یہ مکی سورت ہے، 13 آیات اور 2 رکوع ہیں۔ نزول کے اعتبار سے 91 ویں سورت ہے۔ اٹھائیسویں پارہ کی ساتویں اور آٹھویں رکوع پر مشتمل ہے۔ سورت کا نام آیت 10 کے حکم کے مطابق ہے کہ ”جو عورتیں ہجرت کر کے آئیں اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کریں ان کا امتحان لیا جائے“۔ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان نازل ہوئی۔ اس سورت میں حاطبؓ بن ابی کے ہجرت کرنے اور بیعت کے لئے حاضر ہونے والی عورتوں کے حوالے سے احکام ہیں۔
رت میں اللہ ارشاد فرماتا ہے، تمہارے لئے اچھی پیروی ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں میں ہے، جنہوں نے صاف طور پر اللہ سے دشمنی رکھنے والوں سے بیزاری ظاہر کر دی۔ البتہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ میں تیری مغفرت چاہوں گا۔ (کیونکہ تو میرا باپ ہے) لیکن یہ بھی کہا تھا کہ میں اللہ کے سامنے تیرے کسی نفع کا مالک نہیں ہوں۔ ابراہیم ؑ کی یہ دعا بھی تھی کہ اے ہمارے رب، ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال اور ہمیں بخش دے۔ مسلمانوں کے لئے ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں کی پیروی ہی مفید ہے، اگر مسلمانوں کو اللہ اور قیامت پر یقین ہے، تاہم اللہ چاہے تو مسلمانوں کے ان کافر رشتہ داروں کو ایمان کی سعادت عطا فرما کر انہیں دوست بنا دے۔
محبوب صلی اللہ علیہ وسلم جب آپؐ کے پاس مسلمان عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لئے آئیں کہ وہ نہ شرک کریں گی، نہ چوری اور بدکاری کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ پرایا بچہ لے کر شوہر کو دھوکہ دیں گی کہ وہ اسی کا ہے، تو پھر آپؐ ان سے بیعت فرما لیں اور ان کے لئے اللہ سے مغفرت چاہیں۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے اور اے ایمان والو! ان لوگوں سے دوستی مت کرو، جنہیں کتب سابقہ سے معلوم ہو چکا تھا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نبی برحق ہیں، پھر بھی وہ ان کی تکذیب کرتے ہیں اور اس طرح وہ آخرت کے لئے ناکام و نامراد ہیں۔


