…


…



لاہور() یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کی لٹریری سوسائٹی کے زیر اہتمام یوم اقبال کی مناسبت سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا. تقریب کا مقصد نوجوان طلبا کو اقبال کے فلسفہ خودی اور تصور شاہین سے آگاہ کرنا تھا. تقریب میں بیت بازی ، کوئز اور شاعری کے مقابلے کروائے گئے جبکہ طلبا کیلئے خصوصی لیکچر بھی رکھا گیا. تقریب کے اختتام پر تقسیم وائس چانسلر ڈاکٹر سید منصور سرور ، ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ افیئرز پروفیسر ڈاکٹر آصف علی قیصر اور اسٹاف ایڈوائزر نے جیتنے والے طلباء فراز ساجد اور محمد حمزہ سعید کو شیلڈز اور اعزازی اسناد پیش کیں۔

LAHORE: The Government College University Lahore on Friday conferred the doctorate of philosophy (PhD) degrees on 52 scholars in various disciplines besides academic and co-curricular medals on the first day of its three-day 20th convocation.Punjab Governor Muhammad Baligh Ur Rehman chaired the first session of the convocation which was also addressed by Vice Chancellor Prof. Dr Asghar Zaidi.
Besides medals and rolls of honour, a total of two thousand degrees would be awarded this year during the three-day convocation which included 490 MS/M.Phil, 374 MA/MSc degrees and 1057 BA/BSc (Hons) degrees.The University will also confer Lifetime Achievement Awards on 10 distinguished alumni from different walks of life to recognize their career-long outstanding work and achievements.
Speaking on the occasion, Punjab Governor Muhammad Baligh Ur Rehman said the secret of success is to study, research and be self-accountable. He said that some time ago there were a lot of discussions that the Chancellor has banned politicians from visiting the universities, which is not true. However, he said, hate speech is frowned upon all over the world.The governor explained that he has always been in favor of listening to everyone and researching and analyzing what they say on the basis of data and facts available.
He said students of Government College made their name in different fields like literature, science and politics. He further said that the initiative of the federal government to end the system of interest is commendable.Addressing the graduates, Vice Chancellor Prof. Dr Asghar Zaidi said 75 years into our struggle for nation-building, we are still trying to evolve a path that might salvage us and put us on the path to progress. “We need to tread on the path indicated by Iqbal in his verse and poetry,” he added.
Delving upon the problems in Pakistan’s education system, the Vice-Chancellor said that there are three very basic principles on which human life flourishes i.e. diversity, curiosity and creativity, but very unfortunately they are contradicted by a culture of education that is currently prevalent in our country.“All human beings are naturally different from each other but our education system does not encourage diversity. Rather it lays great stress on conformity,” he said.The Vice-Chancellor stressed that students can learn and excel best through a broad-based curriculum that celebrates their various talents, not just through a small arrangement of course systems and examinations.“Curiosity is the second principle that drives human life; if a teacher manages to spark curiosity in a student, he will go on to learn without any further assistance,” he said. Prof. Asghar Zaidi elaborated on the goals he identified for the progress of GCU, and the achievements of the University last year.
Earlier, the governor and vice chancellor presented “Prof GD Sondhi Medal” for overall excellent performance to Muhammad Ebrahim Naeem and Mahnoor Siddiqui, “Mohammad Idrees Medal” for Best Debater to Areesha Ehsan, “Daud Ilyas Medal” for outstanding intermediate student to Muhammad Arham Tarik, “Dr. Saida Karamat Medal” for Best Woman Graduate to Izza Sajid, “Waleed Iqbal Medal” for Best Parliamentary Speaker to Shahjahan Tahir and Ayesha Khalid, “Muhammad Shahbaz Sharif Medal” for Best Urdu Speaker to Zohaib Alam and “Madeeha Gohar Medal” for the Best Female Actor to Taseer Fatima and Zainab Zaman, “Tariq Salman Khan Farani Medal” for best music student to Wajid Mukhtar, while “Thespian Medal” for excellent performance in Dramatics was conferred upon Irtiza Aslam and Salman Tahir.


Prof. Dr. Shahid Munir, Chairperson, PHEC, chaired an online meeting on the “Standardization of the Formation of a Panel of Foreign and Local Referees for the Evaluation of Application Dossiers of Candidates for the Posts of Associate Professor and Professors in Public Sector Universities in Punjab”. Prof. Dr. Mansoor Akhbar Kundi, Vice Chancellor, BZU, Prof. Dr. Rubina Farooq, VC, GCWUF, Prof. Dr. Bushra Mirza, VC, LCWU, Prof. Dr. Asif Ali, VC, MNS Agriculture, Multan, Prof. Dr. Muhammad Kamran, VC MNS-UET, Multan, Prof. Dr Saiqa Imtiaz Asif, VC, GSCWU Bahawalpur, Prof. Dr. Muhammad Sajjad Khan, VC, CUVAS, and Prof. Dr. Javed Akhtar, VC, University of Sahiwal participated in the meeting.

1212
2 comments
Like
Comment
Share

ایک حوصلہ افزا پیش رفت میں، کیو ایس ایشیا یونیورسٹی رینکنگ 2023 میں 50 پاکستانی یونیورسٹیوں کو درجہ دیا گیا ہے۔ ان رینکنگ کا مقصد ایشیا کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو تسلیم کرنا ہے۔ تاہم، صرف دو نے ایشیا کی ٹاپ 100 یونیورسٹیوں میں جگہ بنائی ہے۔تفصیلات کے مطابق نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) اس سال کی QS ایشیا رینکنگ میں سرفہرست قومی یونیورسٹی ہے۔نسٹ کے بعد قائداعظم یونیورسٹی (QAU) اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) کا نمبر آتا ہے۔صرف NUST اور QAU ٹاپ 100 ایشیائی یونیورسٹی
ممتاز درجہ بندی میں شامل تمام پاکستانی ادارے یہ ہیں:
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اسلام آباد 67قائداعظم یونیورسٹی 95لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) 115پنجاب یونیورسٹی = 140کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد 142یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) لاہور 165پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (PIEAS) = 193یونیورسٹی آف ایگریکلچر، فیصل آباد = یونیورسٹی 221آغا خان یونیورسٹی = 223بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (IIUI) = 241جامعہ کراچی 271-280
لاہور یونیورسٹی 281-290گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد 301-350ایئر یونیورسٹی پاکستان 351-400
بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی 351-400عبدالولی خان یونیورسٹی مردان 401-450اقرا یونیورسٹی 401-450
مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی 401-450این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی 401-450
نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز 401-450بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد۔ پاکستان 451-500
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور 451-500گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد 451-500
انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی (IST) 451-500یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب (UCP) 451-500
یونیورسٹی آف ملاکنڈ، چکدرہ 451-500یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (UMT) 451-500
یونیورسٹی آف سرگودھا 451-500گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ 501-550رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی 501-550اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور 501-550یونیورسٹی آف فیصل آباد 501-550
ضیاء الدین یونیورسٹی 501-550فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی (FJWU) 551-600
ہزارہ یونیورسٹی 551-600نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد 551-600سکھر آئی بی اے یونیورسٹی 551-600
یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز 551-600ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی 601-650
کیپیٹل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (CUST) 601-650اسلامیہ کالج پشاور 601-650
لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی 601-650بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS) 651-700فارمن کرسچن کالج (ایک چارٹرڈ یونیورسٹی) 651-700یونیورسٹی آف اوکاڑہ 651-700
جامعہ سندھ جامشورو 651-700فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد 701-750لاہور گیریژن یونیورسٹی 701-750وومن یونیورسٹی ملتان 750+
مجموعی طور پر، 760 یونیورسٹیوں نے QS ایشیا یونیورسٹی رینکنگ 2023 میں نمایاں کیا ہے، جو 2009 میں اس کی اشاعت کے آغاز کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی ایشیا یونیورسٹی رینکنگ ہے۔
پیکنگ یونیورسٹی اس سال ایشیا کا بہترین اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے، جس میں گزشتہ سال نمبر ون انسٹی ٹیوٹ، نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور دوسرے نمبر پر ہے۔ سنگھوا یونیورسٹی ایشیا کی تیسری بہترین یونیورسٹی ہے۔
آئ ایشیا یونیورسٹی رینکنگ 2023 میں سرفہرست 10 یونیورسٹیوں………پیکنگ یونیورسٹی چین 1st
نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور (NUS) سنگاپور 2ndسنگھوا یونیورسٹی چین 3ہانگ کانگ یونیورسٹی ہانگ کانگ 4
نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی، سنگاپور (NTU) سنگاپور 5ویں نمبر پرفوڈان یونیورسٹی چین = 6 واںژی جیانگ یونیورسٹی چین = 6 واںKAIST – کوریا ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جنوبی کوریا 8 واں
Universiti Malaya (UM) ملائیشیا 9thشنگھائی جیاؤ ٹونگ یونیورسٹی چین 10

رصغیر میں اب یہ احساس جاگ رہا ہے کہ تاریخ کے ورثے کو بچایا جائے آنے والی نسلوں کے لیے وہ تمام نشانیاں چھوڑ دی جائیں جو بعد میں مشعل بن کر ان کی راہوں میں نور پھیلائیں، مگر یہ احساس کی تہہ میں کتنے ہی درد اور کتنے ہی کرب چھپے ہوئے ہیں۔ یہ گزری صدیوں کی نہیں حالیہ برسوں کی بات کی ہے جب اعلیٰ روایات اور تہذیب کے اسی گہوارے میں اور اسی سر زمین میں نہ معلوم کتنی دستاویزیں مٹی میں اور نہ جانے کتنے کتب خانے خاک میں ملے ہیں۔
یہاں ہم علم کے ان سفینوں کی باتیں کریں گے جوبے خبری کے ساحلوں سے چلے اور قدر شناسی کے محفوظ کناروں پر جا لگے اور علم کے ان قافلوں کا ذکر بھی ہو گا جو راہ میں دن دہاڑے لٹ گئے۔
ہم بات کریں گے اس موضوع پر کہ کہاں کہاں کیسی کیسی کتابیں محفوظ ہیں اور وہ کس حال میں ہیں اور کہاں کہاں علم و حکمت کے خزانے یوں گاڑے گئے کہ پھر کبھی انہیں دن کی روشنی دیکھنا نصیب نہ ہوئی۔
ہم گفتگو کریں گے برصغیر کے اہل علم حضرات سے، علم دوست حضرات سے ان سے جو ساری زندگی کتابوں کے درمیان گزارتے ہیں اوران سے جن کے دل اور دماغ کے درمیان اب کتابوں کا بسیرا ہے۔
ہاں تو بات ہو رہی تھی دفن کیے جانے والےخزینوں کی۔
مشفق خواجہ ادب کے شیدائی ہیں جس مکان میں رہتے ہیں اس کے کمروں اور برآمدوں کی دیواریں نظر نہیں آتیں کیونکہ ان کے آگے کتابیں چنی ہیں۔ بتا رہے تھے کہ کتابوں کے ذخیرے کہاں کہاں ہیں۔ ’’بعض ذخیرے ایسے بھی ہیں جو بزرگوں کےمزاروں پر موجود ہیں۔ میرے سننے میں یہ آیا کہ جب کچھ عرصہ قبل حکومت نے مزاروں کو محکمہ اوقاف کے تحویل میں دے دیا تو وہاں جولوگ تھے انہوں نے مخطوطات کو زمین میں گاڑ دیا کہ حکومت ان پر قبضہ نہ کر لے۔ اب زمین میں گاڑےہوئے مخطوطات کا حشر کیا ہو گا؟ میرا خیال ہے وہی ہونا چاہیے جو آدمی کا ہوتا ہے‘‘۔

کتابوں کے دشمن صرف کیڑے مکوڑے ہی نہیں، کچھ اور بھی ہیں۔ جو پرانے گھرانے باپ دادا کے ورثے کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں، ان پر خوف کا عالم طاری ہے کیونکہ انہیں ستانے والوں کی کمی نہیں۔ مثلاً انسٹی ٹیوٹ آف سندھالوجی جام شورو کے نگراں ڈاکٹر غلام علی الانا بتا رہے تھے کہ ٹھٹھہ جیسے تاریخی علاقے کے گھرانوں سے اگر سیکڑوں نادر اور نایاب کتابیں اور خصوصاً قرآن، تفاسیر اور احادیث کے نسخے حاصل کر لیے گئےہیں لیکن : ’’اب لوگ ایسی تاریخی کتابیں دکھاتے ہوئے گھبراتےہیں، وہ ڈرتے ہیں کہ یہ ورثہ ان سے کوئی چھین نہ لے۔ ماضی میں بارہا یہ ہوا کہ کوئی ایسا ضلعی حاکم آیا جسے تاریخی نوادر سے دلچسپی ہو گئی اور لوگوں کو مجبوراً یہ کتابیں دینا پڑیں۔ اس لیے یہ اپنی کتابیں دکھاتے ہوئے گھبراتے ہیں‘‘۔
اور کتنے ہی گھرانے ایسے ہیں جہاں علم و حکمت کے موتی نسل در نسل چلے لیکن جوں ہی بزرگوں کی آنکھ بند ہوئی یہ موتی ادھر ادھر رل گئے اور ایسی ایسی کتابیں، دستاویزیں ، نقشے اور فرمان جو ہماری تاریخ کی گمشدہ کڑیوں کا پتہ دیتے‘‘ آپ ہی گم ہو گئے۔
پروفیسر گو پی چند نارنگ اردو کے استاد ہیں اور ادب کے ہر تاریک اور روشن گوشے تک ان کی رسائی ہے۔ انہوں نے کتنے ہی کتب خانے بنتے دیکھے اور ان ہی کی آنکھوں نے کتنے ہی ذخیرے مٹتے دیکھے۔ انہوں نے کہا:
’’جو ذاتی ذخیرے ہیں اب لوگ دبائے بیٹھے ہیں کہ صاحب یہ تو کروڑوں روپے کا سرمایہ ہے اور بڑی نادر چیزیں ہیں اس میں کیا شک ہے کہ نادر ہیں لیکن جو آدمی اپنی تحویل میں لیے بیٹھا ہے جب اس کی آنکھ بند ہو جاتی ہے تو اس کی اولاد اور اس کے ورثا نہیں جانتے کہ ان چیزوں کی کیا اہمیت ہے، چنانچہ ایسے بعض ذخیروں کا تالا ہی نہیں کھلتا، بکس ہی نہیں کھول کر دیکھے جاتے، یا لوگ چرا کر لے جاتےہیں یا جو ورثا ان کی اہمیت کو نہیں جانتے وہ ان کو ردی کے بھائو بیچ دیتے ہیں اور اسی طرح بہت سے ایسے ذخیرے جو ملک کے دور دراز علاقوں میں نجی تحویل میں ہیں وہ برباد ہو رہے ہیں اور ان کے ضائع ہونے کا شدید خطرہ ہے‘‘۔
جن لوگوں کو کتابوں سے عشق ہوتا ہے، جنگل اور دریا پھر ان کا راستہ نہیں روکتے۔ آندھرا پردیش کے نامور محقق ڈاکٹر ضیا الدین احمد شکیب علم کی جستجو میں متھرا سے لےکر سیتا مئوتک کہاں کہاں نہیں گئے۔ جہاں خبر ملی کہ قدیم دستاویزوں کا ذخیرہ موجود ہے، ڈاکٹر صاحب وہاں ایک بار نہیں بار بار گئے۔ وہاں انہوں نے کیا دیکھا ’’میں نے بعض جگہ دیکھا کہ ایسی ایسی کتابیں ہیں جو بارہ سو اور تیرہ سو سال پرانی ہیں اور ایسی چھت کے نیچے ہیں جو ہر سال بارش میں ٹپکتی ہے۔ اور مالک یہ چاہتے ہیں کہ ان سے جدا نہ ہوں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ لاکھوں کی چیز ہے لیکن ان میں اتنی بھی استعداد نہیں کہ کسی بینک میں رکھوا دیں۔ ایسے بہت سے کتب خانے ہیں کہ جب ہم سال بھر کے بعد دوبارہ جاتے ہیں کہ ذرا دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ یا تو دیمک چاٹ گئی یا چوہوں نے کتر لیا، یا پانی لگ گیا یا کچھ جل گئے یا بچوں نے لا پروائی سے کہیں پھینک دیا۔ ایسے حادثے دن رات ہو رہے ہیں‘‘۔
اپنی اس گفتگو میں جب ہم مطبوعہ یعنی چھپی ہوئی اور مخطوطہ یعنی ہاتھ سے لکھی ہوئی کتابوں کے ذخیروں کی بات کریں گے تو پرانی کتابوں کے تاجروں کا ذکر بھی آئے گا۔ ایسے تاجروں کا بھی جنہوں نے علم کا اور تاریخ کا بیوپار کیا اور ایسے تاجروں کا بھی جنہیں کتابوں کی تجارت کرتےکرتے ان سےجذباتی لگائو ہو گیا اور جنہوں نے بیل گاڑیوں اور چھکڑوں میں بھری ہوئی کتابیں کوڑیوں کے مول فروخت ہوتے دیکھیں، مثلاً حیدرآباد دکن کے علیم الدین جنہوں نے کہا۔
’’امیر پائیگاہ ظہیر یار جنگ کی مثال لیجیے۔ ان کا انتقال ہوا تو ان کی بیوہ نے ایک لاری بھر کر کتابوں کا ذخیرہ بیچ دیا اور یہاں سے ایران چلی گئی اور یہ لاری بھر ذخیرہ کوڑیوں کے دام، صرف اڑھائی ہزار میں دے گیں۔ کم سے کم دو لاکھ تین لاکھ کی چیزیں تھیں۔ مجھے اتنا دکھ ہوا، اتنا دکھ ہوا کہ کھانا نہیں کھایا گیا۔ بالفاظ دیگر ‘‘۔
کتاب کا معاملہ بھی خوب ہے۔ کتاب اپنے قاری سے بیک وقت دو عشق طلب کرتی ہے، ایک تو خود کتاب کا عشق اور دوسرے علم کا عشق۔ یہ بات ہم بھی کہتے ہیں اور یہی بات اردو کے بزرگ شاعر اور خدمت گزار سکندر علی وجد نے بھی کہی جنہوں نے برس ہا برس بابائے اردو مولوی عبدالحق کی رفاقت میں کام کیا اور گائوں گائوں قریہ قریہ جا کر پرانی کتابیں جمع کیں، کہنے لگے:

’’کتاب کے عشق کے بغیر کتاب محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اب اس میں شک نہیں کہ ہماری کتابیں ملک سے باہر چلی جا رہی ہیں مگر مجھے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ وہ بہتر ہے۔ اس لیے کہ وہاں انہیں بڑی احتیاط اور اہتمام سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ فیومی گیشن ہوتا ہے، ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں رکھا جاتا ہے۔ اب ہمارے پاس کتابوں میں نیم کے پتے رکھ دیتے ہیں، اس لیے اور کیڑے پیدا ہو جاتےہیں۔ تو کتابوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ عشق چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ علم کا بھی عشق چاہیے مگر اب علم بھی نہیں ہے اور عشق بھی نہیں ہے۔ ہمارے گھروں میں ریڈیو ہے، ٹی وی ہے، سب کچھ ہے لیکن کتاب نہیں ہے۔‘‘
اسلام آباد کی کانفرنس ، پاکستان میں لائبریری آرڈیننس نافذ کرنے کی تجویز، دہلی میں دستاویزوں کے تحفظ کی تعلیم و تربیت اور کلکتہ میں ہر وہ کتاب جمع کرنے کی تگ و دو کہ جو کسی بھی چھاپے خانے سے نکلے، یہ سب ایک نئی امنگ کی پہلی پہلی علامتیں ہیں۔ حکومتیں، ادارے اور افراد اب بے عملی کی اندھیری کوٹھری سے آگہی اور دانش کے روشن دالان میں نکل آئے ہیں مگر یہ محض آغاز ہے ابھی بہت سا کام ہونا ہے، مریض کی تپتی ہوئی پیشانی پر ٹھنڈے پھاہے رکھنےکی ضرورت ابھی ختم نہیں ہوئی۔
اس گفتگو کو ہر گوپی چند نارنگ کی اس بات پر ختم کرتے ہیں:
’’بالعموم کتاب خانوں کی جو حالت ہے، چند ایک کو چھوڑ کر، وہ زیادہ اچھی نہیں کیونکہ ان سے استفادہ کرنے والے اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ کہنے کو تو ہر شخص محقق ہو سکتا ہے اور ہونا بھی چاہتا ہے مگر اس کے لئے جس لگن کی ضرورت ہے وہ لوگوں میں دن بہ دن کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس طرف آپ جتنی بھی توجہ دلائیں میں سمجھتا ہوں کہ یہ نہ صرف ایک طرح کی خدمت ہو گی بلکہ انتباہ بھی ہو گا اور قومی ذخیرے ، خواہ کسی ملک کے ہوں، کسی قوم کےہوں، کسی معاشرے کے ہوں، کسی زبان کے ہوں وہ پوری بنی نوع انسان کی میراث ہیں اور ان کے تحفظ کے لئے جتنی بھی کوشش آپ کر سکیں اور اس سلسلے میں جتنی بھی بیداری آپ پیدا کر سکیں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت ہی مستحق اقدام ہو گا۔‘

Punjab Higher Education Commission, with co-host partners, is organizing the All Punjab Universities Innovation Expo 2022 on November 15, 2022, at Faletti’s Hotel, Lahore. The main objective of this expo is to demonstrate the innovative capabilities of the faculty, researchers, and students of provincial universities. It is an excellent opportunity to showcase and commercialize innovative ideas, research, and products. Moreover, it will also connect innovators with investors, industry experts, academia, and policymakers.

لاہور (9 نومبر،بدھ): وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی و گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی نے دیگر اساتذہ کے ہمراہ مزار اقبال پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر وائس چانسلر نے زائرین کی کتاب میں اپنے تاثرات میں علامہ اقبال کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یوم اقبال ہمارے لئے یوم احتساب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی انتشار کے پیش نظر سوچنا چاہیے کہ کیا ہم نے علامہ اقبال کی تعلیم کو صحیح سمجھا ہے یا اس پر صحیح طریقے سے عمل کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر علامہ اقبال کی تعلیمات سے استفادہ کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسفہ اقبال نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کی شاعری میں شاہین محض شاعرانہ تشبیہ نہیں بلکہ وہ یہ خصوصیات اپنے نوجوانوں میں دیکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ہمارے طالبعلم رہے۔
پنجاب یونیورسٹی نے شازیل احمد ولد محمد صدیق کوبائیولوجیکل سائنسز (سپیشلائیزیشن ان مالیکیولر بائیولوجی) کے مضمون میں ’پائرو بیکلم کیلیڈیفونٹس سے حاصل شدہ ڈی این اے بنانے والے خامرے کی کام کرنے کی صلاحیت میں بہتری کے اقدامات‘ کے موضوع پر،نور محمد ولد شاہ محمد کوسپیشل ایجوکیشن کے مضمون میں ’صوبہ پنجاب کی جیلوں میں مقید نابالغ بچوں کی بحالی کے تربیتی پروگرام کی تشکیل‘ کے موضوع پر،عبدالجبار ولد میاں محمد کوانفارمیشن مینجمنٹ کے مضمون میں ’سکول کے طلباء کا فراغت میں پڑھنے کی عادت کا فروغ: طلباء خاندان اور استاد کے کردار کا تجزیہ‘ کے موضوع پر،اسماء احسان دختر محمد احسان کوریاضی کے مضمون میں ’پروٹیومکس میں پیٹرن کے تجزیہ کے لئے حسابی طور پر موثر ریاضیاتی ماڈل‘ کے موضوع پراورحافظ مزمل رحمان ولد سفیان گل کوبائیوٹیکنالوجی کے مضمون میں ’ارتقاپذیر وائر سز (ڈینگی، ذیکا اور کوروناوائرس) کے علاج کی شناخت‘ کے موضوع پر، پی ایچ ڈی مقالہ جات کی تکمیل کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگریاں جاری کر دیں۔
