Skip to main content

https://ilmiatonline.com

کالمز

برطانوی جامعات مالی بحران کی گرفت میں، ہزاروں ملازمتیں اور تعلیمی پروگرام خطرے سے دوچار

یونیورسٹی ورلڈ نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یونیورسٹی آف ناٹنگھم نے اپنے 145 سالہ دور کی بڑی تنظیمی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت یونیورسٹی کی پانچ فیکلٹیوں کو تین کالجوں میں تبدیل کیا جائے گا اور تقریباً 500 ملازمتیں متاثر ہونے کا امکان ہے۔ یونیورسٹی نے جدید زبانوں اور موسیقی کے مکمل ڈگری پروگرام بھی ختم کر دیے ہیں، جبکہ روایتی انفرادی تعلیمی رہنمائی کی جگہ ٹیموں پر مبنی معاونتی نظام متعارف کرایا جائے گا۔یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق مجوزہ منصوبے، جسے ’’فیوچر ناٹنگھم‘‘ کا نام دیا گیا ہے، میں بعض بہتریاں بھی شامل ہیں۔ جدید زبانوں کے مضامین یونیورسٹی کے نئے مرکزی لینگویج سینٹر کے ذریعے مختلف ڈگری پروگراموں کے طلبہ کو دستیاب کرانے کی تجویز ہے۔

تقریباً نصف جامعات مالی خسارے کا شکار

رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی متعدد جامعات نے حالیہ مہینوں میں اخراجات کم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ یونیورسٹی آف سنڈرلینڈ نے ایک سال کے دوران 40 ملین پاؤنڈ کی بچت کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں 140 ملین پاؤنڈ کی کٹوتیوں کے منصوبے کے تحت 1,880 ملازمتوں کے ممکنہ خاتمے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔یونیورسٹیز یوکے کے مطابق مہنگائی، آجروں کی نیشنل انشورنس ادائیگیوں، عمارتوں کی دیکھ بھال اور عملے کے اخراجات میں اضافے کے باعث انگلینڈ کے تقریباً نصف اعلیٰ تعلیمی ادارے مالی خسارے کا سامنا کر رہے ہیں۔ دیگر متاثرہ اداروں میں وولورہیمپٹن، بریڈفورڈ، چیسٹر، ایکسیٹر، ڈرہم، شیفیلڈ اور سسیکس سمیت متعدد جامعات شامل ہیں۔

فی طالب علم فنڈنگ میں 23 فیصد کمی

یونیورسٹیز یوکے کے لیے لندن اکنامکس کی تیار کردہ تحقیق کے مطابق، انگلینڈ میں ہر کل وقتی طالب علم کی تدریس کے لیے ٹیوشن فیس اور سرکاری گرانٹس سے حاصل ہونے والی مجموعی رقم 2020-21 میں 12,220 پاؤنڈ سے کم ہو کر 2024-25 میں 9,450 پاؤنڈ رہ گئی، جو چار سال میں 23 فیصد کمی ہے۔تحقیق کے مطابق 2012-13 میں انگلینڈ کے انڈرگریجویٹ طلبہ کی تعلیم اور معاونت کے اخراجات میں حکومت کا حصہ 48 فیصد تھا، جو 2024-25 میں کم ہو کر 16 فیصد رہ گیا۔ اس کے برعکس طلبہ اور فارغ التحصیل افراد پر اخراجات کا بوجھ بڑھ کر 84 فیصد تک پہنچ گیا۔

اسی عرصے میں طلبہ کی تدریس اور معاونت کے لیے حکومت کی حقیقی مالی شراکت 8,840 پاؤنڈ سے کم ہو کر 2,560 پاؤنڈ رہ گئی، جبکہ طلبہ اور گریجویٹس سے متوقع شراکت 9,160 پاؤنڈ سے بڑھ کر 13,800 پاؤنڈ ہو گئی۔رپورٹ کے مطابق مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں طلبہ کی تعلیم اور معاونت پر سرکاری سرمایہ کاری کا حصہ بھی 2012-13 کے 0.42 فیصد سے کم ہو کر 2024-25 میں 0.12 فیصد رہ گیا۔

حکومت سے فنڈنگ نظام میں اصلاحات کا مطالبہ

یونیورسٹیز یوکے کی چیف ایگزیکٹو ویوین اسٹرن نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے اخراجات میں حکومت اور طلبہ کے درمیان توازن بگڑ چکا ہے، اس لیے فنڈنگ کے نظام پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کے فوائد صرف انفرادی طلبہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاشرے، عوامی خدمات اور معیشت کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔برطانوی پارلیمان کی ٹریژری سلیکٹ کمیٹی نے بھی طویل مدت میں حکومت اور انفرادی طلبہ کے درمیان تعلیمی اخراجات کی تقسیم کو دوبارہ 50:50 کی سطح پر لانے کی سفارش کی ہے۔

بین الاقوامی طلبہ پر انحصار مالی خطرہ بن گیا

برطانیہ کی بہت سی جامعات مقامی طلبہ کی فیسوں سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافے کے لیے بین الاقوامی طلبہ کی نسبتاً زیادہ فیسوں پر انحصار کرتی ہیں۔ تاہم، بین الاقوامی طلبہ کی بھرتی میں مشکلات اور بعض ممالک کے شہریوں کے لیے اسٹوڈنٹ ویزوں کی پابندیوں نے اس آمدن کو متاثر کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق سنڈرلینڈ یونیورسٹی کو میانمار کے 69 طلبہ کو داخلے کی پیشکشیں واپس لینا پڑیں، کیونکہ مارچ میں سوڈان، میانمار، افغانستان اور کیمرون کے شہریوں کے لیے اسٹوڈنٹ ویزوں سے متعلق پابندیوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ماہرین کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کی آمدن میں کمی، مقامی طلبہ کی فیسوں پر محدود اختیار اور بڑھتے اخراجات کا امتزاج جامعات کے مالی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

امریکی تجربے سے سیکھنے کی تجویز

ہائر ایجوکیشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ (HEPI) کی ایک نئی پالیسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انگلینڈ کی جامعات ایک ایسے مالیاتی نظام میں پھنس گئی ہیں جہاں وہ آمدن کے لیے طلبہ کی فیسوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں، لیکن فیسوں کے تعین میں انہیں محدود اختیار حاصل ہے۔

رپورٹ کے مطابق صرف اخراجات کم کرنا مالی بحران کا مستقل حل نہیں۔ اگر طلبہ کے داخلوں میں کمی جاری رہے تو بچت کے اقدامات کے باوجود اداروں کی مالی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ اس کے بجائے جامعات کو آمدن بڑھانے، طلبہ کو برقرار رکھنے، داخلوں کے رجحانات کی بروقت نگرانی اور تعلیمی معیار میں بہتری پر توجہ دینا ہوگی۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مالی بحران کی ابتدائی علامات سامنے آنے کے بعد فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے جائیں تو اداروں کی سرمایہ کاری، تدریسی سہولتوں اور طلبہ کے تعلیمی تجربے پر طویل مدتی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ برطانوی اعلیٰ تعلیم کے بحران سے نمٹنے کے لیے محض اخراجات میں کٹوتی کافی نہیں؛ حکومت کی پائیدار مالی معاونت، فیسوں کے نظام میں اصلاحات اور جامعات کی آمدن کے مستحکم ذرائع بھی ضروری ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے