خواتین کے حقوق اور انصاف کی فراہمی کو قانونی تحفظ حاصل ہے  ۔ورک پلیس پر خواتین کو ہراساں کرنا قابل سزا جرم ہے۔…….خاتون محتسب پنجاب ڈاکٹر نجمہ افضل خان

0
mohtasib seminar

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے  ویژن کے مطابق خواتین کے حقوق اور انصاف کی فراہمی کو قانونی تحفظ حاصل ہے  ۔ورک پلیس پر خواتین کو ہراساں کرنا قابل سزا جرم ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں خواتین کے حقوق اور جائے روزگار پر خواتین کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔صوبائی خاتون محتسب پنجاب ڈاکٹر نجمہ افضل خان نے سیمینار میں بحثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران یونیورسٹی سینٹر برائے اینٹی ہراسمنٹ اینڈ ڈسکریمینیشن کی چیئرپرسن اورکمیٹی ممبران سینئر اساتذہ افسران اور ضلعی محکموں سے وابستہ افسران شریک ہوئے۔

صوبائی خاتون محتسب پنجاب ڈاکٹر نجمہ افضل خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ویژن ہے کہ خواتین کو انکے حقوق انکے گھر کی دہلیز پر ملیں۔ خواتین کو ہراساں کرنا جرم ہے۔ ادارہ خواتین کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے۔صوبائی محتسب ادارہ 2013 میں بنا۔ ورک پلیس پر خواتین کو ہراساں کرنا قابل سزا جرم ہے۔ صوبائی خاتون محتسب پنجاب نے کہا کہ سرکاری ادارے ہوں یا نجی، انسداد ہراسانی کمیٹی بنانا لازمی ہے۔ ہر ادارے میں ہراسمنٹ کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے ،ہر کمیٹی تین افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔اس ادارے سے خواتین کو فوری ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔ مرد یا خاتون ہراسمنٹ کے خلاف اس ادارے سے رجوع کرسکتے ہیں۔ خواتین کو ساز گار اور تحفظ والا ماحول فراہم کیا جائےتاکہ وہ آسانی سے کام کرسکیں۔ خواتین جن اداروں میں کام کرتیں ہیں وہاں کوڈ آف کنڈکٹ اور انکوائری کمیٹیز کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔ہمارے افراد اداروں میں جاکر ان کیمٹیوں کی ٹریننگ کرتے ہیں۔کوڈ آف کنڈکٹ کو جہاں خواتین کام کرتیں ہیں، وہاں آویزاں کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ادارے کی زمہ داری ہے وہ خواتین جہاں کام کرتیں ہیں ان کو چیک کریں۔ ہراسمنٹ  صرف ہمارا نہیں عالمی مسئلہ ہے ایسے مسئلوں کی روک تھام کرنی ہے۔اس سلسلے میں صوبہ بھر میں آگاہی سیمینار کا انعقاد کر رہے ہیںی۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may have missed