چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے صوبائی اعلیٰ تعلیمی قیادت کے ساتھ اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں ملک کے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں باہمی رابطہ کاری، مشاورت اور اتفاقِ رائے کو مزید مضبوط بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔………

0
794198731_1630560298580158_8118479116125205114_n

اسلام آباد: چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے صوبائی اعلیٰ تعلیمی قیادت کے ساتھ اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں ملک کے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں باہمی رابطہ کاری، مشاورت اور اتفاقِ رائے کو مزید مضبوط بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق پالیسیوں اور اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنے، تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مؤثر رابطے کو فروغ دینے اور شعبے کو درپیش چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔

شرکا نے تعلیمی امور، تحقیق، معیارِ تعلیم، کوالٹی ایشورنس، گورننس اور دیگر باہمی دلچسپی کے معاملات پر مسلسل مشاورت اور تعاون کی اہمیت پر بھی گفتگو کی۔اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مزید مستحکم اور مؤثر بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان باقاعدہ رابطہ، باہمی مفاہمت اور مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں۔ شرکا نے اعلیٰ تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے مشترکہ ترجیحات پر پیش رفت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

: چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) ڈاکٹر نیاز احمد اختر سے فرانسیسی سائنسی و اعلیٰ تعلیمی تعاون کی اتاشی سبین ورمیلارڈ نے ایچ ای سی اسلام آباد میں الوداعی ملاقات کی۔

اسلام آباد: چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) ڈاکٹر نیاز احمد اختر سے فرانسیسی سفارتخانے میں سائنسی و اعلیٰ تعلیمی تعاون کی اتاشی سبین ورمیلارڈ نے ایچ ای سی اسلام آباد میں الوداعی ملاقات کی۔ملاقات کے دوران چیئرمین ایچ ای سی نے پاکستان اور فرانس کے درمیان اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور طلبہ کی بین الاقوامی نقل و حرکت کے فروغ کے لیے سبین ورمیلارڈ کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے ان کے دورِ تعیناتی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی و تحقیقی روابط مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے بالخصوص پاکستان میں کیمپس فرانس کے نیٹ ورک کے قیام اور اس کے فروغ، پاکستانی طلبہ کے لیے بیرونِ ملک تعلیمی مواقع میں اضافے، مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی تبادلے کے معاہدوں اور مشترکہ تعلیمی و سائنسی پروگراموں کے ذریعے تحقیقی تعاون کو وسعت دینے میں ان کے کردار کو سراہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may have missed