آبادی اور نیوٹریشن ہمارے دو بڑے ایشوز ہیں اور حکومت ان پر خصوصی توجہ دے گی۔……..وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر……….پاکستان میں گزشتہ دس سالوں میں 29 ہزار پی ایچ ڈی کی ڈگریاں جاری ہوئی ہیں اور اس وقت 37 ہزار سکالرز پی ایچ ڈی میں زیر تعلیم ہیں، ہمیں قومی سطح پر نالج کو وطن کی ترقی کے لیے استعمال کرنا ہوگا،……..چیئرپرسن پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر اقرار احمد خان

0
44393eb0-f432-4bf3-a415-550fc770a6fe

ڈیپارٹمنٹ آف نیوٹریشن اینڈ ہیلتھ پرموشن ہوم اکنامکس یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے عہدے کا حلف اُٹھانے کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ آبادی اور نیوٹریشن ہمارے دو بڑے ایشوز ہیں اور حکومت ان پر خصوصی توجہ دے گی۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے 20 ہزار کیمونٹی ہیلتھ انسپکٹرز تعینات کیے ہیں ان کی ٹریننگ مکمل ہو چکی ہے، ہر ہیلتھ انسپکٹر کو 250 گھر الاٹ کیے گئے ہیں۔ خواجہ عمران نذیر نے بتایاکہ یہ انسپکٹر گھروں میں جا کر اہل خانہ کی کاؤنسلنگ کریں گی۔ وزیر صحت نے مزید کہا کہ حکومت نے پنجاب میں بریسٹ فیڈنگ سنٹرز قائم کر دیے ہیں اور وہ ماؤں سے اپیل کرتے ہیں کہ بچوں کی جسمانی نشوونما کے لیے بریسٹ فیڈنگ کو ترجیح دیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ سٹنٹنگ گروتھ کے شکار بچے اپنی زندگی میں بے شمار چیلنجز کا شکار رہتے ہیں اس لیے ہزار گولڈن ڈے کا تصور عام کرنا ضروری ہے جس میں بچے کی پیدائش سے ہی بریسٹ فیڈنگ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ پنجاب میں خواتین کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگائی گئی ہے تاکہ ہم اپنا مستقبل محفوظ بنا سکیں۔ عالمی کانفرنس سے خطاب میں چیئرپرسن پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر اقرار احمد خان نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ دس سالوں میں 29 ہزار پی ایچ ڈی کی ڈگریاں جاری ہوئی ہیں اور اس وقت 37 ہزار سکالرز پی ایچ ڈی میں زیر تعلیم ہیں، ہمیں قومی سطح پر نالج کو وطن کی ترقی کے لیے استعمال کرنا ہوگا، انھوں نے حوالہ دیا کہ اس وقت پاکستان میں 40 ہزار مقالہ جات شائع ہوچکے ہیں۔ اُنھوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں ہیومن نیوٹریشن کے ماہرین موجود ہیں اس کے باوجود ہمیں یونیسف سے ہی گائیڈ لائنز لینا پڑتی ہیں، انھوں نے زور دیا کہ ہمیں بریسٹ فیڈنگ کے لیے مسلسل مہم جاری رکھنی چاہیے۔ کا

نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر زیب النساء حسین نے کہا کہ بریسٹ فیڈنگ ماں اور بچے کی صحت مند زندگی کے لیے ناگزیر ہےاور اس کے ذریعے ہم بچوں کی قدرتی نشوونما کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ملک بھر کی جامعات کو آگاہی مہم کے ذریعے سے سماجی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ اُنھوں نے کہا کہ یونیورسٹی ہر سال بریسٹ فیڈنگ پر کانفرنس کا انعقاد کر کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے تاکہ نوجوان نسل کو اس کی افادیت سے آگاہ رکھا جاسکے۔ یونیسف کے اشتراک سے منعقدہ کانفرنس میں ڈاکٹر وہاب علی، پروفیسر ڈاکٹر ثناء اللہ اقبال، پروفیسر ڈاکٹر شناور وسیم علی، ڈاکٹر اعجاز احمد، ڈاکٹر عائزہ قمر، ڈاکٹر عباس خان سمیت ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔ کانفرنس میں تحقیقی مقالہ جات پیش کرنے والے اساتذہ اور طالبات میں شیلڈز اور سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may have missed