
پرنسپل گورنمنٹ سلمانی ہائی اسکول سمن آبادملک محمد یعقوب کی ریٹائرمنٹ کی تقریب سےعمر عبداللہ ,پروفیسر ملک محمد شریف ،ملک محمد یعقوب ،پروفیسر ڈاکٹر رفاقت علی اکبر خطاب کر رہےہیں

:وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا ہے کہ ہمیں کشمیرکی آزادی کیلئے علم اور ٹیکنالوجی کے محاذ پر خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی شعبہ امور طلبہ کے زیر اہتمام کشمیری طلباء کے اشتراک سے یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے الرازی ہال میں خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر شعبہ امور طلبہ ڈاکٹر محمد علی کلاسرا،چیئرمین شعبہ تاریخ و مطالعہ پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین، پرنسپل کالج آف فارمیسی پروفیسر ڈاکٹرسید عاطف رضا، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار اصغر اقبال سمیت پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم مقبوضہ کشمیر اور آزاد جموں و کشمیر کے طلباؤطالبات نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ کشمیریوں کی قربانیاں لازوال ہیں جن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے سیمینارزاور ریلیوں کا انعقاد خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ اپنی فلموں کے ذریعے نہتے کشمیریوں کے بارے میں منفی پیغام دیا جس کا مقابلہ کرنے کیلئے طلباء کو فلم میکنگ، سکرپٹ رائٹنگ کا ہنر سیکھناچاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نظریات، خیالات، رہن سہن کے طریقے، لین دین کے معاملات ہمیں کافروں سے جدا کرتے ہیں لیکن اس فرق کو مٹانے کے لئے کئی قوتیں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر، ایودھیا اور دہلی سمیت مسلمانوں پرمودی حکومت کے جبر نے ہندوستان کا چھپا ہوا چہرا دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت میں اقلیتوں پر مظالم دو قومی نظریے کی حقیقت کو ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سید علی گیلانی، افضل گرو اور برہان وانی کی طرح اپنے اندر آزادی کی تڑپ کو زندہ رکھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آزاد ریاست ہر قوم کا حق ہے جس کیلئے اقوام متحدہ کو مثبت کردارنبھانا چاہیے۔پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین نے مسئلہ کشمیر کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی تقسیم کے وقت دو ریاستیں ہندوستان کو سازش کے تحت دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر انسانی حقوق کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ڈاکٹر سردار اصغر اقبال نے کہا کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کشمیرکبھی سپر پاور تھا جو غلط فیصلوں اور سازشی پالیسیوں کی بدولت آج ظلم، جبر اور استحصال کا شکار ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سید عاطف رضا نے کہا کہ پاکستانی قوم اخلاقی، قانونی، سیاسی و سفارتی محاذپر کشمیری عوام کے ساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ قوموں کو آزادی صرف تاریخ پڑھنے سے نہیں بلکہ سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی سے ملتی ہے۔ ڈاکٹر محمد علی کلاسرا نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی ہر سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ اس موقع پر طلباء کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر مبنی ڈاکیومنٹریز، ٹیبلوز پیش کئے گئے۔ قبل ازیں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود کی قیادت میں ’یوم یکجہتی کشمیر‘ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں شریک طلباؤطالبات نے کشمیری لباس زیب تن کررکھے تھے اور آزادی کے نعروں پر مبنی پلے کارڈزاور بینرز تھامے ہوئے تھے۔ شرکاء نے ’گو مودی گو‘اور ’گو انڈیا گو‘ کے فلگ شگاف نعرے بھی لگائے۔

:یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے پنجاب یونیورسٹی پاکستان سٹڈی سنٹر کے زیر اہتمام ’کشمیر: ماضی اور حال‘ کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیاگیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر پاکستان سٹڈی سنٹر پروفیسر ڈاکٹر نعمانہ کرن، ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ کشمیریات ڈاکٹر سردار اصغر اقبال، فیکلٹی ممبران اور طلباء و طالبات نے شرکت کی۔ اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر سردار اصغر اقبال نے مسئلہ کشمیرپر روشنی ڈالتے ہوئے،پاکستانی نقطہ نظر سے کے مطابق، کشمیر پرپاکستان کی پالیسی کا تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے اپنے دلائل کی بنیاد تاریخ پر دی اور اپنے موقف کی تائید کے لیے مستند کتابوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے ماضی کو حال سے جوڑکر موجودہ مسائل کے بارے میں تفصیلی بات کی۔ ڈاکٹر نعمانہ کرن نے کہا کہ ڈاکٹر اصغر کا خطاب ایک مثبت سمت کی جانب حل پر مبنی اورپر امید تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب نے مسئلہ کشمیر کی پیچیدگیوں کو جاننے اور اس کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا موقع فراہم کیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی اور امن کے حصول کا ایک پلیٹ فارم بھی ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بات چیت پر زور دیا۔
………2…….

پنجاب یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل سٹڈیز کی نیوٹریشن اینڈ ویل بینگ سوسائٹی نے ورک پلیس ہیلتھ اینڈ سیفٹی پرموشن کمیونٹی کے تعاون سے 2023 کی سالانہ رپورٹ اور 2024 کا کیلنڈر ڈائریکٹر شعبہ امور طلباء ڈاکٹر محمد علی کلاسراکو پیش کر دیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل سٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر روبینہ ذاکر، ڈاکٹر نعمان، نیوٹریشن اینڈ ویل بیئنگ سوسائٹی کے ممبران اور طلباء و طالبات بھی موجود تھے۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر کلاسرا نے طلباء کی پریزنٹیشن اور معلوماتی اور صحت پر مبنی سرگرمیوں کے انعقاد پر طلباء، فیکلٹی اورانسٹیٹیوٹ کی کاوشوں کو سراہا۔ ڈاکٹر روبینہ ذاکرنے طلباء کی محنت کو سراہتے ہوئے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر نعمان علی نے مہمانوں کو خوش آمدیدکہا اور طلباء کی سرگرمیوں کا مختصر جائزہ پیش کیا۔ بعد ازاں ورک پلیس ہیلتھ اینڈ سیفٹی پرموشن کمیونٹی کے طلباء نے گزشتہ سال کی سرگرمیوں کے خلاصے کے ساتھ اپنے اہداف، مشن اور ویژن کا خاکہ پیش کیا۔

:پنجاب یونیورسٹی سینٹر فار اپلائیڈ مالیکیولر بیالوجی (کیمب) اور سینٹر آف ایکسی لینس ان مالیکیولر بیالوجی (کیمب) کے زیر اہتمام سیکوینسنگ ڈی این اے(DNA Sequencing) پر پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود، جناح برن اینڈ ری کنسٹرکٹیو سرجری کے بانی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر معظم نصیر تارڑ، ڈائریکٹر سی اے ایم بی پروفیسر ڈاکٹر ریحان صادق، ڈائریکٹر سی ای ایم بی پروفیسر ڈاکٹرمعاذ الرحمان، فیکلٹی ممبران اور ملک بھر کے مختلف اداروں سے ماہرین نے شرکت کی۔اس ورکشاپ سے شرکاء کوڈی این اے کی ترتیب کی جدید تکنیک میں عملی مہارتوں کو فروغ ملے گا اور تحقیق میں اس کی ایپلی کیشنز کے بارے میں ان کی سمجھ کو وسعت دے گاجس سے انسانیت کو فائدہ پہنچانے کے حتمی ہدف کے ساتھ ایسے رابطوں کو بھی فروغ ملے گا جولائف سائنسز ریسرچ کے مستقبل کی تشکیل کرسکیں۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے مالیکیولربائیولوجی کی ترقی کے لیے سینٹر فار اپلائیڈ مالیکیولر بائیولوجی اورسنٹر آف ایکسی لینس ان مالیکیولر بائیولوجی کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے شعبہ کو مزید مضبوط بنانے اور یونیورسٹی کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے دونوں سنٹرزکی خدمات کا اعتراف کیا۔پروفیسر ڈاکٹر معظم تارڑ نے تربیتی ورکشاپ کی اہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ یہ تربیت شرکاء کو ڈی این اے کی ترتیب کے شعبے میں عملی تجربہ حاصل کرنے اور مختلف تحقیقی شعبوں میں اس کے استعمال کو سمجھنے کا ایک منفرد موقع فراہم کرے گی۔ ڈی این اے کیمب سیکوینسنگ سہولت کے انچارج اور ورکشاپ کے پیٹرن ان چیف ڈاکٹر فاروق صابر نے پاکستان کے مختلف شہروں میں شرکاء کی جانب سے موصول ہونے والے ردعمل کے بارے معلومات شیئر کیں۔ انہوں نے انتخاب کے عمل کا ایک مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ورکشاپ کے لئے 30 افراد کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔پروفیسر ڈاکٹر ریحان صادق نے شرکاء کو خوش آمدید کہا جبکہ پروفیسر ڈاکٹر معاذالرحمان نے شرکاء اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسرڈاکٹر شاہد منیر نے کہا ہے کہ جامعات کو فنڈنگ کے متبادل ذرائع پیدا کرنے کے لئے اپلائیڈ ریسرچ اور انڈسٹریز کے ساتھ روابط کو فروغ دینا ہوگا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف میٹلرجی اینڈ میٹریلز انجینئرنگ اور آفس آف ریسرچ انوویشن اینڈ کمرشلائیزیشن (اورک) کے زیر اہتمام ’فرنٹئیرز آف انجینئرنگ میٹیریلز‘پر سمپوزیم سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود، ڈین فیکلٹی آف کیمیکل اینڈ میٹیریلزانجینئرنگ پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ خان درانی، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف میٹلرجی اینڈ میٹیریلز انجینئرنگ ڈاکٹر محسن علی رضا،ڈائریکٹر اورک پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عقیل انعام، فیکلٹی ممبران، محققین، مختلف صنعتوں سے ماہرین، انجینئرز اور طلباؤطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے کہا کہ میٹیریلزاور میٹلرجی ایسے شعبے ہیں جن کے تحقیقی کام پر آئندہ 50برس تک بھی زوال نہیں آئے گا۔انہوں نے کہاکہ اسی طرح حیرت انگیز مصنوعات تیار کرنے کیلئے نئے مواد کی دریافت تحقیق کا مرکز رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ رائل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے ایک نینو پیپر تیار کیا ہے جوفولاد سے زیادہ مضبوط ہے اور اسے گولی بھی نہیں توڑ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی ڈیفنس یونیورسٹی نے ٹائروں میں ہوا کی جگہ تھرمو پلاسٹک گم لگا کر پنکچرکے امکانات کو کم کیا ہے۔ ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں ریسرچ کلچر اور انڈسٹری سے روابط کو فروغ دینے کے لئے اورک کو دوبارہ فعال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کیمیکل اور میٹرلرجی کے شعبہ جات نے نامور انجینئرز پیدا کئے ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کو لوہا منوارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمپوزیم میں انڈسٹریزکے ماہرین اور انجینئرز کے تجربات سے طلباء وکو فائدہ اٹھانا چاہیے۔پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ خان درانی نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں میٹریلز سے متعلق ہر طرح کی سہولیات ہیں جس سے انڈسٹری والے استفادہ کر سکتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محسن علی رضا نے کہا کہ ہمارے ساتھ انڈسڑیاں مل کر کام کریں تو ہم مسائل کا حل دے سکتے ہیں۔ انہوں نے امیدظاہر کی کہ سمپوزیم سے اکیڈیما اور انڈسٹری کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔ پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد نے کہا کہ سمپوزیم میں میٹلو گرافک اور پوسٹر مقابلوں سے طلباء کو سیکھنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں ریسرچ کلچر کو فروغ دینے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔

فوکل پرسن ایڈمیشن کمیٹی اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد بزدار ڈین فیکلٹی آف فزیکل اینڈ میتھیمیٹیکل سائنسز نے کہا ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے 6کیمپسز میں 300بیچلر پروگراموں میں داخلے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ تمام بی ایس پروگرام مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہیں اور اپنے شعبے میں بہترین کارکردگی دیکھانے والے طلباء و طالبات کوجاب مارکیٹ میں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ اسی طرح اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور طلباء وطالبات کو مختلف عملی مہارت بھی سیکھا رہی ہے تاکہ نوجوان انٹرپرینورشپ کے ذریعے خودروزگار بننے اور دوسروں کے لیے بھی ملازمتوں کے مواقع دستیاب کریں۔ پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد بزدار نے ان خیالات کا اظہار آج بہاول پور کے مختلف کالجز سے آئے ہوئے طلباء وطالبات کے لیے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں بی ایس پروگراموں کے تعارفی سیشن میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں حال ہی میں والدین کی معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بی ایس پروگراموں کی فیس میں 25فیصد کمی کی ہے جس سے طلباء وطالبات مستفید ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پرپروفیسر ڈاکٹر آصف نوید رانجھا ڈائریکٹر ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ، رجسٹرار محمد شجیع الرحمن، ڈاکٹر عمر فاروق چیئرمین شعبہ فزیالوجی، شہزاد احمد خالد ڈائریکٹر میڈیا اینڈ پبلک ریلیشنز،جاوید اشرف ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات، آغاصدف مہدی سینئر پروڈیوسر، سینئر فیکلٹی ممبران اور افسران موجود تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد بزدار نے کہا کہ آج کے دور میں ہمارے طلباء وطالبات خصوصا انٹرمیڈیٹ کرنے والے طلباء کے لیے کیریئر کانسلنگ بہت اہم مسئلہ ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے اساتذہ اور کیریئر کونسلنگ کادفتر اس سلسلے میں مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ کس شعبے کی مارکیٹ میں مانگ ہے اور کون سی مہارت حاصل کرکے اندرون ملک اور بیرون ملک بہتر ملازمت حاصل ہو سکتی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نوید اختر کی ہدایت پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی کیریئر کونسلنگ ٹیم سرکاری اور نجی کالجز کا بھی دورہ کرے گی۔ جہاں اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں دستیاب بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگراموں سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی۔ سیشن کے دوران یونیورسٹی میں طلباء وطالبات کے لیے سہولیات، ہائر ایجوکیشن کمیشن کا جدید نصاب، ماڈرن آلات سے آراستہ لیبارٹریز، سپورٹس کمپلیکس، ہاسٹلز، ٹرانسپورٹ، میڈیکل کی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
پنجاب یونیورسٹی شعبہ امتحانات نے ایسو سی ایٹ ڈگری آرٹس /سائنس /کامرس پارٹ ون اور پارٹ ٹواور بی اے (سماعت سے محروم) سالانہ2024ء کے آن لائن داخلہ فارم و فیس جمع کرانے کا شیڈول جاری کر دیاہے۔تفصیلات کے مطابق تمام ریگولر،لیٹ کالج، پرائیویٹ، امپرووڈویژن، اضافی مضامین اور خصوصی کیٹیگریز(ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، فارم۔ڈی، جنرل نرسنگ، فاضل اور وفاق المدارس) کے امیدوار سنگل فیس کے ساتھ19جنوری تا29فروری 2024ء تک آن لائن فارم جمع کروا سکتے ہیں۔ امیدواروں کومطلع کیا جاتا ہے کہ تمام داخلے آن لائن ہوں گے اور داخلہ فارم دستی اور بذریعہ ڈاک کسی صورت وصول نہیں کیا جائے گا۔ تفصیلات پنجاب یونیورسٹی کی ویب سائٹ www.pu.edu.pkپر دیکھی جا سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں تعاون کے لیے قائم کیے گئے مرکز سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز کولیبریشن سینٹر، فاطمہ جناح ویمن لیڈرشپ سینٹر، اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور اور تکمیل فاؤنڈیشن کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب وائس چانسلر سیکریٹریٹ بغداد الجدید کیمپس میں منعقد ہوئی۔ اس یاد داشت پر دستخط کا مقصد پاکستان کے پسماندہ طبقات دیہی علاقوں بالخصوص جنوبی پنجاب کے علاقے میں اسکول سے باہر بچوں کو مفت معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے باہمی اشتراک عمل کو فروغ دینا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر نوید اختر وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور نے کہا کہ پاکستان میں اسکولوں سے باہر بچوں کے مسئلے کا کوئی واحد حل نہیں ہے۔ ایک کثیر جہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے جو مسئلے کی بنیادی وجوہات کو حل کرے اور حکومت اور سول سوسائٹی دونوں کی کوششوں کی حمایت کرے۔پروفیسرڈاکٹر روبینہ بھٹی، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز نے کہا کہ پاکستان میں سکول نہ جانے والے بچوں کی دنیا میں دوسری سب سے زیادہ تعداد ہے جہاں 5 سے 16 سال کی عمر کے 22.8 ملین بچے سکول نہیں جاتے، جو کل آبادی کا 44 فیصد ہیں۔ اس عمر کے گروپ میں 5 تا 9 سال کی عمر کے گروپ میں 50 لاکھ بچے اسکولوں میں داخل نہیں ہیں اور پرائمری اسکول کی عمر کے بعد اسکول سے باہر بچوں کی تعداد دوگنی ہوجاتی ہے، 10 تا 14 سال کی عمر کے 11.4 ملین نوجوان رسمی تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔ پاکستان کو سب سے زیادہ پسماندہ اسکول میں حاضری، قیام اور سیکھنے کو یقینی بنانے کے لیے ایک سنگین چیلنج کا سامنا ہے۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر آصف نوید رانجھا، پروفیسر ڈاکٹر سلمان بن نعیم، پروفیسر ڈاکٹر ثمر فہد، ڈاکٹر عابد رشید گِل، ڈاکٹر عابدحسین شہزاد، ڈاکٹر فاروق احمد، ڈاکٹر مریم سہروردی، ڈاکٹر محمد علی، خورشید احمد، ڈاکٹر ماہ بشریٰ اصغر اور دیگر شرکاء بھی موجود تھے۔

اسلامیہ یونیورسٹی رحیم یار خان کیمپس میں شعبہ زوالوجی کی لیکچرار ڈاکٹر صوبیہ عابد کو اپلائیڈ زوالوجی کی چھٹی بین الاقوامی کانفرنس کے دوران ”پروفیسر ڈاکٹر نزہت سیال گولڈ میڈل” حاصل کرنے والی سب سے کم عمر شخصیت کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ چھٹی انٹرنیشنل کانفرنس براے اپلائیڈ ذوالوجی میں ایوارڈ ان کی غیر معمولی علمی تحقیقی خدمات کا اعتراف میں دیا گیا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نوید اختر نے ڈاکٹر صوبیہ عابد اور ڈائریکٹر کیمپس رحیم یارخان خان پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد اطہر خان اور فیکلٹی کو مبارکباد دی ہے۔