اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر جاری بحث میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ AI کارکردگی اور رفتار میں اضافہ کر سکتی ہے، تاہم انسانی فیصلہ سازی کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ ایک حالیہ تجزیاتی مضمون میں ماہر تعلیم Prince Sarpong نے نشاندہی کی ہے کہ انسانی ذہن کی علمی صلاحیتیں محدود ہوتی ہیں، اس لیے بڑی تعداد میں امتحانی پرچوں کی جانچ کے دوران اساتذہ کو ذہنی تھکن اور فیصلہ سازی کی کمزوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مضمون کے مطابق جب اساتذہ درجنوں یا سیکڑوں جوابی پرچے چیک کرتے ہیں تو دماغ پر بوجھ بڑھنے سے تجزیاتی معیار بتدریج کم ہو جاتا ہے۔ تعلیمی نفسیات کی Cognitive Load Theory بھی یہی بتاتی ہے کہ انسانی ورکنگ میموری محدود ہوتی ہے اور مسلسل ذہنی دباؤ کے بعد فیصلوں کے معیار میں فرق آ جاتا ہے۔ اس وجہ سے بعد میں چیک کیے جانے والے پرچوں کو عموماً ابتدائی پرچوں کے مقابلے میں کم گہرائی سے جانچا جاتا ہے۔
مصنف کے مطابق بعض اوقات بیرونی ممتحن یا اساتذہ اپنی علمی برتری پر حد سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں، حالانکہ کسی خاص تحقیقی طریقہ کار یا جدید تکنیک کے بارے میں ان کا علم مکمل نہیں ہوتا۔ اس صورتحال میں مصنوعی ذہانت ایک مددگار کردار ادا کر سکتی ہے۔
![]()
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جدید AI ماڈلز کئی عالمی پیشہ ورانہ امتحانات جیسے Uniform Bar Exam، United States Medical Licensing Examination اور Chartered Financial Analyst Exam میں نمایاں کارکردگی دکھا چکے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ AI کو تعلیمی جانچ کے عمل میں بنیادی اور تکنیکی کاموں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مضمون میں تجویز دی گئی ہے کہ AI کو اساتذہ کا متبادل بنانے کے بجائے ایک “علمی معاون” کے طور پر استعمال کیا جائے۔ AI حقائق کی جانچ، اسکورنگ اور تکنیکی غلطیوں کی نشاندہی کر سکتی ہے، جبکہ اساتذہ اخلاقی پہلوؤں، تنقیدی سوچ اور طلبہ کے دلائل کی گہرائی کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس مشترکہ طریقہ کار سے نہ صرف امتحانی جانچ کا معیار بہتر ہو سکتا ہے بلکہ نتائج میں زیادہ شفافیت اور یکسانیت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔