امریکی قونصل جنرل اسٹیٹسن اے سینڈرز کی پنجاب یونیورسٹی میں “اے آئی کے دور میں ڈیجیٹل اعتماد اور آزاد اظہار” کے منصوبے کی اختتامی تقریب میں شرکت ۔۔
لاہور: امریکی قونصل جنرل اسٹیٹسن اے سینڈرز نے بدھ کے روز پنجاب یونیورسٹی میں “اے آئی کے دور میں ڈیجیٹل اعتماد اور آزاد اظہار” کے منصوبے کی اختتامی تقریب میں شرکت کی۔ منصوبے کا مقصد کھلے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ذمہ دارانہ مواد کی تیاری، تصدیق اور صحافتی اقدار کو فروغ دینا تھا۔قائداعظم کیمپس میں پنجاب یونیورسٹی کے سی ای ایم بی آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب میں سینئر صحافیوں، میڈیا تجزیہ کاروں، جامعہ کے اعلیٰ حکام، ماہرین تعلیم اور امریکی قونصلیٹ لاہور کے نمائندوں نے شرکت کی۔ امریکی قونصل جنرل اسٹیٹسن اے سینڈرز تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قونصل جنرل سینڈرز نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان اور امریکا کے درمیان شراکت داری کی بہترین مثال ہے، جس میں مشترکہ مہارت، باہمی احترام اور کھلے، قابلِ اعتماد اور آزاد ڈیجیٹل ماحول کے عزم کو فروغ دیا گیا ہے۔پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ جامعات کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کو تیزی سے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل ماحول اور اس سے پیدا ہونے والے نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کرے

محکمہ میڈیا اینڈ ڈویلپمنٹ کمیونیکیشن کے زیر اہتمام منصوبے کے تحت ابھرتے ہوئے میڈیا پروفیشنلز کو اخلاقی کہانی نویسی، معلومات کی تصدیق اور مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی۔ منصوبے کی سربراہ اور شعبہ کی چیئرپرسن ڈاکٹر عائشہ اشفاق نے منصوبے کے نتائج اور نوجوان پاکستانی صحافیوں میں ذمہ دارانہ ڈیجیٹل ابلاغ کے فروغ میں اس کے کردار پر روشنی ڈالی۔منصوبے کی اہم کامیابیوں میں اے آئی ٹول کٹ کی تیاری بھی شامل ہے، جو اخلاقی مواد کی تخلیق اور معلومات کی تصدیق میں معاونت فراہم کرے گی۔ میڈیا ڈویلپمنٹ کے ماہر اور منصوبہ ٹیم کے رکن فضلی ہادی نے تقریب میں ٹول کٹ متعارف کرائی۔
سینئر صحافی اور ڈیجیٹل میڈیا ماہر مہمل سرفراز نے اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں ڈیجیٹل اعتماد کو درپیش چیلنجز اور معتبر بیانیے کی تشکیل میں صحافیوں کے کردار پر اظہارِ خیال کیا، جبکہ سینئر صحافی منیب فاروق نے کھلے ڈیجیٹل ماحول میں کام کرنے والے نوجوان صحافیوں کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل پیش کیا۔
