Home Uncategorized سائنسی تحقیق کی اشاعت کا موجودہ عالمی نظام چند بڑی اشاعتی کمپنیوں کے کنٹرول میں ہے جو محققین کی محنت سے بھاری منافع کماتی ہیں، حالانکہ تحقیق کا بڑا حصہ عوامی فنڈز سے انجام پاتا ہے۔

سائنسی تحقیق کی اشاعت کا موجودہ عالمی نظام چند بڑی اشاعتی کمپنیوں کے کنٹرول میں ہے جو محققین کی محنت سے بھاری منافع کماتی ہیں، حالانکہ تحقیق کا بڑا حصہ عوامی فنڈز سے انجام پاتا ہے۔

محققین اس نظام کے نقصانات سے آگاہ ہونے کے باوجود کیریئر کے تقاضوں اور ادارہ جاتی دباؤ کے باعث اسی اشاعتی ڈھانچے کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل صرف اخلاقی اپیلوں میں نہیں بلکہ منظم اجتماعی حکمت عملی میں پوشیدہ ہے

by Ilmiat

ماہرین کا کہنا ہے کہ سائنسی تحقیق کی اشاعت کا موجودہ عالمی نظام چند بڑی اشاعتی کمپنیوں کے کنٹرول میں ہے جو محققین کی محنت سے بھاری منافع کماتی ہیں، حالانکہ تحقیق کا بڑا حصہ عوامی فنڈز سے انجام پاتا ہے۔

ایک تجزیاتی مضمون میں مصنف ماینک چُغ نے کہا ہے کہ اگرچہ اوپن ایکسس اور اوپن سائنس جیسے نظریات نے اس نظام کو چیلنج کرنے کی کوشش کی، لیکن بڑی اشاعتی کمپنیوں نے نئے فیس سسٹم متعارف کرا کے اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس صورت حال میں خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے محققین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ تحقیق شائع کرنے کی فیس بہت زیادہ ہوتی ہے۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ محققین اس نظام کے نقصانات سے آگاہ ہونے کے باوجود کیریئر کے تقاضوں اور ادارہ جاتی دباؤ کے باعث اسی اشاعتی ڈھانچے کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل صرف اخلاقی اپیلوں میں نہیں بلکہ منظم اجتماعی حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔

مصنف نے اس ضمن میں نیویارک میں سیاست دان Zohran Mamdani کی انتخابی مہم کو مماہرین کے مطابق اگر یونیورسٹیوں کی اعلیٰ قیادت، تحقیقی ادارے اور فنڈنگ ایجنسیاں مشترکہ حکمت عملی اپنائیں اور بھرتی و ترقی کے معیار میں اصلاحات کریں تو سائنسی اشاعت کے نظام میں حقیقی اور پائیدار تبدیلی ممکن ہو سکتی ہے۔ثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ منظم اور مربوط جدوجہد کے ذریعے طاقتور نظاموں کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

You may also like

Leave a Comment