قازقستان کو خطے میں ایک مسابقتی مینوفیکچرنگ اور صنعتی ملک بنانے کے لیے قدرتی وسائل نکالنے کی بجائے مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن، جدید ٹیکنالوجی اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری پر توجہ دینا ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نذر بائیف یونیورسٹی میں منعقدہ 23ویں انٹرنیشنل کانفرنس آن مینوفیکچرنگ ریسرچ کے دوران محققین اور صنعتی ماہرین کا خطاب

0
c74f67e9-169c-443e-a477-5c8827508a2c

آستانہ: قازقستان کو خطے میں ایک مسابقتی مینوفیکچرنگ اور صنعتی ملک بنانے کے لیے قدرتی وسائل نکالنے کی بجائے مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن، جدید ٹیکنالوجی اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری پر توجہ دینا ہوگی۔یہ بات آستانہ میں نذر بائیف یونیورسٹی میں منعقدہ 23ویں انٹرنیشنل کانفرنس آن مینوفیکچرنگ ریسرچ کے دوران محققین اور صنعتی ماہرین کے مباحثے میں سامنے آئی۔ کانفرنس 2 سے 4 ستمبر تک جاری رہی اور پہلی مرتبہ قازقستان نے اس عالمی کانفرنس کی میزبانی کی۔

نذر بائیف یونیورسٹی کے صدر پروفیسر وقار احمد نے کہا کہ مضبوط مینوفیکچرنگ صلاحیتیں ایک متنوع، جدت پر مبنی اور علم پر مبنی معیشت کی تشکیل کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کو صرف ماہر انجینئرز تیار کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ نئی ٹیکنالوجیز کی تیاری اور تحقیق کو عملی صنعتی حل میں تبدیل کرنے میں بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔

کانفرنس کے پینل مباحثے میں عالمی اور صنعتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے پروفیسر یوسف آلٹن تاش نے زور دیا کہ قازقستان کو قدرتی وسائل کے اخراج سے آگے بڑھ کر مقامی مینوفیکچرنگ کے ذریعے زیادہ معاشی قدر پیدا کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق مشینری صنعتی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ تربیت یافتہ انجینئرز اور ٹیکنالوجی ماہرین بھی ناگزیر ہیں۔ماہرین نے کہا کہ نئی صنعتوں کے قیام سے روزگار کے مواقع بڑھانے اور باصلاحیت افراد کو ملک میں برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم پائیدار صنعتی ترقی کے لیے حکومت، جامعات اور صنعت کے درمیان مضبوط تعاون ضروری ہے۔

کانفرنس میں 60 سے زائد تحقیقی مقالے پیش کیے گئے جن میں روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیجیٹل مینوفیکچرنگ اور انڈسٹری 4.0 پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ماہرین نے اسمارٹ مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل ٹوئن جیسی ٹیکنالوجیز کو مستقبل کی صنعت کے لیے اہم قرار دیا۔کانفرنس نے طلبہ اور نوجوان محققین کو بھی عالمی ماہرین اور صنعتی نمائندوں سے براہِ راست رابطے اور جدید ٹیکنالوجیز سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may have missed