Skip to main content

https://ilmiatonline.com

یو ای ٹی لاہور میں ’’سیرتِ رسول ﷺ اور نوجوان نسل‘‘ کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد ۔۔۔۔۔۔۔۔اسوۂ حسنہ نوجوانوں کے لیے بہترین نمونۂ حیات، جامعات کردار سازی میں اہم کردار ادا کریں: مقررین

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں ’’سیرتِ رسول ﷺ اور نوجوان نسل: جدید دنیا کے فکری، اخلاقی اور سماجی چیلنجز‘‘ کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار یو ای ٹی لاہور اور یو ای ٹی اسلامک سوسائٹی کے اشتراک سے منعقد ہوا۔ وائس چانسلر یو ای ٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے تقریب کی صدارت کی، جبکہ سابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے بطور مقرر خطاب کیا۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، بعد ازاں ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز یو ای ٹی لاہور ڈاکٹر تنویر قاسم نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا اور سیمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوان نسل کو درپیش فکری، اخلاقی اور سماجی چیلنجز کے تناظر میں سیرتِ طیبہ ﷺ سے رہنمائی حاصل کرنا نہایت اہم ہے۔

مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری نے خطاب کرتے ہوئے قرآنِ کریم کی عالمگیریت اور اس کے محفوظ ہونے کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ دنیا کی مختلف زبانوں میں الفاظ کے مفاہیم اور استعمال میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ انہوں نے مختلف آسمانی کتب اور صحائف کے تاریخی متون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآنِ کریم اپنی اصل صورت میں محفوظ رہنے والی واحد الہامی کتاب ہے اور اس کے الفاظ و معانی کے تحفظ کی ایک منفرد حیثیت ہے۔؎انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم اور سیرتِ رسول ﷺ ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ قرآنِ کریم کی عملی تشریح ہے اور آپ ﷺ کا اسوۂ حسنہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ جدید دور کے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے قرآن و سیرتِ طیبہ سے رہنمائی حاصل کریں اور اپنے کردار کو اخلاقی اقدار سے مضبوط بنائیں۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ویمن ڈویلپمنٹ سینٹر نے یونیسیف  پنجاب کے اشتراک سے زندگی کے پائیدار آغاز کے لیے ماں کا دودھ پلانا – تحفظ، فروغ اور حمایت کے موضوع پر ایک آگاہی سیمینار اور واک کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے بغداد الجدید کیمپس میں واقع جناح آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ویمن ڈویلپمنٹ سینٹر نے یونیسیف  پنجاب کے اشتراک سے زندگی کے پائیدار آغاز کے لیے ماں کا دودھ پلانا – تحفظ، فروغ اور حمایت کے موضوع پر ایک آگاہی سیمینار اور واک کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے بغداد الجدید کیمپس میں واقع جناح آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔اس آگاہی مہم کا مقصد ماں اور بچے کی صحت کے لیے ماں کا دودھ پلانے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ایک ایسا سازگار ماحول فراہم کرنا تھا جو زندگی کے صحت مند اور پائیدار آغاز کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔سیمینار سے قبل، وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے اپنے دفتر میں یونیسیف کے وفد سے ملاقات کی۔ انہوں نے آگاہی واک کی قیادت بھی کی، جس کا آغاز وائس چانسلر سیکرٹریٹ، بغداد الجدید کیمپس سے ہوا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے اس بات پر زور دیا کہ صحت اور تندرستی ایک صحت منداور مستحکم معاشرے کی تعمیر کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھی صحت کا حصول زندگی کے ابتدائی مراحل ہی سے مناسب غذائیت اور آگاہی کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔ انہوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور یونیسیف پنجاب کے درمیان تعاون کو سراہا اور کہا کہ تعلیمی ادارے صحت، غذائیت اور عوامی اہمیت کے دیگر امور کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یونیورسٹیوں کو نہ صرف تعلیمی معلومات فراہم کرنی چاہئیں بلکہ طلبہ اور کمیونٹیز میں شواہد پر مبنی صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دے کر معاشرے کی فلاح و بہبود میں بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔سیمینار کی صدارت ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر روبینہ بھٹی نے کی۔ جبکہ ویمن ڈیولپمنٹ سینٹر کی ڈائریکٹر/فوکل پرسن ڈاکٹر سرفراز بتول نے مہمانوں اور شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ مقررین میں یونیسیف پاکستان کے پروگرام اسپیشلسٹ نعمان غنی، یونیسیف پنجاب کی نیوٹریشن اسپیشلسٹ ڈاکٹر نجمہ ایوب، اور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی فیکلٹی آف فوڈ سائنسز اینڈ نیوٹریشن کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ریاض شامل تھے۔اس موقع پر ماں کا دودھ پلانے کے عمل پر کثیر الشعبہ جاتی نقطہ نظر کے موضوع پر ایک پینل مباحثہ بھی منعقد کیا گیا۔ پینلسٹس میں ڈاکٹر شیخ سفینہ صدیق سینئر میڈیکل آفیسر/ڈائریکٹر ویمن ہیلتھ کیئر سینٹر اینڈ میٹرنٹی ہوم، عدیلہ قیوم اسسٹنٹ پروفیسر، یونیورسٹی کالج آف نرسنگ، ڈاکٹر مریم افتخار لیکچرر، شعبہ ہیومن نیوٹریشن اینڈ ڈائٹیٹکس اور ڈاکٹر شہباز علی خان انچارج شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن شامل تھے۔سیمینار اور آگاہی واک میں چیئرمینز، یونیورسٹی کے عہدیداران، فیکلٹی ممبران اور طلبہ کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی۔ شعبہ سیاسیات کی لیکچرر ڈاکٹر حرا ریاض نے سیمینار کی میزبانی کی اور پینل مباحثے کا انعقاد کیا۔

نسٹی ٹیوٹ آف ایگرو انڈسٹری اینڈ انوائرمنٹ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اشتراک سے عباسیہ کیمپس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں سیمینار کا انعقاد

انسٹی ٹیوٹ آف ایگرو انڈسٹری اینڈ انوائرمنٹ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اشتراک سے عباسیہ کیمپس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں دریائے ستلج کے سیلاب کے خطرے، سیلابی پانی کے استعمال، غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے کردار کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا۔ مہمان خصوصی وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے اپنے خطاب میں کہا کہ مستقبل میں آب و ہوا اور پانی سے متعلق ہنگامی حالات کے لیے پاکستان کو تیار کرنے کی خاطر یونیورسٹیوں، سرکاری محکموں، آفات سے نمٹنے والے اداروں اور محققین کے درمیان مسلسل تعاون بہت ضروری ہے۔ سیمینار میں وسیم احمد منیجر ٹریننگ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، محمد شجیع الرحمان رجسٹرار،پروفیسر ڈاکٹر غلام حسن عباسی ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ایگرو انڈسٹری اینڈ انوائرمنٹ ، ڈاکٹر غلام گیلانی شعبہ مصنوعی ذہانت ، ڈاکٹر معظم خان درانی شعبہ بشریات، سہیل قاسم اسسٹنٹ منیجر ٹیکنیکل نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ، حسیب اللہ شیخ پنجاب محکمہ آبپاشی سہیل کاظم اور پروفیسر نائک اختر جاوید پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن نے تفصیلی بریفنگ دیں۔ افتتاحی سیشن کی صدارت محمد شجیع الرحمٰن نے کی اور ڈائریکٹر میڈیا اینڈ پبلک ریلیشنز ڈاکٹر شہزاد احمد خالد، فیکلٹی ممبران ، طلباو طالبات بڑی تعداد میں موجود موجود تھے۔مقررین نے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے خاص طور پر دریائے ستلج کے حالیہ سیلابوں کی نشاندہی کی کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی شدید قلت ہے اور اس بات کا ذکر کیا کہ پانی کی قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان کا 14 واں نمبر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ 20 سالوں کے دوران پانی کی قلت مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ پگھلتے ہوئے گلیشیئرز، مون سون کے بدلتے ہوئے انداز، بار بار آنے والے سیلاب اور غذائی پیداوار پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو فوری قومی تشویش کے امور کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ تحقیق، بہتر منصوبہ بندی اور سرکاری اداروں کے مابین باہمی تعاون کے ذریعے عملی حل تلاش کیے جانے چاہئیں

اسلام آباد کے 24 تعلیمی ادارے کل سے بند رکھنے کا فیصلہ

وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر 24 تعلیمی ادارے کل سے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ فہرست میں شامل اداروں کے علاوہ اسلام آباد کے دیگر تمام تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

 ذرائع کے مطابق تعطیلات والے 24 تعلیمی اداروں میں پولیس فورس کو رہائش فراہم کی گئی ہے، جس کے باعث ان اداروں میں تدریسی سرگرمیاں معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بند رہنے والے تعلیمی اداروں میں جی سکس، ایف سکس، ایف سیون اور جی سیون کے متعدد سکول شامل ہیں۔

 اس کے علاوہ ترنول، سنجانی، سہالہ اور راول ڈیم کے مخصوص تعلیمی ادارے بھی کل سے بند رہیں گے۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ویمن ڈویلپمنٹ سینٹر نے یونیسیف  پنجاب کے اشتراک سے زندگی کے پائیدار آغاز کے لیے ماں کا دودھ پلانا – تحفظ، فروغ اور حمایت کے موضوع پر ایک آگاہی سیمینار اور واک کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے بغداد الجدید کیمپس میں واقع جناح آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ویمن ڈویلپمنٹ سینٹر نے یونیسیف  پنجاب کے اشتراک سے زندگی کے پائیدار آغاز کے لیے ماں کا دودھ پلانا – تحفظ، فروغ اور حمایت کے موضوع پر ایک آگاہی سیمینار اور واک کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے بغداد الجدید کیمپس میں واقع جناح آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ویمن ڈویلپمنٹ سینٹر نے یونیسیف  پنجاب کے اشتراک سے زندگی کے پائیدار آغاز کے لیے ماں کا دودھ پلانا – تحفظ، فروغ اور حمایت کے موضوع پر ایک آگاہی سیمینار اور واک کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے بغداد الجدید کیمپس میں واقع جناح آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ویمن ڈویلپمنٹ سینٹر نے یونیسیف  پنجاب کے اشتراک سے زندگی کے پائیدار آغاز کے لیے ماں کا دودھ پلانا – تحفظ، فروغ اور حمایت کے موضوع پر ایک آگاہی سیمینار اور واک کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے بغداد الجدید کیمپس میں واقع جناح آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ویمن ڈویلپمنٹ سینٹر نے یونیسیف  پنجاب کے اشتراک سے زندگی کے پائیدار آغاز کے لیے ماں کا دودھ پلانا – تحفظ، فروغ اور حمایت کے موضوع پر ایک آگاہی سیمینار اور واک کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے بغداد الجدید کیمپس میں واقع جناح آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔

سکالرشپعالمی خبریں

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ویمن ڈویلپمنٹ سینٹر نے یونیسیف  پنجاب کے اشتراک سے زندگی کے پائیدار آغاز کے لیے ماں کا دودھ پلانا – تحفظ، فروغ اور حمایت کے موضوع پر ایک آگاہی سیمینار اور واک کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے بغداد الجدید کیمپس میں واقع جناح آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ویمن ڈویلپمنٹ سینٹر نے یونیسیف  پنجاب کے اشتراک سے زندگی کے پائیدار آغاز کے لیے ماں کا دودھ پلانا – تحفظ، فروغ اور حمایت کے موضوع پر ایک آگاہی سیمینار اور واک کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے بغداد الجدید کیمپس میں واقع جناح آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔اس آگاہی مہم کا مقصد ماں اور بچے کی صحت کے لیے ماں کا دودھ پلانے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ایک ایسا سازگار ماحول فراہم کرنا تھا جو زندگی کے صحت مند اور پائیدار آغاز کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔سیمینار سے قبل، وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے اپنے دفتر میں یونیسیف کے وفد سے ملاقات کی۔ انہوں نے آگاہی واک کی قیادت بھی کی، جس کا آغاز وائس چانسلر سیکرٹریٹ، بغداد الجدید کیمپس سے ہوا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے اس بات پر زور دیا کہ صحت اور تندرستی ایک صحت منداور مستحکم معاشرے کی تعمیر کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھی صحت کا حصول زندگی کے ابتدائی مراحل ہی سے مناسب غذائیت اور آگاہی کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔ انہوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور یونیسیف پنجاب کے درمیان تعاون کو سراہا اور کہا کہ تعلیمی ادارے صحت، غذائیت اور عوامی اہمیت کے دیگر امور کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یونیورسٹیوں کو نہ صرف تعلیمی معلومات فراہم کرنی چاہئیں بلکہ طلبہ اور کمیونٹیز میں شواہد پر مبنی صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دے کر معاشرے کی فلاح و بہبود میں بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔سیمینار کی صدارت ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر روبینہ بھٹی نے کی۔ جبکہ ویمن ڈیولپمنٹ سینٹر کی ڈائریکٹر/فوکل پرسن ڈاکٹر سرفراز بتول نے مہمانوں اور شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ مقررین میں یونیسیف پاکستان کے پروگرام اسپیشلسٹ نعمان غنی، یونیسیف پنجاب کی نیوٹریشن اسپیشلسٹ ڈاکٹر نجمہ ایوب، اور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی فیکلٹی آف فوڈ سائنسز اینڈ نیوٹریشن کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ریاض شامل تھے۔اس موقع پر ماں کا دودھ پلانے کے عمل پر کثیر الشعبہ جاتی نقطہ نظر کے موضوع پر ایک پینل مباحثہ بھی منعقد کیا گیا۔ پینلسٹس میں ڈاکٹر شیخ سفینہ صدیق سینئر میڈیکل آفیسر/ڈائریکٹر ویمن ہیلتھ کیئر سینٹر اینڈ میٹرنٹی ہوم، عدیلہ قیوم اسسٹنٹ پروفیسر، یونیورسٹی کالج آف نرسنگ، ڈاکٹر مریم افتخار لیکچرر، شعبہ ہیومن نیوٹریشن اینڈ ڈائٹیٹکس اور ڈاکٹر شہباز علی خان انچارج شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن شامل تھے۔سیمینار اور آگاہی واک میں چیئرمینز، یونیورسٹی کے عہدیداران، فیکلٹی ممبران اور طلبہ کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی۔ شعبہ سیاسیات کی لیکچرر ڈاکٹر حرا ریاض نے سیمینار کی میزبانی کی اور پینل مباحثے کا انعقاد کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے