


گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن کی صدارت آج یہاںگورنر ہائوس لاہورمیں پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں خالی سٹیٹوری سیٹوں پر تقرریوں کے حوالے سے اجلاس۔ اجلاس میں نگران وزیرِ اعلی پنجاب محسن نقوی نے خصوصی شرکت کی۔
اس موقع پر سیکریٹریز ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، زراعت، لائیو سٹاک، انڈسٹریز، کامرس اینڈ سکل ڈویلپمنٹ، سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، اوقاف اینڈ ریلیجئس افیئرز نے بریفننگ کے دوران بتایا کہ 50 سرکاری جامعات میں وائس چانسلرز کی 10, پرو وائس چانسلرز کی 40, رجسٹرار کی 33, ٹریثرار کی 38 اور کنٹرولر ایگزیمینیشن کی 35 سیٹیں خالی ہیں۔جس پر گورنر پنجاب نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہ جامعات کا ملک کی ترقی میں اہم کردار ہے۔ لیکن یہ امر قابل افسوس ہے کہ پچھلی حکومت کی بری گورننس کی وجہ سے پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں ایڈہاک ازم پر چل رہی ہیں۔ یونیورسٹیوں میں کئی انتظامی پوسٹیں (Statutory posts) خالی ہیں. جن یونیورسٹیوں میں پرو وائس چانسلرز کی سیٹیں ہیں ان پر بھی تقرریاں نہیں کی گئیں۔ ان انتظامی سیٹوں پر تقرریاں نہ ہونے سے یونیورسٹیوں کے گورننس کے معاملات متاثر ہوتے ہیں۔ کئی یونیورسٹیوں میں کنٹرولر آف ایگزیمینشن نہ ہونے سے طلبہ کو وقت پر ڈگریاں نہیں مل سکتیں جو بہت افسوسناک بات ہے۔
گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے کہا کہ انہوں نے گورنر پنجاب کا عہدہ سنبھالتے ہی بطور چانسلر سب یونیورسٹیوں کے انتظامی محکموں کو مراسلہ جاری کیا تھا کہ خالی انتظامی سیٹوں پر تقرری کا عمل 06 ماہ پہلے شروع کر دیں تاکہ یونیورسٹیوں میں گورننس کے مسائل پیدا نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کے لیے لائیو سٹاک کی بہت اہمیت ہے۔ چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور مسلم لیگ ن کے سابق دور میں قائم کی گئی۔ لیکن اس کے بعد اس کی ترقی کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اس موقع پر وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے سیکریٹری لائیو سٹاک کو چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کا فوری دورہ کرنے کے کی ہدایت جاری کی۔
گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے ٹیکنالوجی کا فروغ بہت اہم ہے۔ ٹیکنالوجی سے متعلق یونیورسٹیاں ایک مقصد کے تحت بنائی گئی تھیں۔ پنجاب تیانجن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں چائنیز پروفیسرز کے واپس جانے سے وہاں کام رک گیا ہے۔ انہوں نے ہدایت جاری کی کہ وفاقی حکومت کی مدد سے چائنیز پروفیسرز کو واپس بلایا جائے۔ اس موقع پر گورنر پنجاب اور نگران وزیر اعلی پنجاب نے تمام سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ الیکشن کمیشن سے با ضابطہ اجازت لیکر یونیورسٹیوں میں خالی انتظامی سیٹوں پر جلد از مستقل جلد تقرریاں کی جائیں۔ تاکہ جامعات کے انتظامی امور میں تعطل نہ ائے۔
اس موقع وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے متعلقہ حکام کو فوری کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی ۔اجلاس میں مختلف انتظامی محکموں کے سیکرٹریز ، چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ، ڈاکٹر شاہد منیر اور پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر پنجاب ، نبیل احمد اعوان بھی موجود تھے


وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کی ہدایت پر خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے مختلف شعبہ جات میں تقریبات منعقد ہوئیں۔ شعبہ سیاسیات کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے موقع پر چئیر مین شعبہ سیاسیات پروفیسر ڈاکٹر مصور حسین بخاری کی سربراہی میں خصوصی واک کا انعقاد کیا گیا ۔ واک میں وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر غلام محمد گھوٹوی ہال میں شعبہ سوشل ورک ،فاطمہ جناح ویمن لیڈرشپ سنٹر اور آئی یو بی سوشل ویلفئیر سوسائٹی کے زیر اہتمام خصوصی سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر روبینہ بھٹی ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز نے کی۔سیمینار کا موضوع یونائیٹڈ نیشنز کے اس سال کے موضوع “صنفی مساوات کے لیے ڈیجیٹل جدت اور ٹیکنالوجی ” تھا ۔ پروفیسر ڈاکٹر روبینہ بھٹی کا کہنا تھا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور خواتین کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ انہیں سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔ یونیورسٹی میں جدید طرز کا ڈے کیئر سنٹر، انبلنگ سنٹر،ویمن ڈویلپمنٹ سنٹر، ہراسمنٹ سیل، فاطمہ جناح ویمن لیڈرشپ سنٹراورکامن رومز کی سہولیات موجود ہیں۔ اس وقت اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں 55فیصد خواتین طلبا زیر تعلیم ہیں۔ تقریب میں موجود خواتین نے اس دن کے موقع پر خصوصی سیمینار کے انعقاد پروائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کا شکریہ اداکیا۔ ڈاکٹر آصف نوید رانجھا چیئر مین شعبہ سوشل ورک نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خواتین کو معاشرے میں فعال کردار دلانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور ملازمت پیشہ خواتین کی آسانی کے لیے بہت سے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جن کی عالمی سطح پر پذیرائی ہو رہی ہے۔ہماری خواتین جرأت، بہادری اور حوصلہ مندی میں اپنی مثال آپ ہیں اور زندگی کے تمام شعبوں میں کارہائے نمایاں سر انجام دے رہی ہیں۔اس موقع پرپروفیسرڈاکٹر راحیلہ خالد قریشی، چیئر پرسن شعبہ عربی نے خواتین اور اسلام کے حقوق کے بارے میں مختصر جائز ہ پیش کیا۔ پروفیسر ڈاکر روزینہ انجم نقوی شعبہ فارسی نے خواتین کے حقوق وفرائض کے حوالے سے خطاب کیا۔ ڈاکٹر اریبہ خان ، چیئر پرسن شعبہ اسلامک اور کمرشل بینکنگ نے یونائیٹڈ نیشنز کے سالانہ موضوع اور اس کے مقاصد کے بارے میں جامعہ گفتگو کی۔ اس موقع پر مختلف شعبہ جات کی خواتین نے اپنے ا،دارے اور خواتین کو میسر سہولیات کے بارے میں بتایا جس میں مس وردہ شیخ سب انسپکٹر شعبہ پنجاب پولیس، مس زبیدہ ڈسٹرکٹ پروگرام مینجر ، اِدارہ تعلیم وآگاہی، مس علینہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ، مس نگینہ صدیق سینئر نرس شعبہ میڈیکل شامل ہیں۔ سمینار کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ثمر فہد ڈائریکٹر این ایبلنگ سنٹر اور آفتاب احمد شعبہ سوشل ورک نے ادا کیے۔ سیمینار میں مسز پروفیسر ڈاکٹر معظم جمیل ، ڈاکٹر عابدہ فردوس ایڈیشنل رجسٹرار ، ڈاکٹر شیخ سفینہ صدیق، ، مسز عنبر تنصیر، سوشل ورکر، ایڈوکیٹ فرح بلوچ، نوشابہ ملک، چائلڈ پروٹیکشن بیورو، ڈاکٹر نگہت اسلم، اسسٹنٹ پروفیسر ، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج فار ویمن، ڈاکٹر نرگس ناز، چئیر مین شعبہ باٹنی ، یونیورسٹی گرلز گائیڈ سوسائیٹی ، فاطمہ مظاہرڈپٹی رجسٹرار پبلک آفئیرز، صائمہ غفار، ڈپٹی رجسٹرار ، خواتین نمائندگان سوشل ویلفئیر ، چیمبر ، پنجاب پولیس ، اسٹیٹ بینک ، افسران، فیکلٹی ممبران اور یونیورسٹی طلباء و طالبات نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کے اختتام میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ڈیپارٹمنٹ آف سوشل ورک کی جانب سے شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔
UVAS

Department of Pathology of the University of Veterinary and Animal
Sciences (UVAS) Lahore in collaboration with Davis Thompson Foundation and Global Health
Pathology Network arranged a three-day 4 th international workshop on ‘Pathology of Animal
Diseases’ here at City Campus on Wednesday.
Vice-Chancellor Prof Dr Nasim Ahmad presided over the concluding ceremony of the workshop
and distributed certificates among participants & resource persons while Principal CVAS Jhang
Prof Dr Fiaz Qamar, Director Chughtai Lab Dr Umar Chughtai, Chairman Department of
Pathology Prof Dr Asim Aslam, Prof Dr Corrie Brown from University of Georgia USA, Dr
Ishtiaq Ahmed, representatives from pharmaceutical industry, professionals from public &
private sectors, post-graduate students, researchers and professionals were present.
Speaking on the occasion, Prof Dr Nasim Ahmad said that such workshops are necessary for
learning about latest knowledge, using & interpretation of tools related to disease diagnosis to
solve livestock farmer issues. He advised all the participants to spread knowledge with other
professionals which learnt from this training. He also acknowledged the role of Prof Dr Corrie
Brown for imparting best practices/skills and knowledge to participants of workshop. Prof Dr
Corrie Brown presented the vote of thanks.
Various aspects have been discussed during workshop related to fundamental principles of
morphological diagnosis, calf diarrhea with focus on pathogenesis, diseases of nerves systems
and diseases of reproductive systems etc.

Prof. Dr. Shahid Munir, Chairperson. PHEC, participated as a Guest of Honor at the Launching Ceremony of the Asian Federation of Biotechnology, Pakistan Chapter at Government College University Faisalabad. Chairperson PHEC also Co-Chaired the panel discussion on Practical Steps toward government-industry-academia linkages to establish circular bioeconomy in Pakistan at the event.


All reactions:
1515

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کئے بغیر ملکی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، دور دراز علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لئے” سکول آن ویلز “کا منصوبہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کو سکول آن ویلز منصوبے کے افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتےہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین اور دیگر بھی موجود تھے۔ اس منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر 8 بسوں پر سکول آن ویلز منصوبہ اسلام آباد اور گرد ونواح کے بچوں کوموبائل سکولز کے ذریعے تعلیم فراہم کرے گا۔ وزیراعظم نے سکول آن ویلز منصوبےکو سراہتے ہوئے کہاکہ اس منصوبے سے دیہاتوں میں بچوں کو تعلیم کے زیور سےآراستہ کرنے میں مد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ یہ موبائل سکولز دیہات میں تعلیم کا نقلاب لے کر آئیں گے اور ان سے ہزاروں لاکھوں بچوں ، جو دیہاتوں کی گلیوں کی دھول میں گم ہو جاتےہیں، کو تعلیم کی سہولت حاصل ہو گی اور وہ پاکستان کے عظیم معمار بنیں گے۔ وزیراعظم نے کہاکہ اس منصوبے کا دائرہ کار چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر تک پھیلانے کا جائزہ لیاجائے ۔ اس سے بڑی اور کوئی قومی خدمت نہیں ہو سکتی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس منصوبے کے آغاز پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتےہیں۔
وزیراعظم نے اس موقع پر خصوصی طورپر ڈیزائن کی گئی بسوں کابھی معائنہ کیا اور اساتذہ اور بچوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔وزیراعظم نے موبائل لائبریری کے منصوبے کو بھی سرا ہااور کہا کہ اس سے دور دراز کے علاقوں کے بچوں کو گھر کی دہلیز پر لائبریری کی سہولت میسر آئے گی۔ وزیراعظم اس موقع پر بچوں میں گھل مل گئے اور ان سے سوال جواب کئے

President Dr Arif Alvi has underscored the need for promoting skills-based and technical education in the country to meet the needs of the industry and others sectors of the economy. He highlighted that almost 22 million children were out of schools, adding that urgent measures were needed for their intellectual and physical development to make them useful citizens of the country. The President expressed these views while chairing a meeting of the Senate of National Skills University (NSU), at Aiwan-e-Sadr, Islamabad, today. Addressing the meeting, the President emphasized that NSU needed to produce more skilled people by equipping them with the latest skill sets to fully meet the demands of the market. He highlighted the need for career counselling for students by the universities to help them choose appropriate professions. He asked the NSU management to establish linkages with national and international technical education institutions to improve the quality and skills of its graduates. Prof Dr Muhammad Mukhtar, VC of NSU, briefed the meeting about the role of the university in promoting skill-based education in the country. The Senate of NSU also confirmed the minutes of the 4th meeting of the Senate, besides endorsing the decisions taken by the VC on behalf of the Senate. The meeting also approved the establishment of the NSU sub-campus in Muridke, Sheikhupura.



اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں تیسرے سالانہ ادبی و ثفافتی میلے BLCF-2023کا آج بغداد الجدید کیمپس میں باقاعدہ آغاز ہو گیاہے۔افتتاحی تقریب میں وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب، کمشنر بہاول پور ڈاکٹر احتشام انور، ڈپٹی کمشنر ظہیر احمد جپہ، سید تابش الوری اور صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری بہاول پور چوہدری ذولفقار علی مان نے بہاول پور لٹریری اینڈ کلچرل فیسٹیول کا آغاز کیا۔ اس موقع پر اصغر ندیم سید، جامی چانڈیو،حنا جیلانی، نذیر لغاری،سردار علی شاہ،پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی، حفیظ خان، ڈینز، پرنسپل آ فیسر، دیگر اساتذہ اور افسران نے شرکت کی۔وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی کوشش ہوتی ہے کہ نوجوان نسل کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ادبی و ثقافتی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے تاکہ وہ معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ انہو ں نے تیسرے بہاولپور لٹریری اینڈ کلچرل فیسٹیول میں تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور بہاولپور لٹریری اینڈ کلچرل فیسٹیول ہمیں نئے راستوں کو متعین کرنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ کمشنر بہاولپور ڈاکٹر احتشام انور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس فیسٹیول کا انعقاد انتہائی خوش آئند ہے اس طرح کے ادبی و ثقافتی فیسٹیول سے ہمارے نوجوانوں کو اپنی ثقافت کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے۔ جامی چانڈیو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادب معاشرے کے لیے بہت ضروری ہے اور اس طرح کے فیسٹیول سے معاشرے کی تشکیل میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادب اور ثقافت کا تعلیم سے گہرا رشتہ ہے۔ دنیا بھر میں جامعات ادب وثقافت کے ساتھ جدید علوم کو ہم آہنگ کر کے ایک نیا تعلیمی انقلاب برپا کر رہی ہیں۔اس موقع پر تفصیلات بیان کرتے ہوئے شہزاد احمد خالد ڈائریکٹر پریس میڈیا اینڈ پبلیکیشنز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے بتایا کہ پہلے روز 27 فروری کو عباسیہ کیمپس میں قرآت اینڈ نعت اور تقریری مقابلے منعقد کیے گئے اور رضوان اور معظم علی خان نے قوالی نائٹ میں شرکاء کو محضوظ کیا۔ بہاول پور لٹریری اینڈ کلچرل فیسٹیول کے چار روزہ تقریبات میں عقیل عباس جعفری، سجاد پرویز، نعیم مسعود، حسنین جمال، اظہر مجوکا، اجمل ساجد، جمیل پروانہ، موہن بھگت، ظہور احمد لوہار، واہاب بھگتی،جاوید اقبال، مجاہد بریلوی، آمنا مفتی، انوار سین رائے، فصیح باری خان، ہرمیت سنگھ، عمران عباس، محمد طاہر حسن، ناصر ادیب، ظفر اقبال سندھو، سیما کمرانی، شاکر شجاع آبادی، عباس تابش، آغا صدف مہدی، امبریں حسین امبر، اظہر فراغ، گل نوخیزاختر، جہانگیر مخلیز، انعام الحق جاوید، منصور آفاق، ندیم بھابھا، ناصرہ زبیری، سباحت عروج، شہبار نئیر، سلیم ساغر، شاہد مکلی، شوکت فہیم، سید تابش الوری، طاہر شہیر، عمیر نجمی، وصی شاہ، واصف علی، زاہد فخری، ذیشان اطہر، جنید سلیم، سلیم صافی اور دیگر نامور شخصیات شامل ہیں۔ اس موقع پر 20کتابوں کی تقریب رونمائی بھی منعقد کی جائے گی۔ روبرو سلسلے میں پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کے ساتھ سیشن منعقد کیا گیا جس میں ان کی ذاتی زندگی، جدوجہد اور کامیابیوں سے متعلق گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر ان کی کتاب کی رونمائی بھی کی گئی۔اس کے علاو حسنین جمال، مجاہد بریلوی، سیما کمرانی، خلیل الرحمان قمر، اوریا مقبول جان کے ساتھ خصوصی نشستیں منعقد ہوں گی۔ علاقائی موسیقی اور تھیٹر ڈراموں کا خصوصی اہتمام ہوگا۔ بہاولپور لٹریری اینڈ کلچرل فیسٹیول کا اہم حصہ میڈیا کنکلیو ہے اس باردو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلے حصے کا موضوع پاکستانی فلم انڈسٹری کل اور آج جس میں امان اللہ سپرہ، آمنا مفتی، انور سین رائے، فصیح بری خان، ہرمیت سنگھ، عمران عباس، محمد طاہر حسین، مجاہد بریلوی، نعیم مسعود، ناصر ادیب، نذیر لغاری اور ظفر اقبال سندھو شریک ہوں گے۔ اسی طرح دوسرے حصے کا موضوع بول کے لب آزاد ہیں تیرے، جس میں اشرف شریف، اظہر مجوکا، گل نو خیز اختر، ارشد احمد عارف، جنید سلیم، محسن بھٹی، نسیم شاہد، اوریا مقبول جان، سجاد جہانیاں، سجاد میر، سلیم صافی، شاہد اجمل ملک، شاکر حسن شاکر، توفیقا بٹ شریک ہوں گے۔ان تقریبات کے منتظم ڈاکٹر آصف نوید رانجھا نے بتایا کہ فیسٹیول کے موقع پر بغدا دالجدید کیمپس میں کتابوں کی نمائش،پھولوں کی نمائش، صنعتی و دستکاریوں کی نمائش، زرعی نمائش اور کھانوں کے اسٹالز لگائے جائیں گے۔


یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں چینی ثقافت کے اثرات پر ایک روزہ سیمنار کا اہتمام کیا گیا ، جس کا مقصد طلبا کو چین کی متنوع ثقافت کے بارے میں آگاہ کرنا اور پاکستانی معاشرے پر اسکے اثرات کا جائزہ لینا تھا ۔وائس چانسلر ڈاکٹر سید منصور سرور کی سرپرستی میں ڈائریکٹر چائنہ اسٹڈی سینٹر ، ڈین فکلیٹی آف نیچرل سائنس ، اسلامک اسٹڈیز ڈاکٹر شاہد رفیق نے ڈیپارٹمنٹ چیئرپرسن ڈیپارٹمنٹ آف سوشل سائنس اینڈ ماڈرن لینگویچز ڈاکٹر مہوش ریاض کے تعاون سے سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے رجسٹرار محمد آصف بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر مہوش ریاض کی جانب سے سیمینارز کے سلسلے کا یہ پانچواں سیمینار تھا ۔ سیمینار کا مقصد متنوع چینی ثقافت کے ان رازوں کو تلاش کرنا تھا جن کے ذریعے چین دنیا بھر میں مقبول ہوا ۔ اسسٹنٹ پروفیسر، چائنہ سٹڈی سنٹر ڈاکٹر بشریٰ حنیف اور اویس، انچارج، کنفیوشس سیٹ اینڈ انسٹرکٹر نے طلبا کو چینی ثقافت سے اآگاہ کیا ۔ انہوں نے طلبا کو چینی ثقافت کو سمجھنے اور چینی زبان کو سیکھنے کی ترویج دی اور فوائد سے آگاہ کیا