عالمی خبریں

ایچ ای سی کی جانب سے این ایس سی ٹی 2026 کے نتائج کا اجرا: پاکستان کی آئی ٹی تعلیم کے معیارحوالے سے چشم کشا رپورٹ

سائبر سکیورٹی (47.2 فیصد)، ڈیٹا بیس سسٹمز (42.3 فیصد)، ڈیٹا اسٹرکچرز و الگورتھمز (40.2 فیصد)، کمپیوٹر نیٹ ورکس و کلاؤڈ کمپیوٹنگ (39.6 فیصد) اور آپریٹنگ سسٹمز (33.8 فیصد) جیسے شعبوں میں کمزور کارکردگی تشویش کا باعث ہے۔ یہ وہ شعبے ہیں جو عالمی آئی ٹی صنعت میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے نیشنل اسکلز کمپیٹنسی ٹیسٹ (این ایس سی ٹی) 2026 کے یونیورسٹی وار نتائج جاری کرتے ہوئے پاکستان بھر کے نمایاں آئی ٹی طلبہ کے ناموں کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ملک میں آئی ٹی تعلیم کے معیار کا جائزہ لینے بلکہ جامعات کو اپنی تدریسی حکمت عملیوں اور نصابی ڈھانچوں کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

اشتہار میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق این ایس سی ٹی 2026 میں پاکستان بھر کی 188 جامعات کے 40 ہزار سے زائد طلبہ نے رجسٹریشن کروائی، جبکہ 33 ہزار سے زائد طلبہ نے امتحان میں شرکت کی۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں آئی ٹی مہارتوں کا سب سے بڑا قومی سطح کا جائزہ تصور کیا جا سکتا ہے، جس کا مقصد طلبہ کی صلاحیتوں کو صنعت کی ضروریات کے مطابق جانچنا تھا۔

نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی طلبہ نے ویب ڈویلپمنٹ بیسکس (54.1 فیصد)، مصنوعی ذہانت و مشین لرننگ (50.8 فیصد) اور سافٹ ویئر انجینئرنگ (50.1 فیصد) جیسے شعبوں میں نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ یہ امر اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں جدید ٹیکنالوجیز خصوصاً مصنوعی ذہانت اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں طلبہ کی دلچسپی اور استعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب سائبر سکیورٹی (47.2 فیصد)، ڈیٹا بیس سسٹمز (42.3 فیصد)، ڈیٹا اسٹرکچرز و الگورتھمز (40.2 فیصد)، کمپیوٹر نیٹ ورکس و کلاؤڈ کمپیوٹنگ (39.6 فیصد) اور آپریٹنگ سسٹمز (33.8 فیصد) جیسے شعبوں میں کمزور کارکردگی تشویش کا باعث ہے۔ یہ وہ شعبے ہیں جو عالمی آئی ٹی صنعت میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر سائبر سکیورٹی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب کے تناظر میں پاکستانی جامعات کو ان مضامین کی تدریس، عملی تربیت اور لیبارٹری سہولیات پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

صوبائی کارکردگی کے اعداد و شمار بھی کئی اہم حقائق سامنے لاتے ہیں۔ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری 52.9 فیصد کامیابی کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ سندھ (42 فیصد) اور پنجاب (39.4 فیصد) اس کے بعد رہے۔ گلگت بلتستان (32.6 فیصد)، آزاد جموں و کشمیر (31 فیصد)، خیبر پختونخوا (30.2 فیصد) اور بلوچستان (29 فیصد) کی نسبتاً کم کارکردگی علاقائی تعلیمی تفاوت کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ نتائج پالیسی سازوں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ کم ترقی یافتہ علاقوں میں آئی ٹی تعلیم کے معیار اور وسائل کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔

ایچ ای سی کی جانب سے یونیورسٹی وار نتائج اور نمایاں طلبہ کی فہرست کا اجرا شفافیت، احتساب اور مثبت مسابقت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس سے جامعات کو اپنی کارکردگی کا تقابلی جائزہ لینے اور کمزور شعبوں کی نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ نمایاں طلبہ کی حوصلہ افزائی سے دیگر طلبہ بھی اعلیٰ کارکردگی کے لیے متحرک ہوں گے۔

مجموعی طور پر این ایس سی ٹی 2026 کے نتائج پاکستان کے آئی ٹی تعلیمی شعبے کے لیے ایک اہم آئینہ ثابت ہوئے ہیں۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت، ویب ڈویلپمنٹ اور سافٹ ویئر انجینئرنگ میں مثبت پیش رفت نظر آتی ہے، تاہم سائبر سکیورٹی، نیٹ ورکنگ اور بنیادی کمپیوٹنگ تصورات میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ ان نتائج کی روشنی میں جامعات، صنعت اور پالیسی ساز ادارے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

؎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button