The Department of Small Animal Clinical Sciences of the University of
Veterinary and Animal Sciences Lahore arranged two-day workshop on ‘Anaesthesia in Pet
Animal Practice’ at UVAS Veterinary Academy.
Vice-Chancellor Prof Dr Nasim Ahmad presided over the inaugural session of the workshop and
Dean Faculty of Life Sciences Business Management Prof Dr Muhammad Azam chaired the
concluding ceremony and presented shields among the resource persons, organizers and
distributed certificates to the participants while Prof Dr Asim Khalid Mehmood, Dr Uzma Fareed
Durrani, Dr Zia ullah Mughal and a number of participants/clinicians, vet professionals and
postgraduate students were present.
During two day workshop experts delivered their lectures on the topic of physiological aspects of
anaesthesia, pre anaesthesia assessment of patients, gas anaesthesia, birds and rabbit anaesthesia,
anaesthesia emergencies, hands on training on local anaesthesia techniques, hands-on training on
injectable and gas anaesthesia, general monitoring of hands-on training of gas anaesthesia and
emergency management and general hands-on training of gas anaesthesia in birds and rabbit, etc.
The aim of the workshop was to impart practical knowledge regarding latest anaesthesia
techniques in the field of veterinary anaesthesia to the small animal practitioner.
Uncategorized
پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے الیکشنز 27 فروری 2024 کو منعقد ہونے کا اعلان حتمی ہے
پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے الیکشنز 27 فروری 2024 کو منعقد ہونے کا اعلان حتمی ہے ۔اس سلسلہ میں درخواست ہے کہ سو روپیہ فی فرد ووٹر رجسٹریشن فیس الیکشن کمیشن کے مشترکہ اکاؤنٹ
PK13BKIP.0201139320010001
THE PEASANT
میں بیس دسمبر 2023 تک جمع کرا دیں تاکہ اکیس تاریخ کو الیکشن کمیشن کی میٹنگ میں بر وقت الیکشن شیڈول دیا جا سکے۔
پپلا أئین کے تحت تمام أئینی و قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے مشترکہ الیکشن کمیشن موجود ہے جبکہ الیکشن سے خوفزدہ چند لوگوں نے راہ فرار اختیار کرنے کیلئے ایک غیر سنجیدہ شخصیت کے ذریعے کالج کمیونٹی سے بھونڈا مزاق کیا ہے جس کی اتحاد اساتذہ اور تحریک اساتذہ شدید مذمت کرتے ہیں اور کمیونٹی کو یقین دلاتے ہیں کہ پپلا الیکشنز بر وقت ہوں گے ۔ غیر جانبداری اور ازادانہ الیکشن کے تمام تقاضے پورے کیۓ جائیں گے۔انشااللہ ۔
منجانب
پروفیسر غلام مصطفےٰ
چئیرمین پپلا الیکشن کمیشن 23/24
پروفیسر ڈاکٹر افضل عابد
سیکریٹری پپلا الیکشن کمیشن 23/24
All reactions:
1616
فلسطینیوں کے قتل عام میں اسرائیل و بھارت کا گٹھجوڑ ہے…….اقوام متحدہ جنگیں رکوانے کے لیے طاقت نہیں رکھتا،امریکا کا جنگ بندی کی قرار داد ویٹو کرنا باعث تشویش ہے…… گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن کا ہوم اکنامکس یونیورسٹی میں خطاب

فلسطین میں امن کے موضوع پر یونیورسٹی آف
ہوم اکنامکس میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب انجینئر
محمد بلیغ الرحمن نے کہا ہے کہ اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں 18 ہزار
فلسطینی شہید ہوچکے، جس میں 7 ہزار بچے بھی شامل ہیں جبکہ 50 ہزار فلسطینی
زخمی ہیں۔ اپنے خطاب میں گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ بھارت معاشی فوائد
کے لیے فلسطین جنگ میں اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کر چکا ہے، فلسطین میں گریٹ
ہیومن ٹریجیڈی پر ہمیں باربار آواز اٹھانی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اہل
یورپ بظاہر انسانی حقوق کے علمبردار ہیں، فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد کے
راستے روک کر ان کی زندگیوں کو تنگ کر دیا گیا ہے۔ گورنر پنجاب کا کہنا تھا
کہ اسلحہ سے بھرے جہاز میں برطانوی وزیر اعظم کی جانب سے اسلحہ حوالے کرنے
کا اقدام قابل مذمت ہے، فلسطینی خواتین اور بچوں کو بمباری کا نشانہ بنایا
جارہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ گلوبل کیمونٹی کی جانب سے اسرائیلی جارحیت
و بربریت کے خلاف مظاہرے کیے جارہے ہیں، امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی
قرار داد کو ویٹو کر دیا گیا ہے اقوام متحدہ براہ راست جنگیں رکوانے کی
طاقت نہیں رکھتا۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیریوں اور فلسطینیوں کے
ساتھ کھڑا ہے، پاکستان سے فلسطینیوں کے لیے بھاری امداد فراہم کی جارہی ہے۔
انھوں نے پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کو مذمت کی اور سیکیورٹی
فورسز کی قربانیوں کو وطن کے دفاع کے لیے عظیم قرار دیا۔ گورنر پنجاب نے
طالبات پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے درخشاں مستقبل ہیں اور انھیں یونیورسٹی
آف ہوم اکنامکس جیسے عظیم و تاریخی درس گاہ میں زیر تعلیم ہونے پر فخر
ہونا چاہیے۔ گورنر پنجاب نے یونیورسٹی میں بہتری کے لیے وائس چانسلر کے
اقدامات کی تعریف کی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر
فلیحہ زہرا کاظمی نے کہا کہ فلسطین مقدس جگہ ہے اور دُنیا کے تینوں بڑے
مذاہب کے لیے اسے مقدس جگہ کی حیثیت حاصل ہے لیکن اس مقدس سرزمین پر صرف
مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان
فلسطینیوں کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں اور بین الاقوامی سطح پر ان کے لیے
موثر طریقے سے آواز بلند کریں۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فلسطین کی
حمایت سے متعلق پالیسی بالکل واضح ہے اور ہم اسرائیل کی جارحیت کی بین
الاقوامی فورم پر بھی مذمت کرتے ہیں۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینیئر
صحافی سلمان غنی کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال نے فلسطین کے لیے آواز
اُٹھائی، وہ گول میز کانفرنس چھوڑ کر یروشلم گئے اور وہاں فلسطینیوں کے حق
میں بات کی۔اُن کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر کے ساتھ فلسطینیوں کی جدوجہد
آزادی میں ایک نئی روح پیدا ہوگئی ہے، امریکا انسانی، شخصی اور شہری حقوق
کا دعویدار ہے لیکن امریکی صدر جوزف بائیڈن حماس کو انجام تک پہنچانے کے
بیانات جاری کر رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ فلسطین انسانی مسئلہ بن کر
اُبھرا ہے، پاکستان اسرائیل کو دھمکی دے تو
شام تک جنگ بندی ہوسکتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان معاشی طور پر خود
مختار ہوگا تو کشمیر آزاد ہوگا۔
—
سعودی عرب میں ووکیشنل اور ٹیکنیکل ٹریننگ کے قومی ادارے نے 9 ماہ کے دوران 80 ہزار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کئے ، ترجمان

سعودی عرب میں ووکیشنل اور ٹیکنیکل ٹریننگ کے قومی ادارے نے رواں سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران 80 ہزار سے زیادہ سعودی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کئے ہیں۔
اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق ادارے کے ترجمان فہد العتیبی نے بتایا کہ ایک مربوط پروگرام کے تحت نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے کام کیا جارہا ہے ۔ادارہ ٹریننگ ڈپلومہ کرنے والے سعودی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کےلیے منصوبہ بندی سے کام کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کالجز اور انسٹی ٹیوٹس کے درمیان تعاون سے ایسے کورس کرائے جاتے ہیں جن میں مہارت رکھنے والوں کی لیبر مارکیٹ میں ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ان کے ادارے نے ووکیشنل اور ٹیکنیکل ٹریننگ لینے والے طلبہ کو روزگارکی فراہمی کےلیے پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں کے ساتھ مفاہمت کی ایک سو یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں ۔علاوہ ازیں مملکت کے مختلف علاقوں میں 337 روزگار پروگرامز پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں تیسری بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ”بدلتی ہوئی آب و ہوا میں خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے زراعت میں اختراعات”

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں تیسری بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ”بدلتی ہوئی آب و ہوا میں خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے زراعت میں اختراعات” اور ”زراعت پر موسمیاتی تبدیلی کے خطرات” کے منعقد ہوئی۔ انٹرنیشنل سینٹر فار کلائمیٹ چینج بیجنگ چین اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے زیر اہتمام اس کانفرنس میں کینڈا اور چین کے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں نے شرکت کی تاکہ خوراک، ایندھن اور مالیاتی بحرانوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جا سکے اور ترقی پذیر دنیا میں غربت اور غذائی عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے خطرات کو کم کیا جا سکے۔ گزشتہ نصف دہائی میں بین الاقوامی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے خوراک کا حصول بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہو گیا ہے اور ماہرین کی روجہ خوراک کی عالمی پیداوار کے نظام میں خامیوں اور پیچیدگیوں کی جانب توجہ مبذول ہوئی ہے۔ میموریل یونیورسٹی کینیڈا کے مندوبین میں پروفیسر ڈاکٹر ایان سدرلیینڈ، پروفیسر ڈاکٹر ممتاز اختر چیمہ، ڈاکٹر سونجا نٹسن، ڈاکٹر کمبرلی جاروی، ڈاکٹر شوکت علی، سنٹر فار گلوبل چائلڈ ہیلتھ، سِک کڈز ہسپتال، ٹورنٹو یونیورسٹی، کینیڈا، ڈاکٹر عالمگیر یونیورسٹی آف گلف، کینیڈا اور پروفیسر ڈاکٹر زاؤہوئی لن، ڈائریکٹر، آئی سی سی ای ایس، بیجنگ، چین نے خصوصی مقالے پیش کئے۔ افتتاحی سیشن کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر نوید اختر، وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول نے کی۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر تنویر حسین ترابی ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر اینڈ انوائرمنٹ، پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم سرپرست کلائمیٹ چینج کنسورشیم و ڈین فیکلٹی آف کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز، پروفیسر ڈاکٹر محمد عون ثمر رضا، چیئرمین ایگرانومی نے خطاب کیے۔ پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم نے اپنے تعارفی کلمات میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے تدریسی و تحقیقی شعبہ جات، غیر سرکاری تنظیموں، نجی شعبے، سرکاری محکموں اور صنعتی شراکت داروں کے درمیان کنسورشیم آن کلائمیٹ کی شکل میں ایسوسی ایشن کا نیٹ ورک بنانے کے لیے اپنی نوعیت کے منفرد اقدام کو بیان کیا۔ تبدیلی، پائیداری اور تحفظ کانفرنس کے پرسن پروفیسر ڈاکٹر واجد نسیم جتوئی، ڈائریکٹرآئی سی سی ایف ایس نے تمام بین الاقوامی مندوبین کو اس تقریب کے لیے اپنا وقت نکالنے پر سراہا۔ ان مندوبین نے کئی مشترکہ منصوبے شروع کرنے کے لیے کینیڈا سے پاکستان تک کا سفر کیا۔ اختتامی کلمات میں پروفیسر ڈاکٹر تنویر حسین ترابی ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر اینڈ انوائرنمنٹ نے بھی میموریل یونیورسٹی، کینیڈا اور سِک کڈز ہسپتال، ٹورنٹو یونیورسٹی، کینیڈا کے بین الاقوامی مندوبین کے تعاون اور آمد کو سراہا۔
پنجاب یونیورسٹی نے فائزہ شمس دختر شمس الحق کومالیکیولر بائیولوجی،تنزیلہ رحمان دختر عبدالرحمان کوبائیولوجیکل سائنسز (مالیکیولر بائیولوجی)، منیبہ عابد منیر ملک دختر عابد منیر ملک کوایگریکلچرل سائنسز(پلانٹ پیتھالوجی)،اسرار الحق ولد محمد افضل کوعربی،عائشہ سبین دخترشاہد جاوید کواسلامک سٹڈیز،حافظہ سدرہ ذوالفقار دخترذوالفقار علی کوعربی،عائشہ ظفر دختر ظفر اللہ شفیق احمد کوزوالوجی،محمد عالم ولد محمد بشیر کوسوشل ورک،اسریٰ غوث دخترغلام غوث کوزوالوجی اورصالحہ بشیر دختر بشیر احمد کومالیکیولر بائیولوجی کے مضمون میں،پی ایچ ڈی مقالہ جات کی تکمیل کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگریاں جاری کر دیں۔
پنجاب یونیورسٹی پاکستان سٹڈی سنٹر کے زیر اہتمام انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے تقریب کاانعقاد

:پنجاب یونیورسٹی پاکستان سٹڈی سنٹر کے زیر اہتمام انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے ’انیسویں صدی میں سکھ راج کے تحت مسلمان: مہاراجہ رنجیت سنگھ اور مذہبی رواداری‘ پر چیئرپرسن شعبہ پاکستان سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ڈاکٹر روبینہ یاسمین کی کتاب پر خصوصی گفتگو کا پروگرام منعقد ہوا۔ تقریب میں معروف تاریخ دان،سابق ڈائریکٹرپاکستان سٹڈی سنٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چاولہ، ڈائریکٹر سنٹر پروفیسر ڈاکٹر نعمانہ کرن، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر امجد عباس مگسی، فیکلٹی ممبران اور مختلف شعبہ جات کے طلباؤطالبات نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر نعمانہ کرن نے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے موضوع کی اہمیت اور کتاب کے مندرجات پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر اقبال چاولہ نے کتاب کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل بات چیت کی۔ ڈاکٹر روبینہ یاسمین نے سکھ راج بارے میں غلط فہمیوں پرروشنی ڈالتی۔ انہوں نے خاص طور پر مہاراجہ رنجیت سنگھ کی طرف سے اختیار کی گئی مختلف پالیسیوں اور مسلمانوں پر ان کے اثرات کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ اہم نکتہ یہ ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے مسلمانوں سمیت تمام برادریوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہر مذہب اور برادری کے لیے رہنما ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی نے دس سکالرز کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاں جاری کر دی
The launching ceremony of Provincial of Non-Formal Education Management Information System

The launching ceremony of Provincial of Non-Formal Education Management Information System Scorecard (Punjab), was organized in collaboration with the Pakistan Institute of Education, JICA, and Punjab Higher Education Commission Punjab in the Auditorium of Punjab Higher Education Commission, Arfa Software Technology Park, Lahore. The distinguished Chief Guest for the occasion was Rana Tanveer Hussain, the Federal Minister for Higher Education and Professional Training. Joining him were esteemed individuals including Dr. Shahid Munir, Chairperson of Punjab HEC, Chi Ho Ohashi, Chief Advisor from JICA, Dr. Shazra Mansab Ali Khan Kharal, Chairperson of the Board of National Education Foundation, Dr. Shahid Saroya, Director General of Pakistan Institute of Education, Dr. Khurram Shahzad and other prominent educationalists.
Federal Minister Rana Tanveer Hussain while addressing the ceremony said that 23 million children not going to schools for all of us Alarming Situation۔Federal Education Minister Rana Tanveer Hussaishould not only collect numbers but also do practical work and show them as role models in front of the provinces. We have to remove the deprivations of the provinces. Pakistan Institute for Education has to play an active role. In the past, provinces had reservations about the single curriculum, we have changed it to the National Curriculum. He said that the quality of education depends on qualified teachers. A world-class teachers’ training center is being built in Islamabad. Educational institutions should develop skills in the youth, degrees alone are not enough, and people with PhDs are unemployed due to a lack of skills. Today there is a demand for talent in the world. Rana Tanveer Hussain clarified that the budget of public sector universities is being made conditional on performance. Chairperson PHEC Dr. Shahid Munir while addressing the event said that it is our commitment to promote access to quality education in Punjab. In rural areas, this rate is 23 percent. Access to education in our country is only 12 to 13 percent. The target of PHEC is to take it to 30 percent by 2025. For this work, there is an urgent need for mutual cooperation among all stakeholders. He said that the Non-Formal Education Management Information System (NFEMIS) is an important tool to address the current challenges in the field of education management. It is an important step in our collective efforts to enhance the quality and accessibility of education in Punjab. Scorecard is a great effort that will help us to improve the condition of education in the province. Dr. Shahid Sprpya, Director General of Pakistan Institute of Education presented the performance of his institution and said that due to our efforts, more than 24,000 children have entered the schools in a few months and next year this number will be increased to 50,000. Chief Advisor Jika Chi Ho Ohashi and Dr. Khurram Shahzad also addressed the ceremony.
جامعہ اسلامیہ خود کفالت کی منزل حاصل کر چکی ہے۔ ………اس وقت یونیورسٹی اپنے 90فیصد اخراجات اپنے وسائل اور ذرائع سے پورے کر رہی ہے۔

انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نےکہا ہےجامعہ اسلامیہ خود کفالت کی منزل حاصل کر چکی ہے۔ اس وقت یونیورسٹی اپنے 90فیصد اخراجات اپنے وسائل اور ذرائع سے پورے کر رہی ہے۔ وائس چانسلر نے ان خیالات کا اظہار ریڈیو پاکستان کے کنٹرولر نیوز پنجاب سجاد پرویزسے حالات حاضرہ کے پروگرام لاہور انسائٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ موسم خزاں کی داخلہ مہم کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں طلباء وطالبات کی تعداد 75ہزار ہو جائے گی یہ یونیورسٹی اب پاکستان کی طلباء کے لحاظ سے سب سے بڑی یونیورسٹی بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ کے ثمرات سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے تمام ملازمین اور اساتذہ بھی مستفید ہوں گے ۔ یونیورسٹی میں بجٹ کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔ بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے لئے رقم مختص کر لی گئی ہے۔ 1سے 16گریڈ تک کے ملازمین کوتنخواہوں میں 35فیصد اور 17سے اوپر گریڈز میں 30فیصد اضافہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا بجٹ معیار تعلیم ، بہترین ریسرچ اور ملازمین اور طلباء وطالبات کی فلاح وبہبود پر مرکوز ہو گا۔ وائس چانسلر نے وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان ایجوکیشن اینڈاؤمنٹ فنڈ (پیف) کے اجراء کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اپنے وزارت اعلیٰ کے دور میں پیف کا اجرا ء کیا تھا اب یہ ویلفیئر سکیم وفاقی سطح پر بھی شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جامعات کے طلباء وطالبات بھی اس سکیم سے مستفید ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نئے کیمپسز بھی قائم کر رہی ہے جس میں خان پور کیمپس اور گورنر پنجاب کی ہدایت پر حاصل پور کیمپس کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ وائس چانسلر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان اور دنیا کی بہترین جامعات کی طرز پر سمر سمسٹر کا آغاز کیا گیا ہے۔ سمر سمسٹر یونیورسٹی ایکٹ ، اکیڈمک و دیگر قواعد وضوابط کے مطابق ہے۔ اس سے یونیورسٹی میں افرادی قوت اور وسائل کا بہترین استعمال ممکن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سمر سمسٹر کلاسز ائیر کنڈیشنڈ ہوں گی تاکہ اساتذہ اور طلباء وطلبات موسمی سختیوں سے محفوظ رہ سکیں ۔ سمر سمسٹر مکمل طور پر تدریسی سرگرمیوں پر مبنی ہوگا تاکہ طلباء وطالبات یکسو ہو کر تعلیم جاری رکھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ اب تک طلباء وطالبات کا سمر سمسٹر کے لئے رجحان بہت زبردست ہے اور یہ سمسٹر اعلی معیار تعلیم اور تدریسی روایات میں بہترین باب کا اضافہ ثابت ہوگا۔
’خوراک میں عدم توازن‘ کے موضوع پر پہلی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب …….. پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج ادارہ زبان و ادبیات اردو مسندٍ جمیل جالبی کے زیرٍ اہتمام دو روزہ’ڈاکٹر جمیل جالبی‘ کانفرنس کا انعقاد

پنجاب یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ سائیکالوجی کے زیر اہتمام پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیونگ اینڈ لرننگ اور لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے اشتراک سے’خوراک میں عدم توازن‘ کے موضوع پر پہلی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائیکالوجی پروفیسر ڈاکٹر رافعہ رفیق، پروفیسر آف سائیکاٹری یونیورسٹی آف لیورپول پروفیسر ڈاکٹر نصرت حسین، چیئرپرسن ڈیپارٹمنٹ آف اپلائیڈ سائیکالوجی لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر آمنہ معظم، پاکستان میں فارمیسی پریکٹس کی پروفیسر ڈاکٹر مدیحہ ملک، قومی و بین الاقوامی شہرت یافتہ پیشہ ور افراد، مقامی یونیورسٹیوں / اداروں سے فیکلٹی ممبران، محققین اور طلباؤطالبات نے بڑی تعدادمیں شرکت کی۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مقررین نے ذہنی صحت کے شعبے،خوراک میں عدم توازن اور مجموعی طور پر تندرستی کے درمیان گہرے تعلق پر سیر حاصل بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ سال2019ء میں غیرمتوازن خوراک کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ بیماریوں کا شکار ہوئے۔ڈاکٹر رافعہ رفیق نے کہا کہ مناسب خوراک نہ ملنے سے نفسیاتی مسائل سمیت دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے کم اور زیادہ کھانے کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ صحت مند معاشرے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کانفرنس میں شرکت پر محققین و ماہرین کا شکریہ اداکرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کانفرنس سے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ کانفرنس آج بھی جاری رہے گی۔

پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام ڈاکٹر جمیل جالبی کانفرنس اختتام پذیر
لاہور(یکم جون،جمعرات): پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج ادارہ زبان و ادبیات اردو مسندٍ جمیل جالبی کے زیرٍ اہتمام دو روزہ’ڈاکٹر جمیل جالبی‘ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر، سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر،ممتاز صحافی مجیب الرحمٰن شامی، ڈین فیکلٹی آف اورینٹل لرننگ پروفیسر ڈاکٹرغلام معین الدین نظامی، ڈائریکٹر ادارہ زبان و ادبیات اردو پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران،فرزند ڈاکٹر جمیل جالبی وفاقی محتسب انشورنس پاکستان ڈاکٹر خاور جمیل، صدر نشین مسند جمیل جالبی پروفیسر ڈاکٹر ضیا الحسن، فیکلٹی ممبران اور طلباؤ طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس میں گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے ڈاکٹر جمیل جالبی کے افکار کے فروغ کو اہم عصری تقاضا قرار دیا۔ ڈاکٹر شاہد منیر نے کہا کہ زندہ قومیں اپنے اسلاف کے کارناموں سے روشنی حاصل کرتی ہیں۔کامیاب کانفرنس ک انعقاد پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمودنے منتظمین کو مبارک باد پیش کی۔ڈاکٹر خاور جمیل نے ایم فل اردو میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے سکالرکیلئے ڈاکٹر جمیل جالبی گولڈ میڈل کا اعلان کیا۔دو روزہ کانفرنس میں پروفیسر خواجہ محمد زکریا،ڈاکٹر تبسم کاشمیری،پروفیسر ڈاکٹر ناصر عباس نیر،ڈاکٹرامجد طفیل،ڈاکٹر شاہد نواز اور ڈاکٹر اصغر ندیم سید،پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید، پروفیسر ڈاکٹرخالد محمود سنجرانی،ڈاکٹر ساجد جاوید،ڈاکٹر محمد سعید، ڈاکٹر رفاقت علی شاہد، پروفیسر ڈاکٹرمحمد ارشد اویسی،ڈاکٹر ساجد صدیق نظامی،پروفیسر ڈاکٹر نجیب جمال،رفیع الدین ہاشمی،خالد محمود خان،ڈاکٹر خالد اقبال یاسر،پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین،ڈاکٹر لیاقت علی، ڈاکٹر فاخرہ نورین، ڈاکٹرمحمد نعیم،ڈاکٹر ظہیر عباس، عبدالباسط اورپروفیسر ڈاکٹر ضیا الحسن نے ڈاکٹر جمیل جالبی کی ادبی تنقید، ادبی تاریخ نویسی، تحقیق و تدوین اور ترجمہ نگاری پر مقالہ جات پیش کئے۔