Skip to main content

https://ilmiatonline.com

سکالرشپ

بڑھتی عمر کے ساتھ دماغ لازماً زوال کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اپنی ترجیحات اور کارکردگی کو نئے حالات کے مطابق ازسرِنو منظم کر سکتا ہے

نئی سائنسی تحقیق نے دماغی عمر رسیدگی کے بارے میں روایتی تصور کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ دماغ لازماً زوال کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اپنی ترجیحات اور کارکردگی کو نئے حالات کے مطابق ازسرِنو منظم کر سکتا ہے۔ایریزونا یونیورسٹی کے محققین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ انسان کی ایپیسوڈک میموری یعنی مخصوص واقعات، مقامات اور اوقات کی تفصیلات یاد رکھنے کی صلاحیت میں کمی آ سکتی ہے۔ اس کے برعکس سیمینٹک میموری، جس میں عمومی معلومات، تجربات، اصول اور وسیع تر مفاہیم شامل ہیں، زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ روایتی طور پر اس تبدیلی کو دماغی کمزوری کے مقابلے میں ایک ’’تلافیاتی عمل‘‘ سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم ممکن ہے کہ یہ دراصل دماغ کی موافقتی تنظیمِ نو ہو۔ یعنی عمر رسیدہ دماغ اپنی توانائی اور وسائل کو ان صلاحیتوں کے لیے زیادہ استعمال کرتا ہے جو زندگی کے اس مرحلے میں زیادہ اہم ہوتی ہیں۔تحقیق کے مطابق ہپوکیمپس دماغ کے ان حصوں میں شامل ہے جو نئی اور مخصوص یادداشتوں کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں اور توانائی کی زیادہ ضرورت رکھتے ہیں۔ عمر کے ساتھ دماغ کا فرنٹل کورٹیکس عمومی معلومات، تجربات اور وسیع تر معنوی یادداشت کے استعمال میں زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔

محققین نے جانوروں کے رویوں سے متعلق سابقہ مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض طویل العمر اور پیچیدہ سماجی نظام رکھنے والی انواع میں بھی عمر بڑھنے کے ساتھ تجربے اور سماجی معلومات پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔ افریقی مادہ ہاتھیوں میں عمر رسیدہ جانور سماجی معلومات کے اہم ذخیرے کے طور پر کردار ادا کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ نقطۂ نظر الزائمر سمیت عمر سے متعلق دماغی بیماریوں کو سمجھنے میں بھی مدد دے سکتا ہے، کیونکہ اس سے قدرتی عمر رسیدگی اور بیماری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے درمیان فرق زیادہ واضح کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ مطالعہ کوئی نیا تجرباتی ثبوت پیش نہیں کرتا بلکہ موجودہ سائنسی شواہد کی نئی تشریح پر مبنی ہے۔ اگلے مرحلے میں حقیقی افراد کے دماغ میں وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لے کر اس ’’Adaptive Aging‘‘ مفروضے کی مزید جانچ کی جائے گی۔ماہر نفسیات فابیان زوزے فرنانڈیز کے مطابق اگر معمول کی عمر رسیدگی کو صرف زوال کی کہانی سمجھا جائے تو دماغ کی اصل صلاحیت کا ایک اہم پہلو نظرانداز ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق عمر رسیدہ دماغ نوجوان دماغ کے مقابلے میں مختلف مقاصد، خصوصاً جمع شدہ تجربے، مہارت اور سماجی تعلقات کو آگے منتقل کرنے کے لیے زیادہ موزوں ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے