ہم ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جو ہم نے شروع نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی آلودگی میں پاکستان کا حصہ صرف 0.4 فیصد ہے جبکہ چار بڑے ممالک 50 فیصد کے ذمہ دار ہیں
لاہور: ترکی میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس (کوپ 31) سے چند ماہ قبل، پیر کو لاہور میں ماہرینِ ماحولیات، پالیسی سازوں اور نوجوانوں کا اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں عالمی مذاکرات کے بجائے مقامی سطح پر عملی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔یہ ایک روزہ ماحولیاتی کانفرنس گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو) لاہور میں ہوئی۔ اس کا انعقاد یونیورسٹی کے متعلقہ شعبے، یونیسیف، وفاقی وزارتِ ماحولیات اور پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے تعاون سے کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جی سی یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری نے کہا کہ ہم ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جو ہم نے شروع نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی آلودگی میں پاکستان کا حصہ صرف 0.4 فیصد ہے جبکہ چار بڑے ممالک 50 فیصد کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ماہ 500 ایکڑ زرعی زمین ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل ہو رہی ہے، جس سے مقامی ماحول اور جنگلی حیات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف حکومت پر انحصار کے بجائے ہمیں اپنا طرزِ زندگی بھی بدلنا ہوگا۔ انہوں نے یونیورسٹی میں بارش کا پانی محفوظ کرنے، پلاسٹک کے استعمال پر پابندی اور شمسی توانائی پر منتقلی کی مثالیں دیں اور دیگر اداروں سے بھی ان پر عمل کرنے کی اپیل کی۔وفاقی وزارتِ ماحولیات کے ایڈیشنل سیکرٹری عامر محی الدین نے 2022 کے سیلاب اور 2025 میں پانی کی متوقع قلت کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک اب صرف عالمی وعدوں پر بھروسہ نہیں کر سکتے، اس لیے ہمیں ہنگامی بنیادوں پر خود عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ڈی جی ماحولیات پنجاب عبداللہ نیئر شیخ نے سموگ اور فضائی آلودگی سے نمٹنے کے منصوبوں پر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں ہوا کا معیار جانچنے کے لیے 56 نئے مانیٹرنگ سسٹم لگائے جا رہے ہیں اور شدید گرمی سے بچاؤ کی پیشگی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔یونیسیف کی نمائندہ صباحت عنبرین نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیاں بچوں کے بنیادی حقوق کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ حالیہ سیلاب کی وجہ سے سکول بند ہوئے جس سے بچوں کی تعلیم اور نشوونما بری طرح متاثر ہوئی۔