Skip to main content

https://ilmiatonline.com

عالمی خبریں

جنوبی کوریا کی تین جامعات کو عالمی معیار کے تحقیقی مراکز بنانے کے لیے بھاری فنڈنگ دینے کا فیصلہ…….علاقائی تعلیمی عدم مساوات ختم کرنے کا منصوبہ، چھ جامعات فنڈنگ سے محروم ہونے پر سراپا احتجاج

جنوبی کوریا کی حکومت نے علاقائی جامعات کو عالمی معیار کی تحقیقی درس گاہوں میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے تحت تین قومی جامعات کے انتخاب کا اعلان کیا ہے۔ ان جامعات کو 2030ء تک سالانہ 10 ارب نہیں بلکہ 100 ارب کوریائی وون (تقریباً 7 کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالر) تک مالی معاونت فراہم کی جائے گی، تاہم ابتدائی مرحلے میں دیگر چھ علاقائی جامعات کو شامل نہ کرنے پر شدید تنقید سامنے آئی ہے۔یکم ستمبر 2026ء کو وزارتِ تعلیم نے پُوسان نیشنل یونیورسٹی، چُنّام نیشنل یونیورسٹی اور چُنگنام نیشنل یونیورسٹی کو اس منصوبے کے لیے منتخب کیا۔ اس اقدام کا مقصد دارالحکومت سیئول میں آبادی، ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیم کے ارتکاز کو کم کرنا، علاقائی آبادی کی نقل مکانی روکنا اور ملک بھر میں تحقیقی صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔

صدر لی جائے میونگ نے انتخابی مہم کے دوران ملک کی تمام نو علاقائی فلیگ شپ قومی جامعات کو سیئول نیشنل یونیورسٹی کے ہم پلہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ ابتدائی منصوبے کے تحت سالانہ 800 ارب وون سے زائد سرمایہ کاری کا تصور پیش کیا گیا، تاہم محدود بجٹ اور دستیاب وسائل کو مخصوص جامعات پر مرکوز کرنے کی پالیسی کے باعث فی الحال صرف تین اداروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔منتخب جامعات میں پُوسان نیشنل یونیورسٹی جہاز سازی، بحری انجینئرنگ، ایرو اسپیس اور مصنوعی ذہانت پر توجہ دے گی، جبکہ چُنّام نیشنل یونیورسٹی سیمی کنڈکٹرز اور توانائی کی تحقیق کو وسعت دے گی۔ چُنگنام نیشنل یونیورسٹی سائنس و ٹیکنالوجی کے نئے تعلیمی مرکز اور مصنوعی ذہانت کے مشترکہ تحقیقی ادارے کے قیام پر کام کرے گی۔ ان منصوبوں میں LG Electronics، Samsung، Naver Cloud اور دیگر صنعتی و تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون بھی شامل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے