Students Cities……..سیئول دنیا کا بہترین طلبہ شہر قرار، لندن تیسری پوزیشن پر……ٹوکیو دوسرے نمبر پر، میلبورن اور سڈنی بھی ٹاپ 5 میں شامل؛ برطانیہ کے 16 شہر عالمی درجہ بندی کا حصہ بن گئے
جنوبی کوریا کا دارالحکومت سیئول مسلسل دوسری مرتبہ دنیا کا بہترین طلبہ شہر بن گیا، جبکہ جاپان کا ٹوکیو دوسرے اور برطانیہ کا لندن تیسرے نمبر پر رہا۔
کیو ایس کی جاری کردہ عالمی درجہ بندی میں 150 شہروں کو جامعات کے معیار، روزگار کے مواقع، طلبہ کی رائے، تعلیمی سہولیات اور رہائش سمیت دیگر عوامل کی بنیاد پر پرکھا گیا۔ سیئول واحد شہر ہے جس نے مجموعی طور پر 100 میں سے 100 پوائنٹس حاصل کیے۔کیو ایس کے مطابق سیئول کی مسلسل دوسری مرتبہ کامیابی جنوبی کوریا کی اعلیٰ تعلیم میں طویل مدتی سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔ جنوبی کوریا کے مزید دو شہر ڈیجون اور گوانگجو بھی پہلی مرتبہ عالمی فہرست میں شامل ہوئے، جس کے بعد ملک کے درجہ بند شہروں کی تعداد پانچ ہوگئی۔
آسٹریلیا نے بھی نمایاں پیش رفت کی، جہاں میلبورن اور سڈنی دنیا کے ٹاپ پانچ طلبہ شہروں میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔ سڈنی جرمنی کے میونخ کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہا۔برطانیہ نے 150 شہروں کی فہرست میں 16 شہروں کے ساتھ سب سے زیادہ نمائندگی حاصل کی۔ لندن کے بعد ایڈنبرا 15ویں جبکہ گلاسگو 35ویں نمبر پر رہا۔
رپورٹ کے مطابق لندن کی مضبوط جامعات اور طلبہ کے لیے بہتر ماحول نے اسے تیسری پوزیشن دلائی، تاہم مہنگی رہائش اور زندگی کے اخراجات اس کی درجہ بندی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے۔ برطانیہ کا کوئی بھی شہر سستی کے اعتبار سے عالمی ٹاپ 95 میں شامل نہیں ہوسکا۔ایشیا نے مجموعی طور پر عالمی طلبہ شہروں کی درجہ بندی میں مضبوط پوزیشن برقرار رکھی۔ چین کے 10 شہر بھی فہرست میں شامل ہوئے، جنہیں کم اخراجات، بہتر جامعات اور روزگار کے بڑھتے مواقع سے فائدہ ہوا۔

دوسری جانب امریکا اور کینیڈا کے شہروں کی درجہ بندی میں مجموعی کمی دیکھی گئی۔ کیو ایس کے مطابق امریکا میں ویزا پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور بڑھتے اخراجات جبکہ کینیڈا میں حکومتی پابندیوں اور بلند تعلیمی و رہائشی اخراجات نے عالمی طلبہ کے لیے ان ممالک کی کشش متاثر کی ہے۔
