا ہے۔ اس دوڑ کے ذریعے فیضان ملک کے نوجوانوں کو منشیات سے دور رہنے اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کا مؤثر پیغام بھی دینا چاہتے ہیں۔
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری، طلباء کی کثیر تعداد اور فیضان کے اہل خانہ کلاک ٹاور کے اطراف سڑک کے دونوں جانب موجود تھے، جنہوں نے منشیات کے خلاف اس مشن پر روانہ ہونے والے ایتھلیٹ کو نیک تمناؤں اور حوصلہ افزا کلمات کے ساتھ رخصت کیا،اس موقع پر پنجاب پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں بھی موجود تھیں۔فیضان احمد پنجاب حکومت کے ایک پروگرام کے تحت سپورٹس ایمبیسڈر بھی ہیں۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری نے نوجوان ایتھلیٹ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا،فیضان کے اس مشکل سفر کے ہر قدم پر اس کی مادرِ علمی کی غیر متزلزل حمایت اس کے ساتھ ہے۔ ہمیں اپنے طالب علم کے اس بلند عزم پر بے حد فخر ہے اور ہم سکردو تک کے اس سفر میں اس کی ثابت قدمی کے لیے دعا گو ہیں۔

گزشتہ آٹھ سال سے دوڑ کی مشق کرنے والے فیضان ماضی میں کراچی اور پشاور کے نوجوانوں کے قائم کردہ بالترتیب 1,000 اور 800 کلومیٹر کے ریکارڈ توڑ کر نیا قومی ریکارڈ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پاکستان اور اپنی مادرِ علمی کا وقار بلند کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔طے شدہ روٹ کے مطابق، فیضان روزانہ 60 سے 100 کلومیٹر کا فاصلہ طے کریں گے۔ ان کا یہ طویل سفر گوجرانوالہ، وزیر آباد، جہلم، راولپنڈی اور اسلام آباد سے ہوتا ہوا نتھیا گلی، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بالاکوٹ، کاغان، ناران اور بابوسر ٹاپ کی دشوار گزار بلندیوں سے گزرے گا۔ اس کے بعد وہ چلاس، رائے کوٹ پل اور جگلوٹ سکردو روڈ کے راستے سکردو پہنچ کر اپنا سفر مکمل کریں گے۔
