مصنوعی ذہانت سے مقالہ تو لکھا جا سکتا ہے، محقق کیسے تیار ہوگا؟……ماہر تعلیم کا انتباہ: اے آئی کے تیار کردہ علمی مواد پر انحصار طلبہ کی آزادانہ سوچ، تحقیقی صلاحیت اور استدلال کو متاثر کر سکتا ہے
جنوبی افریقہ: مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے اعلیٰ تعلیم میں تحقیقی مقالے لکھنے، علمی مواد سمجھنے اور تحریر بہتر بنانے کے عمل کو تیز کر دیا ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بہتر اور پُراثر مقالہ لازماً محقق کی گہری علمی سمجھ بوجھ کا ثبوت نہیں ہوتا۔یونیورسٹی ورلڈ نیوز میں 23 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والے ایک تجزیے میں اسٹیلن بوش یونیورسٹی، جنوبی افریقہ کی فیکلٹی آف ایجوکیشن کے پروفیسر اسلم فتار نے کہا ہے کہ جامعات کو اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ مصنوعی ذہانت طلبہ کی تحقیقی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے، نہ کہ ان کی جگہ خود علمی استدلال انجام دینے لگے۔
پروفیسر اسلم کے مطابق تحقیقی مقالے کا مقصد صرف ایک معیاری دستاویز تیار کرنا نہیں بلکہ محقق میں شواہد کا تجزیہ کرنے، مختلف نظریات کا موازنہ کرنے اور اپنے نتائج کا دفاع کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔ اے آئی سے تیار کردہ وضاحتیں بظاہر قابلِ اعتماد ہو سکتی ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ طالب علم ان کے پس منظر اور دلائل کو حقیقی طور پر سمجھتا بھی ہو۔انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال بذاتِ خود نقصان دہ نہیں۔ یہ مشکل علمی مواد تک رسائی، زبان کی بہتری اور تحقیق کے نئے زاویے تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم، اصل تحقیقی مواد کا مطالعہ، شواہد کی جانچ اور نتائج کی توجیہہ طالب علم کی اپنی ذمہ داری رہنی چاہیے۔
تجزیے میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ اے آئی بعض اوقات جملوں میں یقین اور قطعیت کا انداز بڑھا دیتی ہے، حالاں کہ شواہد میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اس لیے محققین کو ہر نتیجے کی صحت، متعلقہ مفروضوں اور استدلال کی مضبوطی کا خود جائزہ لینا چاہیے۔پروفیسر اسلم نے تجویز دی کہ جامعات میں تحقیقی نگران طلبہ سے صرف اے آئی کے استعمال کی تفصیلات نہ پوچھیں بلکہ یہ بھی جانچیں کہ وہ اپنے تحقیقی نتائج کو کس حد تک سمجھتے اور ان کا دفاع کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے طلبہ کو اے آئی سے حاصل کردہ تجاویز کی تصدیق، اصل علمی لٹریچر سے رجوع اور اپنے تحقیقی فیصلوں کی وجوہات قلم بند کرنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ اعلیٰ تعلیم میں کامیابی کا معیار صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اے آئی کی مدد سے مقالہ کتنی جلد مکمل ہوا، بلکہ اصل کامیابی ایسے محققین تیار کرنا ہے جو معتبر علم تخلیق کر سکیں اور اپنے نتائج کی ذمہ داری قبول کریں۔تجزیے کا