سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ……جس کا حتمی مقصد جارحیت کی روک تھام، خودمختاری کا تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے

0
2288615389

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس کا بنیادی مقصد جارحیت کو روکنا، اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا ہے۔ اس معاہدے کو ایران، اسرائیل یا کسی دوسرے ملک کے خلاف اتحاد یا ’’اسلامی نیٹو‘‘ سمجھنا درست نہیں۔ اس کا اصل مقصد دفاعی بازدارندگی پیدا کرنا ہے تاکہ ممکنہ جارح کو معلوم ہو کہ کسی ایک ملک کے خلاف کارروائی کی صورت میں اسے تین اہم علاقائی طاقتوں کے مشترکہ ردعمل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ بازدارندگی کا مقصد جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ جنگ کے امکان کو کم کرنا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جنگوں، میزائل اور ڈرون حملوں، پراکسی تنازعات، سمندری راستوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات نے علاقائی ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے زیادہ ذمہ داری اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کی مختلف مگر ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی دفاعی، معاشی اور اسٹریٹجک صلاحیتیں اس شراکت داری کو مضبوط بناتی ہیں۔معاہدے کے تحت انٹیلی جنس شیئرنگ، مشترکہ فوجی مشقوں اور تربیت، بحری سلامتی، انسدادِ دہشت گردی، فضائی و میزائل دفاع، سائبر سکیورٹی، جدید ٹیکنالوجی اور مشترکہ دفاعی پیداوار جیسے شعبوں میں تعاون بڑھایا جاسکتا ہے۔ اس طرح تینوں ممالک بحران پیدا ہونے کے بعد ردعمل دینے کے بجائے ممکنہ خطرات سے پہلے نمٹنے کی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں۔

مضمون میں اس خدشے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر مکہ معاہدے کو کسی دوسرے اتحاد کے خلاف صف بندی کے طور پر دیکھا گیا تو یہ خطے میں نئی تقسیم، شکوک اور اسلحے کی دوڑ کو جنم دے سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر اسے خودمختاری، عدم جارحیت، دفاع اور امن کے لیے علاقائی سکیورٹی پلیٹ فارم سمجھا جائے تو یہ مختلف ممالک کے درمیان تعاون کا پل بن سکتا ہے۔

مکہ میں معاہدے پر دستخط کی علامتی اہمیت بھی نمایاں ہے، کیونکہ مکہ مسلمانوں کے لیے اتحاد اور مشترکہ روحانی وابستگی کی علامت ہے۔ تاہم، معاہدے کی اصل کامیابی اس کی علامت میں نہیں بلکہ عملی نتائج میں ہوگی۔

مکہ معاہدے کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مضبوط دفاع اور امن ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ اس کی سب سے بڑی کامیابی وہ جنگ ہوگی جو کبھی شروع نہ ہو، وہ حملہ جو کبھی نہ کیا جائے اور وہ بحران جو سفارت کاری کے ذریعے جنگ میں تبدیل ہونے سے پہلے حل ہوجائے۔

مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف محاذ بنانے کے بجائے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کی مشترکہ دفاعی صلاحیت اور بازدارندگی مضبوط کرنے کی کوشش ہے، جس کا حتمی مقصد جارحیت کی روک تھام، خودمختاری کا تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may have missed