Skip to main content

https://ilmiatonline.com

شعر و شاعری

مشتاق احمد یوسفی:اردو مزاح کے اہم ترین قلم کار

۔ یوسفی 4 اگست 1923ء کو ٹونک، راجستھان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور بااثر خاندان سے تھا اور ان کے نانا نے انہیں اردو سیکھنے کی ترغیب دی۔یوسفی نے ابتدائی تعلیم جے پور میں حاصل کی اور بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے مقابلے کا امتحان پاس کرکے انڈین آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس میں جانے کی کوشش کی، لیکن کمزور بینائی کے باعث منتخب نہ ہو سکے۔ بعد میں انہوں نے سرکاری ملازمت اختیار کی اور ڈپٹی کمشنر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

1949ء کے بعد اردو کو بھارت میں سرکاری زبان کے طور پر ہٹائے جانے کے پس منظر میں انہوں نے پاکستان ہجرت کا فیصلہ کیا اور یکم جنوری 1950ء کو کراچی پہنچے۔ انہوں نے مسلم کمرشل بینک سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور بعد میں بینکاری کے شعبے میں اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔ وہ الائیڈ بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر، یونائیٹڈ بینک کے صدر اور پاکستان بینکنگ کونسل کے چیئرمین بھی رہے۔ادبی اعتبار سے یوسفی کی تحریروں پر مرزا غالب، مارک ٹوین اور اسٹیفن لیکاک کے اثرات کا ذکر ملتا ہے۔ ان کا پہلا مضمون ”صنفِ لاغر“ 1955ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں ان کی کتابیں چراغ تلے، خاکم بدہن، زرگزشت اور آبِ گم سامنے آئیں۔ ان کی تحریروں میں مزاح، فلسفہ، مشاہدہ اور انسانی زندگی کی باریکیاں نمایاں ہیں۔

یوسفی کو ادبی خدمات کے اعتراف میں ستارۂ امتیاز، ہلالِ امتیاز، کمالِ فن، آدم جی ادبی ایوارڈ سمیت متعدد اعزازات ملے۔ ان کے بارے میں اردو کے متعدد بڑے ادیبوں اور نقادوں نے لکھا اور انہیں اردو مزاح کے اہم ترین قلم کاروں میں شمار کیا۔

ان کی ایک تحریر پیش خدمت ہے

کراچی کی ایک نامور شاعرہ نے اپنے شوہرِ نامدار کی موجودگی میں ہمیں بتایا کہ مشاعرے میں ان کے شوہر ان کو ڈائس پر نہیں بیٹھنے دیتے بلکہ بالکل آخری صف میں اپنے پہلو میں بٹھا کر خود خزانے کے سانپ کی طرح رکھوالی کرتے ہیں ـ جب نام سے پکارا جاتا ہے تو وہ ڈائس تک خدا حافظ کہنے جاتےہیں. شعر کی داد کے جواب میں جھُک جھُک کے "آداب،آداب” کہنے سے بھی سختی سے منع کرتے ہیں. کہتےہیں، بعضا بعضا اس سے بھی excite ہوجاتا ہے. تم نہیں جانتیں ہم مرد کتنے حرامی ہوتےہیں! کلام سناکر وہ واپس حصارِ زوجیت میں آجاتی ہیں تو سُوں سُوں کرتے ہوئے سونگھتے ہیں کہ کپڑوں سے دیووں اور پریوں کی داستانوں والی مانس گند (آدم بُو) تو نہیں آرہی!
موصوفہ نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ اپنی تازہ غزل کسی رسالے کے ایڈیٹر کے نام پوسٹ کرنے کیلئے میاں کو دیتی ہیں تو وہ لفافہ کھول کر کلام کی اصلاح کرتے ہیں ـ بیگم صاحبہ نے یہ بھی کہا کہ میرے اشعار میں جتنے بھی سکتے ہیں وہ سب شوہرانہ اصلاح کے باعث ہیں. ہجر و فراق سے متعلق جتنے بھی اشعار ہوتےہیں، ان پر سیاہ مارکر پھیر دیتے ہیں ـ کہتےہیں جب میں چوبیس گھنٹے تمہارے کولھے سے لگا بیٹھا رہتا ہوں تو پھر دوری و مہجوری کا رانڈ رونا کاہے کو؟

وہ جب بیان کرچکیں تو شوہر نے فرمایا "بخدا،مجھے تمھاری پاکدامنی میں ذرہّ برابر شبہ نہیں،مگر تمھاری حماقت پر کامل یقین ہے!”.

مشتاق احمد یوسفی : شام شعر یاراں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے