Skip to main content

https://ilmiatonline.com

سکالرشپعالمی خبریں

چین سے تحقیقی روابط کا ازسرِنو جائزہ لینے کی برطانوی جامعات کو ہدایت

ایم آئی فائیو کا انتباہ، 100 سے زائد برطانیہ سے وابستہ ماہرین کے چینی انٹیلی جنس سے منسلک تحقیقی منصوبوں میں شامل ہونے کا دعویٰ

لندن، 2 اکتوبر 2026: یونیورسٹی ورلڈ نیوز کی رپورٹ کے مطابق برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو نے ملک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کو چین کے ساتھ بعض تحقیقی تعاون کا فوری جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ ادارے کے مطابق 100 سے زائد برطانیہ سے وابستہ ماہرین ایسے تحقیقی منصوبوں میں شامل رہے ہیں جنہیں چین کے چائنا جنرل ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (CGTRI) کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی گئی، جبکہ بعض ماہرین کو مبینہ طور پر اس فنڈنگ کے حتمی ماخذ کا علم نہیں تھا۔ایم آئی فائیو نے 30 ستمبر کو جاری کردہ سکیورٹی الرٹ میں دعویٰ کیا کہ CGTRI کے چین کی وزارتِ ریاستی سلامتی (MSS) سے مضبوط روابط ہیں اور اس ادارے کے ذریعے ایسے علمی و تحقیقی منصوبوں کی مالی معاونت کی جاتی ہے جو چینی انٹیلی جنس کی تکنیکی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

ایم آئی فائیو کے مطابق CGTRI کی جانب سے جن شعبوں میں تحقیقی منصوبوں کو معاونت فراہم کی گئی، ان میں مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، خفیہ مواصلاتی نظام اور اسٹیگانوگرافی شامل ہیں۔ برطانوی ادارے نے خبردار کیا کہ ایسے تحقیقی روابط قومی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔برطانوی سکیورٹی وزیر ڈین جاروس نے کہا کہ ایم آئی فائیو کا انتباہ چینی انٹیلی جنس کی جانب سے برطانوی جامعات کے علمی اور تحقیقی تجربے سے خفیہ طور پر فائدہ اٹھانے کی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیر نے ملک کی جامعات کے وائس چانسلرز کو خط لکھ کر CGTRI کے ساتھ روابط ختم کرنے پر زور دیا ہے۔

چین کا برطانوی الزامات سے انکاردوسری جانب لندن میں چینی سفارتخانے نے ایم آئی فائیو کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ چینی سفارتخانے کے ترجمان کے مطابق برطانیہ اور چین کی جامعات کے درمیان تعلیمی و تحقیقی تعاون رضاکارانہ بنیادوں پر اور متعلقہ قوانین و ضوابط کے مطابق جاری رہا ہے۔چینی فریق نے برطانوی حکام پر زور دیا کہ وہ مبینہ غلط معلومات پھیلانے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی و تحقیقی تعاون کو متاثر کرنے سے گریز کریں۔یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب برطانیہ میں جامعات کو بین الاقوامی تحقیقی شراکت داری میں قومی سلامتی، فنڈنگ کے ذرائع، حساس ٹیکنالوجی اور تحقیقی شفافیت کے معاملات پر زیادہ محتاط رہنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے