نسٹی ٹیوٹ آف ایگرو انڈسٹری اینڈ انوائرمنٹ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اشتراک سے عباسیہ کیمپس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں سیمینار کا انعقاد

انسٹی ٹیوٹ آف ایگرو انڈسٹری اینڈ انوائرمنٹ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اشتراک سے عباسیہ کیمپس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں دریائے ستلج کے سیلاب کے خطرے، سیلابی پانی کے استعمال، غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے کردار کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا۔ مہمان خصوصی وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے اپنے خطاب میں کہا کہ مستقبل میں آب و ہوا اور پانی سے متعلق ہنگامی حالات کے لیے پاکستان کو تیار کرنے کی خاطر یونیورسٹیوں، سرکاری محکموں، آفات سے نمٹنے والے اداروں اور محققین کے درمیان مسلسل تعاون بہت ضروری ہے۔ سیمینار میں وسیم احمد منیجر ٹریننگ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، محمد شجیع الرحمان رجسٹرار،پروفیسر ڈاکٹر غلام حسن عباسی ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ایگرو انڈسٹری اینڈ انوائرمنٹ ، ڈاکٹر غلام گیلانی شعبہ مصنوعی ذہانت ، ڈاکٹر معظم خان درانی شعبہ بشریات، سہیل قاسم اسسٹنٹ منیجر ٹیکنیکل نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ، حسیب اللہ شیخ پنجاب محکمہ آبپاشی سہیل کاظم اور پروفیسر نائک اختر جاوید پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن نے تفصیلی بریفنگ دیں۔ افتتاحی سیشن کی صدارت محمد شجیع الرحمٰن نے کی اور ڈائریکٹر میڈیا اینڈ پبلک ریلیشنز ڈاکٹر شہزاد احمد خالد، فیکلٹی ممبران ، طلباو طالبات بڑی تعداد میں موجود موجود تھے۔مقررین نے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے خاص طور پر دریائے ستلج کے حالیہ سیلابوں کی نشاندہی کی کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی شدید قلت ہے اور اس بات کا ذکر کیا کہ پانی کی قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان کا 14 واں نمبر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ 20 سالوں کے دوران پانی کی قلت مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ پگھلتے ہوئے گلیشیئرز، مون سون کے بدلتے ہوئے انداز، بار بار آنے والے سیلاب اور غذائی پیداوار پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو فوری قومی تشویش کے امور کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ تحقیق، بہتر منصوبہ بندی اور سرکاری اداروں کے مابین باہمی تعاون کے ذریعے عملی حل تلاش کیے جانے چاہئیں


