Skip to main content

https://ilmiatonline.com

عالمی خبریں

دماغی تحریک سے نئی مہارتیں سیکھنے کی رفتار بڑھانے پر تحقیق

لندن، 28 ستمبر 2026: سائنس دان جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی دماغ کی سیکھنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ نئی تحقیق میں غیر جراحی دماغی تحریک (Brain Stimulation) کو نئی جسمانی اور ذہنی مہارتیں سیکھنے کے عمل میں معاون بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔محققین کے مطابق نئی مہارتیں سیکھنے کے لیے دماغ میں موجود عصبی رابطوں کا مضبوط اور منظم ہونا ضروری ہے۔ غیر جراحی دماغی تحریک کی مختلف تکنیکوں میں سر کی جلد پر الیکٹروڈز کے ذریعے کمزور برقی رو، مقناطیسی میدان یا فوکسڈ الٹراساؤنڈ استعمال کیا جاتا ہے، جن کا مقصد مخصوص عصبی سرکٹس کی سرگرمی میں عارضی تبدیلی پیدا کرنا ہے۔

تحقیق میں پیانو بجانے جیسی انگلیوں کی حرکات، کھیلوں کی مہارت، توازن کی تربیت اور سرجیکل تکنیک سیکھنے جیسے مختلف تجربات کیے گئے ہیں۔ بعض مطالعات میں دماغی تحریک حاصل کرنے والے افراد نے مخصوص حرکاتی کام نسبتاً تیزی سے سیکھے یا مہارت زیادہ دیر تک برقرار رکھی، تاہم تمام تحقیقات میں یکساں نتائج سامنے نہیں آئے۔محققین اب اس بات پر کام کر رہے ہیں کہ دماغ کے پورے حصے کو متحرک کرنے کے بجائے سیکھنے سے متعلق مخصوص عصبی سرکٹ کو درست وقت پر متحرک کیا جائے۔ جدید نیورو امیجنگ اور کمپیوٹیشنل ماڈلنگ اس مقصد کے لیے دماغ میں برقی رو کے راستے سمجھنے میں مدد دے رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی کھیل، موسیقی، پیشہ ورانہ تربیت اور طب کے شعبوں میں استعمال ہو سکتی ہے، جبکہ فالج یا بیماری کے بعد جسمانی مہارتوں کی بحالی میں بھی اس کے امکانات موجود ہیں۔ تاہم صحت مند افراد کی کارکردگی بڑھانے کے لیے اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے قبل مزید شواہد، ضابطہ کاری اور اخلاقی اصولوں کی ضرورت ہوگی۔محققین کا کہنا ہے کہ فی الحال دماغی تحریک کسی شخص کو راتوں رات ماہر موسیقار یا اعلیٰ درجے کا کھلاڑی نہیں بنا سکتی، تاہم دماغ کے مخصوص عصبی راستوں کو درست انداز اور درست وقت پر متاثر کرنے کی تحقیق انسانی صلاحیتوں میں اضافے کے امکانات کو سائنسی حقیقت کے قریب لا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے