مصنوعی ذہانت کے دور میں امتحانی نظام کی تبدیلی ناگزیر؛ طلبہ کی فہم، تنقیدی سوچ اور عملی صلاحیت جانچنے کے لیے زبانی دفاع کا نیا طریقہ متعارف
21 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں بارونیا نے بتایا کہ انہوں نے اے پی کمپیوٹر سائنس اے کے طلبہ کے لیے ایک پروگرامنگ منصوبے میں زبانی دفاع متعارف کرایا۔ اس سرگرمی میں طلبہ نے اپنے تیار کردہ ورچوئل پالتو جانوروں کے پروگرام پیش کیے، کوڈنگ کے فیصلوں کی وضاحت کی اور سوالات کے جوابات دیے۔ طلبہ کے ردعمل کے مطابق اس طریقۂ جانچ سے انہیں پروگرامنگ کے عمل کو سمجھنے اور بیرونی امتحانات کی تیاری میں مدد ملی۔
بارونیا کے مطابق اے آئی مستقبل میں عملی کام کا اہم حصہ رہے گی، تاہم طلبہ کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی مسئلے کے حل کے لیے مخصوص کوڈ، متغیر یا الگورتھم کیوں منتخب کیا گیا اور اس کے متبادل کیا ہو سکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کو طلبہ کی تنقیدی سوچ اور مسئلے کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے حل کرنے کی صلاحیت بھی پروان چڑھانی چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ تعلیمی سال میں مختصر زبانی دفاع کی سرگرمیاں مختلف مراحل میں متعارف کرانے کا ارادہ ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ کو اے آئی سے حاصل شدہ نتائج پر غور کرنے، استعمال کیے گئے پرامپٹس کی وضاحت کرنے اور یہ بتانے کی ترغیب دی جائے گی کہ انہوں نے اے آئی کی تجاویز میں سے کیا قبول یا مسترد کیا اور کیوں۔
بارونیا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ زبان کی مشکلات رکھنے والے طلبہ کو مناسب ترجمے اور معاونت کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ ان کی اصل فنی صلاحیتوں کا منصفانہ جائزہ لیا جا سکے۔ ان کے مطابق طلبہ کو تدریسی سرگرمیوں اور جانچ کے طریقوں کی تشکیل میں شامل کرنے سے ان کی دلچسپی اور تعاون بڑھتا ہے۔
تعلیمی اہمیت: اس تجربے سے یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ اے آئی کے دور میں مؤثر جانچ کے لیے صرف حتمی نتیجہ دیکھنا کافی نہیں؛ طالب علم کی فہم، استدلال، مسئلہ حل کرنے کے طریقۂ کار اور اپنے فیصلوں کا دفاع کرنے کی صلاحیت کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔ تاہم، انٹرویو میں بیان کردہ نتائج ایک اسکول کے تجربے پر مبنی ہیں، اس لیے انہیں تمام تعلیمی اداروں کے لیے حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔