کمانڈر بہاولپور کور لیفٹیننٹ جنر ل محمد عقیل (ہلال امتیاز ملٹری)نے آئی یو بی ٹیک ایکسپو 2025 میں بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی ۔ ایکسپو میں الیکٹریکل و الیکٹرانک انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، ڈیٹا سائنسز، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر سیکیورٹی کے جدید پراجیکٹس پیش کیے گئے۔کمانڈر نے مختلف اسٹالز کا معائنہ کیا اور طلباء و طالبات کی تحقیق و تکنیکی مہارت کو سراہا۔بعدازاں اُنہوں نے طلبا و طالبات اور فیکلٹی کے ساتھ خصوصی نشست میں مختلف موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی۔طلباء و طالبات، اساتذہ اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے کمانڈر بہاولپور کور کے ساتھ خصوصی نشست اور گفتگو پر افواجِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور مزید ایسے سیشنز کی خواہش کا اظہار کیا۔اس موقع پر طلباء و طالبات نے افواجِ پاکستان کی معرکہ حق (آپریشن بنیان المرصوص) میں تاریخی فتح پر خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔
اہم خبریں
پاکستانی قونصل جنرل حسین محمد کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت — سپیریئر یونیورسٹی راک کیمپس میں گریجویشن تقریب کا انعقاد..
دبئی (نامہ نگار) — پاکستان کے قونصل جنرل برائے دبئی محترم حسین محمد نے سپیریئر یونیورسٹی راک (RAK) کیمپس کے فریش مین پروگرام کی گریجویشن تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حسین محمد نے کہا کہ تعلیم نوجوان نسل کو ہنر، اعتماد، اور تخلیقی صلاحیتوں سے آراستہ کرتی ہے، جو مستقبل میں جدت، ترقی، اور مثبت تبدیلی کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے سپیریئر یونیورسٹی کی اس کاوش کو سراہا جو ایک ایسا علمی ماحول فراہم کر رہی ہے جہاں نصابی مہارت کے ساتھ ذاتی اور پیشہ ورانہ نشوونما کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔

قونصل جنرل نے متحدہ عرب امارات کی قیادت کی طرف سے پاکستانی کمیونٹی کے تعلیمی منصوبوں اور مواقع کے لیے تعاون پر بھی گہری مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور ثقافتی تبادلے کے ذریعے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔تقریب کے اختتام پر محترم حسین محمد نے فارغ التحصیل طلبہ میں سرٹیفیکیٹس تقسیم کیے اور ان کی کامیابیوں پر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور این آر ٹی سی کے درمیان تحقیق و جدت کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) — بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (IIUI) اور نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن کارپوریشن (NRTC) ہری پور کے درمیان تحقیقی، اختراعی اور صنعتی و تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے۔یادداشت پر دستخط صدر IIUI پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے یونیورسٹی کی جانب سے، جبکہ بریگیڈیئر (ر) عمر عبدالرشید، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر، نے این آر ٹی سی کی جانب سے کیے۔این آر ٹی سی کے وفد میں بریگیڈیئر (ر) عمر عبدالرشید، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر، مسٹر شکیل احمد (جی ایم ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ)، مسٹر عمار رشاد (ہیڈ آف ایکسپورٹ)، ایئر وائس مارشل (ر) اسد اکرام (کنسلٹنٹ آر اینڈ ڈی) اور کرنل (ر) ثناءاللہ (چیف کوآرڈینیشن آفیسر) شامل تھے۔
تقریب میں IIUI کے ڈائریکٹر ORIC ڈاکٹر محمد عامر، ڈاکٹر محمد سقلین (انچارج لنکیجز آفس) اور دیگر متعلقہ عہدیداران نے بھی شرکت کی۔مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ادارے تحقیق و مشاورت پر مبنی منصوبوں، مشترکہ انٹلیکچوئل پراپرٹی مینجمنٹ، اور IIUI کے طلبہ کے لیے انٹرن شپ و روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ معاہدے میں اساتذہ کے لیے صنعتی تربیت، مشترکہ تحقیقی کانفرنسوں اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کے منصوبوں کے لیے پروپوزلز جمع کروانے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر کی سیکرٹری تعلیم و قائم مقام چیئرمین ایچ ای سی سے ملاقات — باہمی تعاون اور وقف سرمایہ کاری منصوبے پر گفتگو
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) — بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (IIUI) کے صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے سیکرٹری تعلیم و قائم مقام چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) ندیم محبوب سے ملاقات کی۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے وائس پریزیڈنٹ (ریسرچ اینڈ انٹرپرائز) پروفیسر ڈاکٹر احمد شجاع سید اور ڈائریکٹر (STBS & BIC) احسن مرزا بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ملاقات خوشگوار اور تعمیری ماحول میں ہوئی جس میں باہمی تعاون کے امکانات اور اسلامی یونیورسٹی کے جاری منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ صدر IIUI نے قائم مقام چیئرمین ایچ ای سی کو یونیورسٹی میں جاری ترقیاتی اقدامات، تحقیقی منصوبوں اور ادارہ جاتی مضبوطی کے لیے اپنی قیادت میں کیے گئے حکمتِ عملی اقدامات سے آگاہ کیا۔
وائس پریزیڈنٹ (ریسرچ اینڈ انٹرپرائز) پروفیسر ڈاکٹر احمد شجاع سید نے یونیورسٹی کے جاری پروگرامز، ترجیحی تحقیقی شعبوں اور ادارے کی نمایاں خصوصیات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اسلامی ترقیاتی بینک (IsDB) کے تعاون سے چلنے والے وقف پراپرٹیز انویسٹمنٹ پراجیکٹ کی پیشرفت اور آئندہ اہداف سے بھی آگاہ کیا۔ندیم محبوب نے اس منصوبے میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے یونیورسٹی کو ایچ ای سی کی بھرپور معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ صدر IIUI پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے اس موقع پر سعودی عرب میں اعلیٰ تعلیم کے بدلتے ہوئے منظرنامے اور تعاون و اختراع کے نئے مواقع پر بھی گفتگو کی۔سیکرٹری تعلیم و قائم مقام چیئرمین ایچ ای سی ندیم محبوب نے اسلامی یونیورسٹی کی پیش رفت کو سراہا اور کہا کہ ادارہ صدر IIUI کی قیادت میں مزید ترقی کرے گا۔ انہوں نے وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کی جانب سے تمام متعلقہ امور میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
سینئرصوبائی وزیر مریم اورنگ زیب نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) لاہور کے انجینئرز کی تیار کردہ اینٹی سموگ گن کا افتتاح کردیا……… رانا سکندر حیات نے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر (تمغہ امتیاز) اور ان کی ٹیم کو اس کارنامے پر مبارکباد دی۔
سینئرصوبائی وزیر مریم اورنگ زیب نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) لاہور کے انجینئرز کی تیار کردہ اینٹی سموگ گن کا افتتاح کردیا ۔ یہ افتتاحی تقریب جی اوآر میں ان کے دفتر میں منعقد ہوئی جس میں وائس چانسلر یوای ٹی پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر کے علاوہ صوبائی وزیر ہائیرایجوکیشن راناسکندر حیات خاں، صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری، چیئرمین پی ایچ ای سی ڈاکٹر رانا اقراراحمد خاں، سیکرٹری ایچ ای ڈی غلام فرید، وائس چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ڈاکٹر عمر چوہدری، ڈین مکینیکل ڈاکٹر توصیف ایزد، سی سی نیوکیمپس ڈاکٹر شاہد عمران، ڈین الیکٹریکل ڈاکٹر محمد شعیب، رجسٹرار محمد آصف، پی آراو ڈاکٹر تنویرقاسم ، معین سلطان اور ان کی ٹیم بھی موجود تھی۔ مریم اورنگزیب نے اینٹی سموگ گن کو یوای ٹی کی ایک اور شاندار کامیابی قراردیا۔ انہوں نے وائس چانسلر اور انکی پوری ٹیم کو شاباش دی اور کہا کہ پنجاب حکومت اس مشین گن سے مستفید ہوگی ”سموگ“ کا مسئلہ پنجاب حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست رہا ہے ۔ وائس چانسلر نے اینٹی سموگ گن کے متعلق مختصر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کی رینج 40 میٹر ہے۔ یہ گن مؤثر طریقے سے دھول اور فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لئے استعمال کی جائیگی۔

یہ جدید ڈسٹ سپریشن سسٹم تعمیراتی مقامات، پتھر توڑنے کے پلانٹس اور مائننگ کے دوران پیدا ہونے والے گرد و غبار کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس سسٹم کی بدولت پانی کے باریک ذرات فضا میں بکھر کر گرد کے ذرات کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اور ان کو نیچے گرا دیتے ہیں، جس سے فضائی آلودگی کم اور ماحول بہتر ہوتا ہے۔ رانا سکندر حیات نے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر (تمغہ امتیاز) ک اور ان کی ٹیم کو اس کارنامے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایجاد ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے میں ایک عملی قدم ہے۔ انکا کہنا تھا کہ یو ای ٹی کو ایجادات کا حب بنائیں گے۔ ہماری وزارت ایکڈمیا انڈسٹری لنکجز کی حوصلہ افزائی کرےگی اور یوا ی ٹی کی بھرپور مالی سپورٹ کرے گی ۔انہوں نے پراجیکٹ سپروائزر انجینئرمعین سلطان، ڈین مکینیکل ڈاکٹر توصیف، کیمپس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شاہد عمران اور چیئرمین ڈاکٹر محمد فرحان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یو ای ٹی کے انجینیئرز نے ہمیشہ جدید تحقیق اور معاشرتی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔
سپیشلائزڈ ڈیجیٹل سکلز ٹریننگ آف ٹرینرز پرگرام اور پریکٹس آف سکلز ڈیجیٹل ایجوکیشن پلیٹ فارم کا اجراء……….یہ پروگرام نیوٹیک، یو این آئی سروسز انٹرنیشنل اور آئی ٹی ایم سی چائنا کے باہمی اشتراک سے شروع کیا گیا
وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کے تحت سپیشلائزڈ ڈیجیٹل سکلز ٹریننگ آف ٹرینرز پروگرام اور پریکٹس آف سکلز، بین الاقوامی ڈیجیٹل ایجوکیشن پلیٹ فارم کا اجراء نیوٹیک ہیڈکوارٹرز میں پیر کو کیا گیا۔ یہ تقریب پاکستان میں ٹیکنیکل و ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (ٹیوٹ) کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی جو وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کے مطابق نوجوانوں اور ٹرینرز کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لئے ایک جامع حکمتِ عملی کی نمائندگی کرتی ہے۔
یہ پروگرام نیوٹیک، یو این آئی سروسز انٹرنیشنل اور آئی ٹی ایم سی چائنا کے باہمی اشتراک سے شروع کیا گیا ہے جس میں ممتاز چینی ٹیکنیکل و ووکیشنل ادارے بھی شراکت دار ہیں۔ یہ صرف ایک تربیتی منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کے انسانی وسائل میں ایک بڑی سرمایہ کاری ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو عالمی معیار کی ڈیجیٹل مہارتوں سے لیس کرنا ہے تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔اس پروگرام کے تحت تمام صوبوں اور خطوں سے منتخب 200 ٹرینرز کے پہلے بیچ کو تربیت دی جائے گی جنہیں مصنوعی ذہانت ، ای-کامرس اور کراس بارڈر ای-کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ڈیٹا ڈرِوَن بزنس اینالٹکس، شارٹ ویڈیو پروڈکشن اور آن لائن سٹور آپریشن جیسے جدید اور زیادہ طلب والے شعبوں میں تربیت فراہم کی جائے گی۔ تمام تربیت آن لائن دی جائے گی تاکہ شرکاء اپنے اپنے علاقوں سے بآسانی شرکت کر سکیں۔
اس طرح یہ منصوبہ رسائی، شمولیت اور جدت کے اصولوں پر مبنی ہے۔ کورس کے مواد اور ڈیجیٹل وسائل کا بندوبست آئی ٹی ایم سی چائنا اور معروف چینی اداروں کی جانب سے کیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی معیار کی تربیت یقینی بنائی جا سکے۔ تربیت مکمل کرنے والے شرکاء کو نیوٹیک، آئی ٹی ایم سی چائنا اور چینی اداروں کی جانب سے مشترکہ طور پر بین الاقوامی سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔اس منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ نیوٹیک کا ٹریننگ آف ٹرینرز فریم ورک اب سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ نجی تربیتی اداروں تک بھی وسعت اختیار کر رہا ہے۔ یہ جامع حکمتِ عملی نجی شعبے کے تربیت کاروں کے کردار کو تسلیم کرتی ہے اور انہیں قومی سکلز ایجنڈے میں مساوی شمولیت اور معیار کے یکساں مواقع فراہم کرتی ہے۔
پریکٹس آف سکلز پلیٹ فارم پاکستانی نوجوانوں، ٹرینرز اور فری لانسرز کو مفت آن لائن لرننگ اکاؤنٹس فراہم کرے گا تاکہ ڈیجیٹل تعلیم سب کے لئے قابلِ رسائی ہو اور عمر بھر سیکھنے کے رجحان کو فروغ دیا جا سکے۔یہ منصوبہ پاکستان اور چین کے درمیان انسانی وسائل کی ترقی میں تعاون کو مزید مضبوط کرتا ہے، جو سی پیک کے صنعتی، تکنیکی اور ڈیجیٹل ترقی کے اہداف سے مطابقت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ ٹیکنالوجی کے تبادلے، علم کے اشتراک اور جدت کی سمت ایک اہم قدم ہے۔اس کامیابی کا سہرا نیوٹک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد عامر جان اور ان کی ٹیم کے ویژن اور محنت کو جاتا ہے، جن کی قیادت میں یہ سنگِ میل حاصل ہوا۔
– Advertisement –
وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور وائس چیئرمین نیشنل ٹیکنالوجی کونسل پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے ریکٹر نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی لیفٹیننٹ جنرل (ر) معظم اعجاز کے ساتھ ملائیشیا کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔
وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور وائس چیئرمین نیشنل ٹیکنالوجی کونسل پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے ریکٹر نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی لیفٹیننٹ جنرل (ر) معظم اعجاز کے ساتھ ملائیشیا کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔ وفد میں ڈاکٹر زائر العامری زکریا اور ڈاکٹر حسیل حسینی شامل تھے، جو سڈنی ایکارڈ پر نیشنل ٹیکنالوجی کونسل کے سرپرست کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ معزز مہمان ملک بھر میں انجینئرنگ ٹیکنالوجی پروگراموں کی منظوری سے متعلق موجودہ پالیسیوں، طریقوں اور طریقہ کار کا جائزہ لینے اور ان کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان میں ہیں۔ سڈنی ایکارڈ ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ بین الاقوامی تعلیمی فریم ورک ہے جو انٹرنیشنل انجینئرنگ الائنس کے تحت کام کرتا ہے۔ یہ رکن ممالک کے درمیان انجینئرنگ ٹیکنالوجی کی قابلیت اور پیشہ ورانہ قابلیت کی باہمی شناخت میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے، ایک دستخط کنندہ ملک میں منظور شدہ انجینئرنگ ٹیکنالوجی پروگراموں کو دوسرے ممبران کے مساوی کے طور پر قبول کیا جاتا ہے، اس طرح تعلیمی نقل و حرکت، پیشہ ورانہ شناخت، اور تکنیکی تعلیم میں عالمی تعاون کو فروغ ملتا ہے۔ یہ دورہ پاکستان کے انجینئرنگ ٹیکنالوجی کے تعلیمی نظام کو بین الاقوامی معیار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے اور انجینئرنگ ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستانی گریجویٹس کی ساکھ اور عالمی قبولیت کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی ایمان فاطمہ کی سول سروس میں شاندار کامیابی — عزم، محنت اور مقبول دعا کی داستان
(سیالکوٹ) گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ (GCWUS) کی ہونہار طالبہ ایمان فاطمہ نے سول سروسز کے امتحان (CSS) میں 167ویں پوزیشن حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی۔ یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی جدوجہد کا نتیجہ ہے بلکہ ان کے ادارے، اساتذہ اور والدین کے لیے بھی فخر کا مقام ہے۔ایمان فاطمہ کا سفر آسان نہ تھا۔ معاشرتی طنز، مایوس کن جملے اور مشکلات کے پہاڑ ان کے راستے میں حائل رہے، مگر انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ “تم کچھ بن نہیں سکتی” جیسے جملے ان کے لیے تیز دھار تلوار بن گئے جنہوں نے انہیں ہارنے نہیں دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا کی چکا چوند سے دور رہ کر خود کو مطالعے کے لیے وقف کر دیا اور دن رات محنت سے اپنے خواب کو حقیقت بنایا۔
اسی دوران ان کی والدہ کو کینسر کی تشخیص ہوئی۔ مگر ایمان نے ہمت نہیں ہاری، ماں کی خدمت کو عبادت سمجھ کر نبھایا، اور اللہ سے دعا کی۔ طویل عرصے بعد والدہ کی صحتیابی کے ساتھ ایمان کی دعائیں قبول ہوئیں۔ وہ کہتی ہیں، “شاید ماں کی خدمت نے ہی میری تقدیر بدل دی۔”ان کی رہنمائی کرنے والی پروفیسر آمنہ صادق نے ان کی ہمت بندھائی، اور یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شازیہ بشیر نے اس کامیابی کو GCWUS کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ “ایمان فاطمہ ہماری طالبات کے لیے ایک زندہ مثال ہیں کہ محنت، دعا اور لگن سے کچھ بھی ممکن ہے۔”
ایمان فاطمہ نے اپنی کامیابی کے بعد کہا:
“ادارہ چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، ارادہ بڑا ہونا چاہیے۔ اگر انسان خود سے وعدہ کر لے تو ناکامی بھی لطف دینے لگتی ہے۔”
ان کے مطابق روزانہ چودہ گھنٹے مطالعہ، مستقل مزاجی، اور غیر ضروری چیزوں سے دوری نے انہیں یہ کامیابی دلائی۔
#GCWUS #ILMIATONLINE
یونیورسٹی آف مکاؤ کا نیا سنگِ میل: جدید مٹیریلز پر مبنی توانائی، ماحولیاتی تحفظ اور طب میں انقلابی تحقیق
— یونیورسٹی آف مکاؤ (University of Macau) نے جدید مٹیریلز کی تحقیق و ترقی کے لیے “مکاؤ سینٹر فار ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اِن ایڈوانسڈ مٹیریلز” کا افتتاح کر کے سائنسی دنیا میں ایک اہم سنگِ میل قائم کر دیا ہے۔ یہ ادارہ توانائی، ماحولیاتی تحفظ اور صحت کے شعبوں میں نئی اور پائیدار مٹیریلز کی تیاری کے لیے کام کر رہا ہے، تاکہ خطے میں ماحول دوست صنعتوں کو فروغ دیا جا سکے۔یہ مرکز 2023 میں قائم کیا گیا، جس کا مقصد مکاؤ اور آس پاس کے علاقوں میں ایڈوانسڈ مٹیریلز انڈسٹری کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ منصوبہ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ فزکس اینڈ مٹیریلز انجینئرنگ کی مہارت سے فائدہ اٹھاتا ہے اور بین المضامینی تعاون کے ذریعے تحقیقی نتائج کے تجارتی استعمال کو فروغ دیتا ہے۔

پروفیسر زِی کانگ تانگ (Zikang Tang)، جو انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ فزکس اینڈ مٹیریلز انجینئرنگ کے چیئر پروفیسر ہیں، کے مطابق:
“دنیا میں بے شمار اقسام کے مٹیریلز موجود ہیں، مگر ہمارا مقصد نئے اور زیادہ مؤثر مٹیریلز تخلیق کرنا ہے۔”
شمسی توانائی میں نئی جہت
مرکز کی نمایاں کامیابیوں میں سے ایک نئی پیروسکائٹ سولر سیل (Perovskite Solar Cells) کی تیاری ہے جو صرف سورج کی روشنی پر انحصار نہیں کرتیں۔ یہ جدید تہہ دار مٹیریل دن یا رات کے کسی بھی وقت توانائی کو مؤثر طریقے سے تبدیل کر سکتا ہے — جو مستقبل میں گرین انرجی کے شعبے میں انقلاب لا سکتا ہے۔
ماحول دوست “نینو فوم کنکریٹ”
مرکز کی ایک اور نمایاں ایجاد نینو فوم کنکریٹ (Nanofoam Concrete) ہے جسے “فوم سیمنٹ” بھی کہا جاتا ہے۔ روایتی سیمنٹ کی تیاری بہت زیادہ توانائی لیتی ہے اور عالمی کاربن اخراج کا تقریباً 7 فیصد حصہ بنتی ہے۔ پروفیسر تانگ کے مطابق، یونیورسٹی کا تیار کردہ نیا مٹیریل سیمنٹ کے استعمال کو 40 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔ یہ نیا کنکریٹ مکاؤ اور ژوہائی کے کئی بڑے تعمیراتی منصوبوں، بشمول سڑکوں کی تعمیر، میں کامیابی سے استعمال ہو چکا ہے۔
خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے والی ایجادات
تحقیقی ٹیم نے ایک ہائیڈروجل تیار کیا ہے جو اپنے وزن سے 18,000 گنا زیادہ پانی جذب کر سکتا ہے۔ اسے زمین میں دفن کر کے کھیتوں اور ریگستانوں میں پانی محفوظ رکھا جا سکتا ہے، جس سے آبپاشی کے اخراجات اور توانائی کی بچت ممکن ہو جاتی ہے۔
سرطان کے علاج میں انقلابی پیش رفت
صحت کے شعبے میں مرکز نے کینسر امیونوتھراپی میں ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے۔ عام طور پر کینسر کے خلیے مدافعتی نظام سے چھپ جاتے ہیں، مگر تحقیق کاروں نے کاربن کوانٹم ڈاٹس (Carbon Quantum Dots) کی مدد سے ایسے مٹیریلز تیار کیے ہیں جو کینسر کے خلیوں کے پروٹین کی ساخت کو تبدیل کر دیتے ہیں، جس سے جسم کا مدافعتی نظام انہیں غیر ملکی عناصر سمجھ کر تباہ کرنے لگتا ہے۔
پروفیسر تانگ کے مطابق:
“چند ہی وقت میں مدافعتی نظام جسم کے اندر موجود کینسر کے خلیوں کے خلاف لڑنا شروع کر دیتا ہے، چاہے وہ کسی بھی قسم کا سرطان ہو۔”
تعاون اور ترقی کا نیا دور
یہ تمام کامیابیاں بین الاقوامی تعاون اور مکاؤ حکومت کی مدد سے ممکن ہوئیں۔ گوانگ ڈونگ-مکاؤ ان ڈیپتھ کوآپریشن زون (Hengqin) جیسے منصوبے بھی تحقیق اور معاشی ترقی کو فروغ دے رہے ہیں۔یونیورسٹی آف مکاؤ کی یہ پیش رفت نہ صرف سائنس و ٹیکنالوجی میں تاریخی سنگ میل ہے بلکہ خطے کی معاشی تنوع اور پائیدار ترقی کے حکومتی وژن سے بھی مکمل مطابقت رکھتی ہے۔
نیوروڈی جنریٹیو بیماریوں الزائمر، پارکنسن ا کے علاج کیلئے مصنوعی ذہانت پر مبنی چینی ادویات کی دریافت کا پلیٹ فارم تیار……… پلیٹ فارم کی مدد سے نیوروڈی جنریٹیو امراض، بالخصوص الزائمر، کے علاج کی رفتار میں نمایاں تیزی لائی جا سکتی ہے
دماغی و اعصابی نظام کو متاثر کرنے والی نیوروڈی جنریٹیو بیماریوں (Neurodegenerative Diseases) جیسے الزائمر، پارکنسن اور دیگر امراض دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتے ہوئے صحت کے چیلنج بن چکے ہیں۔ ان بیماریوں کے علاج کے محدود مواقع، مہنگے علاج اور مریضوں و اہل خانہ پر نفسیاتی و مالی بوجھ نے طبی ماہرین کو نئی تحقیق کی طرف متوجہ کیا ہے۔اسی تناظر میں یونیورسٹی آف مکاؤ (University of Macau) کے انسٹی ٹیوٹ آف چائنیز میڈیکل سائنسز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر جیاہونگ لو (Jiahong Lu) کی سربراہی میں ایک بین الاقوامی تحقیقاتی ٹیم نے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ایک جدید چینی ادویاتی دریافت کا پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔ یہ منصوبہ ناروے کی یونیورسٹی آف اوسلو اور چین کی ہانگژو مائنڈ رینک ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کے اشتراک سے انجام دیا گیا۔
اس پلیٹ فارم کو DeepDD (Deep Drug Discovery) کا نام دیا گیا ہے، جو چینی طب (Traditional Chinese Medicine) کے لاکھوں قدرتی مرکبات کی لائبریری سے الزائمر اور دیگر دماغی امراض کے علاج کے لیے ممکنہ دوا کے اجزاء کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم مصنوعی ذہانت کے جدید الگورتھمز اور کمپیوٹیشنل ماڈلز کی مدد سے اعلیٰ کامیابی کی شرح حاصل کرتا ہے۔
DeepDD کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں:
1️⃣ جدید تناظر میں مرکبات کی اسکریننگ (Context-aware screening)
2️⃣ جذب، تقسیم، میٹابولزم، اخراج اور زہریت (ADMET) کی جامع جانچ
3️⃣ مختلف پہلوؤں کی ہم وقتی اصلاح (Multi-parametric optimization)

انسٹی ٹیوٹ آف چائنیز میڈیکل سائنسز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر جیاہونگ لو
یہ پلیٹ فارم اوپن سورس ہے اور دنیا بھر کے محققین کے لیے https://deepdrugdiscovery.mindrank.ai/ پر مفت دستیاب ہے، تاکہ وہ اپنی مرضی کے حوالہ جاتی مرکبات کے ذریعے ممکنہ دماغی تحفظ فراہم کرنے والے ایجنٹس دریافت کر سکیں۔پروفیسر جیاہونگ لو کا کہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم کی مدد سے نیوروڈی جنریٹیو امراض، بالخصوص الزائمر، کے علاج کی رفتار میں نمایاں تیزی لائی جا سکتی ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت اور چینی طب کے امتزاج سے جدید سائنسی تحقیق کا نیا باب کھولتا ہے، جو نہ صرف دوا سازی کی لاگت کم کرے گا بلکہ عالمی سطح پر مریضوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ماہرین کے مطابق DeepDD پلیٹ فارم نیوروڈی جنریٹیو بیماریوں کے علاج میں ایک انقلابی پیش رفت ہے، جو عالمی سطح پر بایومیڈیکل ریسرچ کے نئے دور کا آغاز کر سکتا ہے۔